Get Adobe Flash player

نیب کی قابل تحسین کارکردگی' ادارے کو مزید طاقتور بنایا جائے

قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی چیئرمین امتیاز تاجور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب ایک قومی ادارہ ہے لیکن عجیب بات ہے کہ ایک سانس میں اس کی تعریف اور دوسری میں اس کے خلاف باتیں کی جاتی ہیں ایک سیاستدان کے خلاف کام کرتے ہیں تو دوسرا خوش ہوتا ہے جب خوش ہونے والا خود نیب کے شکنجے میں آتا ہے تو وہ بھی ہمارے خلاف ہو جاتا ہے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز ظاہر شاہ کا کہنا تھا کہ ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں ہمارے لئے تمام سیاسی جماعتیں ایک جیسی ہیں جب بعض ادارے نیب کو کیسوں میں ملزمان کو ریلیف دینے کا الزام لگاتے ہیں تو پھر یہی ادارے نیب کے پاس  کیس کیوں بھیجتے ہیں انہوں نے کہا کہ نیب نے ملکی تاریخ میں ایسے ایسے لوگوں پر ہاتھ ڈالے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جو نہ صرف لوگوں کو قتل کرواتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی نجی جیلیں بھی بنوا رکھی تھیں اور ملک کا کوئی ادارہ ان پر ہاتھ نہیں ڈالتا تھا اس میں شک نہیں کہ نیب کے ناقدین بھی بہت سے ہیں مگر بدعنوانی کے خاتمے کے سلسلے میں اس کی کارکردگی کا گراف ازخود بولتا ہے اس ادارے نے اربوں کی لوٹی گئی دولت قومی خزانے کو واپس لوٹائی ہے یقینا اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اس کی کارکردگی کو مزید بہتر' موثر اور تیز کیا جاسکتا ہے اس کے لئے جہاں قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہو حکومت کو اس پر فوری توجہ دینی چاہیے ملک میں احتساب کا یہ واحد ادارہ ہے اسے مزید طاقتور اور موثر بنانے کی اشد ضرورت ہے خواہ مخواہ تنقید کرکے اس کے بارے میں منفی تاثر دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔نیب پر ایک عمومی اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ برسہا برس کی تحقیقات اور سنسنی خیزی پھیلانے کے بعد اچانک معلوم ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا اس طریقہ کار کو درست کیا جانا چاہیے او تحقیقات کو غیر معینہ مدت تک طول نہیں دینا چاہیے ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کے بعد نیب کو حرکت میں آنا چاہیے اور کم سے کم وقت میں اس کے کیسز نمٹائے جائیں ملک میں جس شدت سے بدعنوانی کا  کا زہر پھیل رہا ہے اس کا یہ تقاضا ہے کہ نیب جیسے اہم ادارے کی کارکردگی میں بھی تیزی لائی جائے اور اسے قومی ضرورتوں سے ہم آہنگ کیا جائے عدلیہ سمیت بعض حلقوں کی طرف سے پلی بارگینگ کے نظام پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے بدعنوانی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے لوٹنے والے کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ وہ مخصوص رقم ادا کرکے لوٹ کے بقیہ مال کو ہضم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا مذکورہ اعتراض یقینا اپین اندر وزن رکھتا ہے چنانچہ اس سلسلے میں متعلقہ قانون کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے تاہم نیب کو کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنے مشن کو جاری رکھنا چاہیے ۔ قوم اس کی غیر معمولی کارکردگی کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔