Get Adobe Flash player

''امریکی رویے دہشتگردی کیخلاف کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں''

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے رائٹرز سے انٹرویو کے دوران پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر پابندیاں لگانے اور پاکستان کی فوجی امداد مزید کم کرنے سے امریکہ کا نقصان ہوگا اس سے دونوں ممالک کی عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچے گا  پاکستان کو چین اور روس سے مجبوراً ہتھیار خریدنے پڑیں گے وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس عہدیداروں پر پابندیاں انسداد دہشت گردی کی امریکی کاوشوں کے لئے مددگار ثابت نہیں ہوں گی ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں ہماری کاوشوں کو حقیر کرنے والے کسی بھی اقدام کا نقصان امریکی کوششوں کو ہوگا پاکستان کے فنڈز روکنے سے امریکہ اپنے انسداد دہشت گردی کے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا ہمیں جو کچھ بھی کرنا ہے اس کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی فوجی امداد کم کرنے اور سستے ایف سولہ طیاروں کی فروخت روکنے پر پاکستان چین اور روس سے ہتھیار خریدنے پر مجبور  ہو جائے گا ہمیں اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے دیگر آپشنز کی جانب دیکھنا پڑے گا انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینا غیر منصفانہ ہوگا امریکہ کو دہشت گردی کے باعث پاکستان کے نقصانات اور 35لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کے پاکستانی کردار کا اعتراف کرنا چاہیے افغانستان کے دہشت گرد پاکستان میں سویلین اور فوجیوں پر حملے کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کئی ارب ڈالر کی لاگت سے 2500کلو میٹر سرحد پر باڑ لگا رہا ہے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جانے سے بچنے کے لئے اپنے کرنٹ اکائونٹ پر موجود دبائو کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پاکستان کی جو معاونت کی جاتی تھی وہ کسی قسم کی خصوصی مدد نہ تھی بلکہ دہشت گردی کو مشترکہ  کاذ قرار دیتے ہوئے یہ طے پایا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی  کے خلاف کارروائیوں کے اخراجات فراہم کئے جائیں گے اور یہ مسئلہ کئی برسوں سے جاری تھا اب بعض ادائیگیوں کے بعد 35کروڑ ڈالر کی رقم روک دی گئی ہے  اور یہ ڈرامہ رچایا جارہا ہے کہ امریکہ کے وزیر دفاع جب یہ سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ہے  تب ہی یہ رقم جاری کی جائے گی جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے بلاتخصیص تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور کسی گروپ کو تحفظ فراہم نہیں کیا مگر امریکہ نے مذکورہ رقم کو روکنے کے لئے یہ اعتراض کر دیا ہے اس ضمن میں صاف اور سیدھی بات یہی ہے کہ اگر امریکہ آئندہ کے لئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے اخراجات ادا نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ  اب اسے انسداد دہشت گردی کے کاذ سے کوئی سروکار نہیں ہے افغانستان میں مزید چار ہزار فوج بھیجنے کا اعلان بھی یہی واضح کرتا ہے جہاں ایک لاکھ فوج امن قائم نہ کر سکی وہاں دس بارہ ہزار امریکی فوج کیسے کوئی معجزہ دکھا سکے گی' وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بجا طور پر کہا ہے کہ اگر امریکہ کا رویہ یہی رہا تو انسداد دہشت گردی کے اس کے کاذ کو شدید نقصان پہنچے گا پاکستان سے فوجی تعاون پر امریکی پابندی پاکستان کے لئے کسی صورت پریشان کن نہیں ہوسکتی اسے بہرصورت اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے اگر یہ ضرورتیں امریکہ پوری نہیں کر ے گا تو پاکستان کسی دوسرے ملک سے خریداری کر سکتا ہے اس کا دیرینہ دوست چین یہ ضرورت پوری کر سکتا ہے جبکہ روس بھی اب پاکستان کے دوستوں میں شامل ہے اس سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے ہماری دانست میں امریکہ سے دفاعی سازوسامان یا طیاروں کی خریداری  مسئلہ نہیں  اہم مسئلہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو جاری رکھنے اور انہیں نتیجہ خیز بنانے کا ہے افغانستان کا امن مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اس حقیقت کو جب تک امریکہ تسلیم نہیں کرے گا بہتری کی جانب پیش رفت نہیں ہوسکتی اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے پہلے اسے یہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ طاقت کے استعمال سے وہ امن بحال کرنے میں ناکام رہا ہے۔