Get Adobe Flash player

امریکہ اور افغانستان الزام تراشیوں کو چھوڑ کر زمینی حقائق قبول کریں

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدارت میں منعقدہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ملک کی داخلی اور خارجی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آپریشن  ردالفساد کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا کور کمانڈرز نے کنٹرول لائن  کی صورتحال پر بھی غور کیا اور  مشرقی و مغربی سرحدوں پر آپریشن تیاریوں پر مکمل اطمینان کا  اظہار  کیا کانفرنس میں عسکری قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو دہشت گردی سے مکمل نجات دلانے کے لئے آپریشنز جاری رہیں گے ہمارے نزدیک کوئی اچھا برا دہشت گرد نہیں سب کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے خطے کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا گیا اپنے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے تمام اقدامات اٹھائیں گے۔ عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ الزام تراشی مسائل کا حل نہیں زمینی حقائق کو سمجھا جائے افغانستان میں امن کے لئے پاکستان نے بنیادی کردار ادا کیا ہے افغانستان کی لڑائی کو پاکستان کے اندر توسیع دینے کی کوششوں کو ناکام بنایا  جائے گا۔ کور کمانڈروں کی کانفرنس کا پیغام بہت واضح ہے متعلقہ ممالک کو اس کا مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے' دہشت گردی افغانستان اور پاکستان کا مشترکہ مسئلہ ہے دونوں کو اپنی سرحدوں کو کنٹرول کرکے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہے پاکستان نے بڑی حد تک اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر اور مضبوط ٹھکانوں کو ختم کیا ہے اب اس کی سیکورٹی فورسز بھاگے ہوئے اور بچے کچھے دہشت گردوں کو ملک کے مختلف کونوں  کھدروں سے نکال کر کیفر کردار کو پہنچا رہی ہیں جبکہ اس کے برعکس افغانستان کی حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی موثر کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ امریکہ اور نیٹو کی فورسز بھی سولہ برسوں تک  جدید ترین اسلحہ کے باوجود افغانستان کا امن بحال کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں چنانچہ امریکہ اور افغانستان دونوں نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی کہ اس کی سرزمین سے دہشت گرد آکر افغانستان میں کارروائی کر رہے ہیں اگر ایک لمحہ کے لئے اس جواز کو درست تسلیم کرلیا جائے تو بھی افغان حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ  بارڈر کو سیل کرکے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرے الزام تراشیوں کے بجائے امریکہ اور افغانستان کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے الزام تراشیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا افغانستان کے بہت سے علاقوں پر طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے طاقت کے استعمال کا تجربہ  ناکام ہوچکا ہے مذاکرات اور مکالمے کے ذریعے اس تباہ حال ملک میں امن بحال کیا جاسکتا ہے' خطے کے تمام ممالک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حامی  ہیں امریکہ اور افغانستان کو بھی الزام تراشی کی سیاست چھوڑ کر زمینی حقائق کو قبول کرنا چاہیے۔