جماعت اسلامی کا احتساب مارچ اور راولپنڈی کے عوام کے انسانی حقوق

جماعت اسلامی نے لاہور سے احتساب مارچ شروع کیا اس سلسلے میں وارث خان مری روڈ راولپنڈی میں ایک جلسے کا اہتمام کیا گیا اگرچہ اعلان کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کو ساڑھے آٹھ بجے مری روڈ راولپنڈی کے اجتماع سے خطاب کرنا تھا مگر ان کا جلوس زیادہ تاخیر کے ساتھ مری روڈ پہنچا تاہم شام چار بجے سے ہی یہاں کرسیاں لگا کر روڈ کو یکطرفہ طور پر بند کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں راولپنڈی کے شہریوں کو جلسے کے اختتام تک مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اگر انتظامیہ نے مری روڈ پر جلسے کی اجازت دی ہے تو یقینا وزیراعلیٰ کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور اگر یہ سارا اہتمام کسی اجازت کے بغیر ہوا ہے تو انتظامیہ کو قانون کے تحت کارروائی کرنی چاہیے راولپنڈی  شہر اور چھائونی کے لاکھوں شہریوں کو مسلسل آٹھ گھنٹے تک ٹریفک کی جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑا اگر ذمہ داری اور دانشمندی سے کام لیا جاتا تو انہیں ان مشکلات سے محفوظ رکھا جاسکتا تھا ہم حیران ہیں کہ جماعت اسلامی نے مری روڈ کو جلسے کے لئے کیوں منتخب کیا وہ ایک منظم جماعت ہے اور اس کی تنظمیں  پارٹی کے ایک حکم پر بھرپور ریلیوں کا اہتمام کر سکتی ہیں اسے اپنے جلسوں کی رونق کے لئے مصروف شاہراہوں پر ٹریفک بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس کے اس اقدام سے لاکھوں شہریوں عورتوں اور بچوں کو شدید پریشانی سے دوچار کیا اگر اجتماع کرنا ہی مقصود تھا تو فیض آباد کے قریب پریڈ گرائونڈ میں یہ شوق پورا کیا جاسکتا تھا۔ جہاں تک احتساب مارچ کے جواز کا معاملہ ہے سنجیدہ اور فہمیدہ حلقوں نے اسے ایک بلاجواز مہم جوئی سے تعبیر کیا ہے جماعت اسلامی پانامہ کیس کے معاملے میں سپریم کورٹ میں درخواست دہندہ اور مدعی تھی بلاشبہ اس طرح اس نے احتساب کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا اسے عدلیہ کے ذریعے اس باب میں مزید کردار ادا کرنا ہے اور پانامہ فہرست میں شامل  تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے یہ کام جلوسوں اور مارچ کے ذریعے انجام نہیں دیاجاسکتا۔ اس ضمن میں یہ لازم ہے کہ ملک کی جو معروف شخصیات اس فہرست میں  شامل ہیں چاہے ان کا تعلق عدلیہ سے ہے سیاست' بیورو کریسی یا تاجر برادری سے اسے ان کے خلاف کارروائی کے لئے جدوجہد کرنی ہے۔ یہ جدوجہد مارچ یا جلسے کے ذریعے ممکن نہیں ہے بہت سے حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے احتساب مارچ کے ذریعے وقت اور سرمائے کا زیاں کیا ہے اسے احتساب کے ضمن میں پہلے کی طرح ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں' جماعت اسلامی کے امیر انسانی حقوق کا شدت سے ذکر کرتے ہیں لیکن  مری روڈ پر جلسے کا فیصلہ کرکے انہوں نے راولپنڈی کے لاکھوں شہریوں کے انسانی حقوق پامال کئے ہیں انہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کی پارٹی نے اس ضمن میں غلط اقدام کیا ان کی پارٹی کو راولپنڈی کے عوام سے معذرت کرنی چاہیے۔