Get Adobe Flash player

روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف حکومت کی موثر آواز

میانمار کی حکمران جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی یہ دور کی کوڑی لائی ہیں کہ ان کی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ مقبوضہ کشمیر کے تنازعے سے  ملتا جلتاہے' روہنگیا اور مسئلہ کشمیر میں مماثلت ہے بھارتی نیوز ایجنسی سے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور میانمار کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے معصوم شہریوں کی پرواہ ہے حالانکہ ہمارے وسائل ہماری ضرورت کے مطابق نہیں ہیں اس کے باوجود ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کیا جائے اپنی حکومت کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں دہیشت گردوں اور معصوم لوگوں کے درمیان فرق کے طریقہ کار کے بار میں سوچنا ہوگا۔ ادھر دنیا بھر سے مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں جن میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ آنگ سان سوچی سے نوبل امن انعام واپس لیا جائے میانمار میں مسلم کش واقعات کے بعد انہیں یہ انعام اپنے پاس رکھنے کا حق نہیں ہے برطانوی میدیا نے بھی لکھا ہے کہ سوچی سے یہ انعام واپس لے لینا چاہیے ایک برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ سوچی نے روہنگیا میں ہونے والے مظالم پر اس سال فروری میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ  نہیں پڑی روہنگیا مسلمانوں کو اقوام متحدہ دنیا کی سب سے پسی ہوئی اور مظلوم اقلیت قرار دے چکا ہے لیکن سوچی یہ حقیقت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں وہ میانمار کی فوج کی مذمت کے لئے بھی آمادہ نہیں۔ پاکستان کی حکومت اور اس کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے ۔ وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں بھی اس سلسلے میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے قرارداد میں مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام اور نسل کشی کی مذمت کی گئی ہے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ غیر مسلم سول آبادی کے خلاف بربریت اور وحشیانہ سلوک نہ صرف ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہے بلکہ اقوام عالم اور معاشروں کے ضمیر کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے اس ظلم اور جبر نے میانمارکی جمہوری قیادت کی منافقت کو بے نقاب کر دیا ہے قرارداد میں آنگ سان سوچی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ظلم وس تم کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کریں کابینہ نے اقوام متحدہ سے بھی اپیل کی کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے  جو اس کے مینڈیٹ کا عالمی تقاضا ہے۔ وفاقی کابینہ کی قرارداد پاکستانی عوام کے جذبات کی آئینہ دار ہے ہم سمجھتے ہیں اس جامع قرارداد کے بعد  مزید کسی احتجاج کی ضرورت نہیں ہے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان نے بھی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ برما میں مظالم رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاہم جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں شدید مظاہرہ کیا اور برما کے سفارتخانے پر جانے کی کوشش کی جسے انتطامیہ نے ناکام بنا دیا احتجاج کو جمہوری رویوں اور اخلاقیات کے دائرے میں رہنا چاہیے اور اسے سیاست چمکانے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے اس قسم کے جذباتی احتجاج اور رویوں سے سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں ہرگز اضافہ نہیں ہوتا' حکومت پاکستان اور متعدد سیاسی جماعتوں نے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے  بجا طور پر بربریت رکوانے کا مطالبہ کیا ہے احتجاج کو ان ہی حدود کے اندر رہنا چاہیے سڑکوں کی سیاست سے گریز کیا جانا چاہیے۔