Get Adobe Flash player

برما کے مسلمانوں کی نسل کشی اور اہم طاقتوں کی خاموشی

روہنگیا کے مسلمانوں پر میانمار کی فوج کے مظالم کے بارے میں مسلسل خبریں منظر عام پر آرہی ہیں مگر ابھی تک مسلم امہ یا مغربی ممالک کی طرف سے ان مظالم کے خلاف کوئی آواز سننے میں نہیں آئی اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق میانمار کی شمال مغربی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف میانمار کی فوج کے مبینہ آپریشن میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 370تک پہنچ گئی ہے  روہنگیا مسلمانوں سے وابستہ عسکریت پسند گروپ کے پولیس چیک پوسٹوں پر کئے جانے والے منظم حملوں کے بعد سے فوج نے جوابی کارروائی شروع کر رکھی ہے اس آپریشن کے دوران تقریباً چالیس ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد عبور کر چکے ہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میانمار کی فوج کے مظالم سے جان بچا کر بھاگنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تین کشتیاں الٹنے سے 26افراد جاں بحق ہوگئے اطلاعات کے مطابق اس حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں میں پندرہ بچے اور گیارہ خواتین شامل ہیں۔ روہنگیا میں مسلم اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک نئی بات نہیں ہے مگر اس بار یہ سلوک بربریت کی صورت میں ظاہر ہوا ہے میانمار کی فوج کے مظالم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نہتے مسلمانوں کے پاس سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ وہ جان بچا کر بنگلہ دیش میں داخل ہو جائیں' ابھی تک بنگلہ دیش حکومت نے سرکاری طور پر روہنگیا مسلمانوں کو مہاجر کا درجہ دے کر ان کی امداد نہیں کی جبکہ یہ بنگلہ دیش میں داخل ہو کر از خود ہی اپنی گزر بسر کر رہے ہیں یہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین حرکت میں آئے اور میانمار  سے آنے والے مسلمان مہاجروں کی دیکھ بھال اور ان کی امداد کے سلسلے میں فنڈز مختص  کرے جبکہ بنگلہ دیش حکومت کو بھی چاہیے کہ مفلوک الحال ان مسلمانوں کی رہائش اور خوراک کے سلسلے میں ان کی مدد کرے یہ امر ناقابل فہم ہے کہ تمام تر صورتحال اقوام متحدہ کے علم میں ہونے کے باوجود عالمی ادارے نے مسلم اقلیت پر میانمار کی فوج کے مظالم رکوانے کے معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اسلامی ممالک کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے مغربی ممالک جو انسانی حقوق کے سلسلے میں بہت حساس ہیں۔ انہیں بھی روہنگیا کی مسلم اقلیت کے خلاف میانمار کی فوج کے مظالم رکوانے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینی چاہئیں۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کو بھی اس صورتحال میں اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلانا چاہیے۔ برما کا المیہ تو یہ ہے کہ عالمی نوبل انعام یافتہ وزیراعظم آنگ سوان سوچی کی حکومت کے دوران مسلمانوں پر مظالم  ڈھائے جارہے ہیں وزیراعظم سوچی نے جمہوریت اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں ایک طویل عرصہ جیل میں گزارا مگر اب انہیں انسانی حقوق کا کوئی احساس نہیں ہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی شاید اس لئے خاموش ہیں کہ بربریت کا نشانہ محض مسلمان ہیں' وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے برما کی حکومت سے مظالم ختم کرنے کی اپیل کرنی چاہیے اور پارلیمانی وفد کو برما کے دورے پر بھیجنا چاہیے وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان اگرچہ مثبت ہے مگر امداد اور مظالم رکوانے کے  معاملے میں حکومت کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔برما کی صورتحال پر برادر ملک ترقی کے صدر طیب اردوان کا بیان قابل ستائش ہے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے نقاب میں اس نسل کشی پر خاموش رہنے والا ہر شخص اس قتل عام  میں برابر کا شریک ہے انہوں نے بنگلہ دیش حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ برمی مسلمانوں کو  پناہ دے ان کے تمام اخراجات ان کی حکومت برداشت کرے گی۔ اگرچہ میانمار میں مسلم اقلیت کے خلاف مظالم کا سلسلہ دو سال سے جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک 73ہزار مسلمان شہید کئے گئے ہیں تاہم بربریت کی تازہ لہر 25اگست کو برما کے ضلع راکھین سے  شروع ہوئی جہاں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت رہتی ہے 25اگست سے لے کر 4ستمبر تک صرف اس ضلع میں کم از کم چار سو مسلمانوں کو شہید جبکہ 2600گھروں کو جلا دیا گیا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ان واقعات پر محض تشویش کا اظہار کیا ہے اس کے علاوہ انہوں نے بربریت کو رکوانے کے معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا او آئی سی نے اب تک مسلم امہ کو مایوس کیا ہے اس اعتبار سے اقوام متحدہ اور او آئی سی ایک پلڑے میں ہیں او آئی سی اگر مسلم امہ کے تحفظ کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی تو اسے تحلیل کر دینا چاہیے اس طرح مسلم امہ اس سے کسی قسم کی امید تو وابستہ نہیں کرے گی۔