حج و قربانی کا فلسفہ اور خطبہ حج

وطن عزیز کے مسلمان آج عید الاضحیٰ منا رہے ہیں خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جنہیں اس بار حج کی سعادت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد قربانی سنت ابراہمی ہے حج اور قربانی کے فلسفے پر غ ور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے یہ سب کچھ اطاعت الٰہی اور حضرت ابراہیم کے خاندان کی کہانی ہے حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی سب سے عزیز شے قربان کررہے ہیں انہوں نے سوچا کہ ان کے پیارے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ اسلام ہی ان کی سب سے عزیز ہیں چنانچہ انہوں نے اپنی اہلیہ بی بی ہاجرہ سے اپنا خواب بیان کیا اور اپنا فیصلہ بتایا انہوں نے بھی آپ کے فیصلے کو تسلیم کیا اس کے بعد آپ لخت جگر حضرت اسماعیل کو قربان کرنے کیلئے لے کر چلے آپ نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی کہ کہیں بیٹے کے گلے پر چھری چلاتے ہوئے شفقت پدری ایسا جوش نہ مارے کہ قدم ڈگمگا جائیں چنانچہ آپ نے آنکھوں پر پٹی باندھی اور بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی حکم خداوندی سے اسماعیل علیہ اسلام محفوظ رہے اور ان کی جگہ ایک مینڈھا زبح ہوچکا تھا ارشاد خداوندی ہوا اے ابراہیم آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا اسی طرح جب حضرت ابراہیم  مکہ کی پہاڑی پر بی بی ہاجرہ اور ننھے اسماعیل  کو چھوڑ کر روانہ ہوگئے تو کچھ دیر بعد بی بی ہاجرہ نے محسوس کیا اسماعیل کو پیاس لگی ہے بی بی ہجرہ بچے کو لٹا کر پانی کی تلاش میں دیوانہ وار کبھی منا اور کبھی مروہ کی طرف بھاگیں اسی دوران حکم الٰہی سے اسماعیل کے ایڑیاں رگڑنے سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا اور تیزی سے بہنے لگا بی بی نے کہا زم زم یعنی ٹھہر جا سینکڑوں برسوں سے یہ پانی انسانوں کیلئے شفاء ہے خالق کائنات کو پانی کی تلاش میں بی بی ہاجرہ کا دوڑنا اس قدر پسند آیا کہ منا اور مروہ کے درمیان سعی کو مناسک حج میں شامل کردیا بی بی ہاجرہ اگرچہ نبی نہ تھیں مگر نبی کی والدہ اور نبی کی اہلیہ تھیں نبی نہ ہونے کے باوجود ان کی سعی عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کرنے والے ہر مسلمان کیلئے لازم قرار پائی انبیاء نے بھی سنت ہاجرہ کی تقلید میں سعی کی حج ایک عظیم عبادت ہے جس کا پیغام اطاعت الٰہی اور سنت ابراہیمی پر عمل درآمد ہے یہ عبادت مسلمانوں کو گناہوں سے توبہ و استغفار کے لمحات عطا کرتی ہے اپنے خطبہ حج میں ڈاکٹر سعد بن ناصر الشتری نے بجا طور پر کہا ہے کہ حج  مقدس عبادت ہے یہ سیاست کا میدان نہیں حج کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا اور مفادات کے حصول کا اکھاڑا بنانا جاہلیت کے رسم و رواج ہیں جنہیں اسلام مٹانے کیلئے آیا ہے انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات امن اور بھائی چارے کا درس دیتی ہیں اسلام شدت پسند جماعتوں کا مخالف ہے اسلام میں غیر مسلم کا خون بہنا بھی حرام ہے امت سیاست کی بنیاد پر تقسیم ہونے سے بچے مسلم حکمران قرآن کے مطابق حکمرانی کریں ہم پر لازم ہے کہ شریعت کے احکامات پر پوری طرح عمل پیرا ہوں ہر قسم کے تعصب سے گریز کیا جائے زیادتی مسلمان کے ساتھ ہو یا غیر مسلم کے ساتھ اسلام میں منع ہے شریعت پر عمل کرو گے تو اللہ رحم فرمائے گا تقویٰ اختیار کرنیوالوں کو اللہ دنیا اور آخرت کی فلاح دیتا ہے انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں ایک دوسرے کی گردن مارنے سے منع کیا ہے اسلام نے تجارت کو فروغ دیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے سود ، قمار بازی اور حرام طریقوں سے مال کھانا کسی طور جائز نہیں تقویٰ دین کا لب لباب ہے اسی میں دنیا اور آخر کی کامیابی ہے۔ ڈاکٹر سعد بن ناصر نے اپنے خطبہ حج میں اسلام کا نچوڑ پیش کیا ہے کہ تقوی درحقیقت دین کا خلاصہ ہے آج کے دور میں ہمیں قدم قدم پر تقویٰ کو پیش نظر رکھنا چاہیے اسلام انسانیت کیلئے فلاح کا پیغام لایا ہے ظلم و ناانصافی کسی بھی انسان کے ساتھ منع ہے چاہے وہ غیر مسلم ہی کوں نہ ہو اگر ہم صرف اس اصول ہی پر عمل پیرا ہوجائیں تو اپنے معاشرے اور ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں اور انسانوں کے مسائل میں کمی لا سکتے ہیں۔