Get Adobe Flash player

پاکستان کا مضبوط موقف' امریکی وضاحتیں

صدر امریکہ کی طرف سے نئی افغان پالیسی کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا گیا پاکستان کی پارلیمنٹ حکومت اور آرمی چیف کی طرف سے اس کا جس موثر انداز میں جواب دیا گیا اس کے نتیجے میں اب امریکہ اپنے موقف کی وضاحتیں پیش کرنے لگا ہے اور اس کے موقف میں بھی قدرے تبدیلی سامنے آئی ہے اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ سے ملاقات کے دوران امریکی پالیسی کے اہم نکات کی جو وضاحت کی ہے اسے بڑی حد تک اطمینان بخش قرار دیا جاسکتا ہے امریکی سفیر نے واضح کیا کہ صدر امریکہ نے افغانستان میں ناکامی کا الزام پاکستان پر عائد نہیں کیا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ انہوں نے نظرثانی کی پالیسی میں افغان مسئلہ کا فوجی حل قرار دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ فوجی حل مسئلہ کا محض ایک پالیسی جزو ہے اسی طرح افغان مسئلہ کے حل کے لئے پاکستان کے کردار کو خارج از امکان قرار دنہیں دیا جاسکتا  اس مقصد کے لئے پاکستان' افغانستان' چین اور امریکہ پر مشتمل جو رابطہ گروپ قائم کیا گیا ہے اسے فعال کرنے پر غور ہو رہا ہے جس میں پاکستان کا کردار یقینا اہم ہوگا امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں امریکہ ان کا اعتراف کرتا ہے ہم افغان مسئلہ کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے تعاون کے خواہاں ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف تعاون پر مبنی اپنا کردار جاری رکھے گا امریکی سفیر نے یہ بھی واضح کیا کہ افغانستان میں اضافی فوج کی تعیناتی کا مقصد افغان فوج کو تربیت  فراہم کرنا ہے افغانستان میں موجود کمانڈوز کے اضافی اختیارات کا مقصد پاکستان مخالف تحریک طالبان کے خلاف فوری کارروائی کرنا ہے افغان حکومت کو بھی دہشت گردی پر قابو پانے  اور لوگوں کے دل و دماغ جیتنے گورننس کو بہتر بنانے کے لئے کہا گیا ہے امریکی سفیر نے افغانستان میں بھارت کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کے جذبات سے بخوبی آگاہ ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں اپنا کردار  ادا کرنے کو تیار ہے افغانستان میں بھارت کا کردار صرف معاشی ترقی کے لئے ہے جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ پاکستان امریکی پالیسی کا جائزہ لے رہا ہے اسے ابھی بعض تفصیلات اور مزید وضاحتیں درکارہیں پاکستان افغانستان میں دیرپا امن کے لئے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے انہوں نے کہاکہ امریکہ کا رویہ مایوس کن تھا دنیا کے سامنے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے اسے دھمکیاں دی گئیں اس کا غلط تشخص پیش کیا گیا۔ یہ سب ہمیں کسی صورت قبول نہیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو غلط انداز میں دہشت گردی کے ساتھ منسلک کیا گیا نئی افغان پالیسی نے خطے کے توازن میں بگاڑ پیدا کیا اسی باعث پاکستان کے عوم اور پارلیمنٹ نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو  غلط نہ ہوگا کہ پانی پالیسی کی تشریح اور وضاحت کے نام پر امریکہ بعض معاملات میں اعلان کردہ پالیسی سے پیچھے ہٹ رہا ہے ' صدر ٹرمپ نے جس پالیسی کا اعلان کیا تھا اس میں چار ممالک پر مشتمل رابطہ گروپ کا کوئی تذکرہ اور کردار نہ تھا کئی ماہ سے امریکہ اس رابطہ گروپ کو نظرانداز کر رہا تھا جبکہ پاکستان کا یہ اٹل موقف تھا کہ چین' افغانستان ' امریکہ اور پاکستان پر مشتمل گروپ کو افغانستان میں قیام امن کے لئے کوششیں تیز کرنی ہیں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ مسئلہ افغانستان کا حل طاقت کے استعمال میں  نہیں ہے بلکہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے اسے حل کیا جاسکتا ہے اس کے برعکس صدر ٹرمپ نے فوجی طاقت کے استعمال پر زور دیا تھا اب امریکہ نے یہ وضاحت کی ہے کہ فوجی حل پالیسی کا محض ایک جزو ہے گویا مذاکرات کے ذریعے بھی قیام امن کے لئے کوششیں کی جاسکتی ہیں۔ یہ امر بھی اطمینان بخش ہے کہ امریکی وضاحت میں افغانستان کے اندر پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کا افغانستان میں کردار محض معاشی حوالے سے ہے اس کے علاوہ کوئی کردار نہیں ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے بجا طور پر کہا کہ پاکستان کو امریکی پالیسی کے حوالے سے مزید وضاحتیں درکار ہیں ادھر امریکہ نے چار ہزار مزید فوجیوں کی افغانستان میں تعیناتی کا اعلان کیا ہے  جبکہ آٹھ ہزار کے لگ بھگ پہلے سے موجود ہیں اس تناظر میں عسکری کارروائیوں کے ذریعے کسی کامیابی کی توقع عبث ہے امریکہ اگر بڑھکیں لگانے کے بجائے امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے سنجیدگی سے کوششیں کرے  اور چار ملکی رابطہ گروپ کو فعال بنائے تو یقینا افغان تنازعہ کے حل کی توقع کی جاسکتی ہے۔