Get Adobe Flash player

سول ایٹمی تعاون کے معاملے میں چین کی زبردست معاونت

چشمہ سی فور پاور پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وطن سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے دس ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کے منصوبے آئندہ سال جون سے پہلے مکمل ہو جائیں گے' بجلی کی صورتحال اب کافی بہتر ہے امید ہے کہ ہم نومبر2017ء کے بعد ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے قابل ہوں گے انہوں نے کہا کہ جوہری توانائی کا منصوبہ 2020ء تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو دئیے جانے والے8800میگاواٹ کے ہدف کے حصول کی جانب اہم قدم ثابت ہوگا ہماری حکومت نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک کے تحت بہت سے بڑے منصوبے شروع کئے ہیں جن کے ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں ملک کی ترقی کی شرح 5فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جو اس سال 6فیصد کے لگ بھگ ہوگی وزیراعظم نے کہا کہ 28دسمبر2016ء میںچشمہ یونٹ تھری کے باقاعدہ آغاز کے صرف آٹھ ماہ بعد ملک کے پانچویں ایٹمی بجلی گھر چشمہ یونٹ فور کا افتتاح باعث افتخار ہے ماضی کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ جب چشمہ یونٹ ون کی تعمیر کا معاہدہ ہوا تھا تو اس وقت بھی ملک میں محمد نواز شریف کی حکومت تھی اور  اسی معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون کی بنیاد رکھی چشمہ میں چلنے والے تینوں یونٹ ملک میں بہترین کارکردگی کے حامل ہیں اور اس وقت ملک کو 900میگاواٹ سے زائد بجلی ارزاں نرخ پر فراہم کر رہے ہیں مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ دو اضافی منصوبے کے 2اور کے 3بھی تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہیں اور یہ وقت سے پہلے مکمل ہو کر ملک کو روشن بھی کریںگے اور ماحول میں آلودگی کو کم کرنے  میں بھی اپنا کردار اا کریں گے وزیراعظم نے کہا کہ یہ امر پاکستان کے لئے باعث فخر ہے کہ بین الاقوامی امداد کے بغیر چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کمپنیوں سے محفوظ اور مسلسل پیداوار حاصل ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت سی پیک منصوبوں میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شراکت چاہتی ہے چین کی قیادت نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ سی پیک کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور صنعتی شعبہ میں ہماری مدد کے خواہاں ہیں۔چشمہ میں یونٹ فور کا افتتاح ایک اہم پیش رفت ہے چشمہ میں پہلے ایٹمی پاور پلانٹ کی تنصیب کے موقع پر چین نے زبردست معاونت کی چین کے انجینئروں نے نہ  صرف خود محنت کی بلکہ انہوں نے اٹامک انرجی کمیشن کے انجینئروں کی تربیت بھی کی جس کے بعد پاکستان کے انجینئر اور متعلقہ افراد خود تمام امور سرانجام دینے لگے۔ اب بھی مخصوص حالات میں پاکستان کے متعلقہ حکام چینی ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہیں چشمہ کے تینوں یونٹوں سے اس وقت تو سو میگاواٹ سے زائد بجلی حاصل ہو رہی ہے یونٹ فورکی تکمیل کے بعد یہ پیداوار 1250میگاواٹ تک پہنچ جائے گی پاکستان کو صنعتی شعبہ کے لئے اس وقت سستی بجلی کی ضرورت ہے تاکہ کم لاگت کے باعث ارزاں پیداوار حاصل کرے اور عالمی منڈیوں کا مقابلہ آسکے ایٹمی بجلی گھر اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ان سے حاصل کردہ بجلی نہ صرف سستی ہے بلکہ اس کے یونٹ ماحول کو بھی آلودہ نہیں کرتے حکومت نے اٹامک انرجی کمیشن کو 2020ء تک 8800میگاواٹ بجلی کی پیداوار کا ہدف  دے رکھا ہے اس وقت چشمہ کے علاوہ کینپ سے بھی جوہری توانائی کے ذریعے بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ ہمیں ایٹمی بجلی کے حصول کے لئے مزید بجٹ مختص کرنا ہوگا اور مزید منصوبے شروع کرنے ہوں گے۔ امریکہ ماضی میں پاکستان کو اپنا زبردست حلیف قرار دیتا رہا۔ پاکستان کو اپنا سٹریٹجک پارٹز کہتا رہا سرد جنگ کے  خاتمہ کے بعد بھارت اور اس کی گرمجوشی بڑھی اور بھارت کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اس نے اس کے ساتھ سول ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا لیکن جب پاکستان نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اسے بھی توانائی کے بحران کا سامنا ہے اس کے ساتھ بھی سول ایٹمی تعاون معاہدہ کیا جائے تو امریکہ نے مزکورہ معاہدے سے صاف انکار کر دیا تاہم یہ کہا کہ وہ دیگر ذرائع سے اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرے گا اس صورتحال میں چین نے زبردست تعاون کیا اور ایٹمی توانائی کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے معاملے میں پاکستان کی بہت مدد کی' چشمہ کے تمام تر یونٹ چین کے تعاون اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط  دیکھنے کی خواہش کے آئینہ دار ہیں۔