Get Adobe Flash player

ایٹمی دھماکے ماحولیات اور عالمی استحکام کیلئے خطرہ

ایٹمی دھماکوں کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل انتونیو گوترس کی طرف سے  جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں گزشتہ سات دہائیوں میں دو ہزار ایٹمی تجربات کئے گئے یہ تجربات جنوبی بحرالکاہل ، شمالی امریکہ اور وسطی ایشیاء سے لے کر شمالی افریقہ تک کئے گئے یہ دھماکے ماحولیات اور عالمی استحکام کیلئے مسلسل خطرہ ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دن ماضی میں جوہری دھماکوں سے متاثرین سے احترام کے ساتھ ساتھ اس لئے منایا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ یاد دہانی کرائی جائے کہ کوئی ملک مزید ایٹمی دھماکہ نہ کرے اور سی ٹی بی ٹی پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ سات دہائیوں کے دوران دنیا میں دو ہزار ایٹمی تجربات پر اربوں ڈالر تو خرچ کئے گئے لیکن انسانوں کی بھوک مٹانے کیلئے اس حد تک وسائل استعمال نہیں کئے گئے آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پسماندہ اور غریب خطوں کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کی خوراک ان  کیلئے چھت اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کو یقینی بنایا جائے مگر اس مسئلہ پر بہت کم توجہ دی جارہی ہے بعض ممالک نے ایٹمی دھماکوں کا راستہ مختلف خطوں اور علاقوں میں اپنی بالادستی کا سکہ جمانے کیلئے اختیار کیا ہے جبکہ بعض ایسے ہیں جنہوں نے بہ امر مجبوری اپنے آپ کو اپنے دشمنوں کی جارحیت سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے اس راستے کا انتخاب کیا ہے پاکستان ان ممالک میں سے ہے جو اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے کم از کم ڈیڑنس پر یقین رکھتے ہیں اگر اقوام متحدہ کا ادارہ مختلف خطوں میں موجود تنازعات کو حل کروانے کے سلسلے میں موثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوتا اور وہ جارح کے خلاف کارروائی کرتا تو بہت سے ممالک میں عدم تحفظ کا احساس پیدا نہ ہوتا حقیقت یہ ہے کہ عالمی ادارہ بڑی طاقتوں کی خواہشات کے گرد گھومتا ہے جہاں ان طاقتوں کے مفادات ہوتے ہیں وہاں ادارے کی قراردادوں پر دنوں اور گھنٹوں میں عمل ہوتا ہے اس کے برعکس جہاں ان کی دلچسپی نہیں ہوتی وہاں کئی دہائیوں سے قراردادیں الماریوں کی زینت رہتی ہیں اور عمل درآمد کے مراحل تک نہیں پہنچتیں بالادستی کے تصور اور توسیع پسندانہ روش کو لگام دے کر ایٹھی دھماکوں کی روش کے آگے بند باندھا جاسکتا ہے اس طرح بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ایٹمی تجربات انسانی ماحول کیلئے مضر اثرات اور ماحولیات کی تباہی کا باعث بنتے ہیں انسانوں کو دھماکوں کی نہیں محبت ،خوراک اورتوجہ کی ضرورت ہے دہشتگردی کا دھماکہ ہو یا کسی ایٹمی تجربے کا دھماکہ دونوں معاشی بدحلی کو آواز دیتے ہیں اقوام متحدہ ایٹمی دھماکوں کے خلاف عالمی دن ضرور منائے مگر کمزور اورپسماندہ اقوام کے معاشی تحفظ کو بھی یقینی بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔