قومی صورتحال پر وزیر اطلاعات کا حقیقت پسندانہ موقف

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید نے ایک نجی ٹی وی چینل سے انٹرویو میںحکومت اور پاک فوج کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہاہے کہ حکومت اور پاک فوج کے درمیان کسی قسم کا تنائو نہیں ہے البتہ کچھ قوتیں حکومت اور فوج کے درمیان افواہیں پھیلا رہی ہیں حکومت اپنے ایجنڈے کے مطابق اپنے کاموں میں مصروف ہے وزیراطلاعات نے واضح کیا کہ فوج کے ساتھ حکومت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے حکومت نے ماضی کی غلط پالیسیوں سے سبق سیکھاہے وہ ماضی کی تاریخ کو نہیں دوہرائے گی ہم مستقبل کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت سابق صدر پرویز مشرف کے معاملے میں بھی مداخلت نہیں کر رہی ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں سابق صدر نے ن لیگ کی قیادت کو نظر بند کر دیا تھا لیکن حکومت ایسا نہیں کرے گی وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کو تسلیم کیاہے وزیراعظم اکثر صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کرتے ہیں دہشت گردی سے متعلق ایک سوال پر سینیٹر پرویز رشید کا کہناتھا کہ حکومتی حکمت عملی کے نتیجے میں دہشت گردی میں کمی آئی ہے مولانا طاہر القادری کے بارے میں ان کا کہناتھاکہ وہ محض سیاست چمکا رہے ہیں پارلیمنٹ میں نہیں آسکتے۔وزیراطلاعات نے نہایت مختصر الفاظ میں اور بھرپور استدلال کے ساتھ قومی صورتحال کو واضح کیاہے اگر موجودہ حکومت انتقامی کارروائی پر یقین رکھتی تو سابق صدر پرویز مشرف جن کے حکم پر ماضی میں میاں محمد نوازشریف کو ہتھکڑیوں سمیت جہاز میں سوار کر دیاگیا اور اٹک قلعہ میں جنھیں متعدد اذیتیں دی گئیں آج خصوصی عدالت کی طرف سے فردجرم عائد ہونے کے باوجود یوں کھلے نہ پھرتے حکومت سیکورٹی کی بناء پر بھی انہیں ان کے گھر پر نظر بند کر سکتی تھی مگر اس نے جیسا کہ وزیراطلاعات نے کہا سابق صدر کے معاملے میں کسی قسم کی مداخلت اور انتقامی کارروائی سے گریز کیا اور ان کا معاملہ آئین وعدلیہ پر چھوڑ دیا جہاں تک ماضی میں نوازحکومت اور فوج کے درمیان اختلافات اور مسائل کا حوالہ ہے وزیر اطلاعات کا یہ اعتراف حکومت کی فراخدلانہ اور مثبت سوچ کا اظہارہے کہ حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھاہے اور اب وہ انہیں کسی صورت نہیں دوہرائے گی ہمارے ہاں کتنی سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جنھوں نے اپنے ماضی کے غلط رویوں کا اعتراف کر کے ان سے گریز کا عہد کیاہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا اس کے برعکس جماعتوں نے اپنے غلط اقدامات اور رویوں کو بھی درست ثابت کرنے کی کوششیں کی ہیں اس تناظر میں وزیر اطلاعات کا یہ اعتراف برسراقتدار جماعت کی خود احتسابی کو واضح کرتاہے کاش ہماری سیاست میں سیاسی جماعتیں خود احتسابی کی اس روایت کو فروغ دیں اور آگے بڑھانے کی کوشش کریں وزیراطلاعات نے حکومت اور پاک فوج کے درمیان ہم آہنگی کا ذکر کرتے ہوئے اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کیاہے کہ بعض عناصر حکومت اور فوج کے درمیان مختلف افواہیں پھیلا رہے ہیں حقیقت بھی یہی ہے جو عناصر حکومت اور جمہوریت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ان ہی کی طرف سے حکومت اور فوج کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کا پروپیگنڈہ بھی کیا جارہاہے عدم استحکام افواہیں اور انتشار دراصل ان کا ایجنڈا ہے لیکن پاکستان کے عوام اب ان عناصر کے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے جمہوریت کے جس سفر نے ایک خوبصورت آغاز کیاہے اور جس کے نتیجے میں ایک منتخب حکومت نے آئینی مدت کی تکمیل کے بعد دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل کیاہے عوام اس سفر کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں موجودہ وفاقی حکومت کا صوبائی حکومتوں کے ساتھ رویہ اور ان سے اس کے تعلقات کار بھی حقیقی جمہوری اندازفکر کے ترجمان ہیں سیاسی اور جماعتی اختلافات مرکز اور صوبوں کے درمیان آئینی وقومی معاملات کے راستے میں ہرگز رکاوٹ نہیں بنتے وفاقی حکومت کے سندھ اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں کے ساتھ بہترین تعلقات کار اس کی واضح مثال ہیں ترقی اور جمہوری استحکام کے اس سفر کو جاری وساری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام جمہوریت مخالف عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں اور جمہوریت کے خلاف ان کے ہر ہتھکنڈے کو اپنی اجتماعی طاقت سے مسترد کر دیں۔