Get Adobe Flash player

پیپلز پارٹی کے لیڈر عدالتوں میں اپنی بیگناہی ثابت کریں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا یہ الزام حقائق سے سراسر منافی ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے پیپلز پارٹی کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہاہے ان کا کہنا تھا کہ امین فہیم راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کو حکومت کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جس سے یوں محسوس ہوتاہے کہ موجودہ حکومت نے بی بی شہید کی مفاہمت والی پالیسی ترک کر دی ہے حالات و واقعات کی معمولی سی بھی شدبد رکھنے والا شخص پیپلزپارٹی کے چیئرمین کے مذکورہ موقف سے اتفاق نہیں کرسکتا یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ یوسف رضا گیلانی امین فہیم اور راجہ پرویز اشرف کے خلاف مبینہ بدعنوانیوں کے مقدمات موجودہ حکومت کے دور میں شروع نہیں ہوئے بلکہ یہ پیپلزپارٹی کے دور میں ہی سامنے آئے سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کے تحت مبینہ بدعنوانی کے تحت متعلقہ اداروں کو تحقیقات کے احکامات صادر کئے تھے اب متعلقہ شخصیات کو تحقیقاتی اداروں اور عدلیہ کے سامنے اپنی بیگناہی ثابت کرنی ہے موجودہ حکومت ان مقدمات کو واپس لینے کی مجاز نہیں ہے اس حکومت سے یہ توقع بھی نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ بدعنوانی کے کسی مقدمہ کو واپس لینے کی کوشش کرے گی حال ہی میں پولو گرائونڈ کے ایک مقدمہ میں عدالت نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کو بری کیاہے گویا عدلیہ ہی کسی فرد کے خلاف الزام ثابت نہ ہونے پر اسے بری کر سکتی ہے پیپلز پارٹی کو اپنے لیڈروں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات واپس لینے کے معاملے میں حکومت کی طرف دیکھناچاہیے نہ اس سے کسی قسم کا شکوہ کرنا چاہیے اگر مذکورہ شخصیات واقعی بیگناہ ہیں اور انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ماضی میں کسی بدعنوانی کا ارتکاب نہیں کیا تو انہیں یا ان کی پارٹی کو اس معاملے میں مضطرب ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ عدالتوں سے باعزت بری ہوجائیں گے لیکن اگر وہ اپنے آپ کو بیگناہ ثابت نہیں کرسکتے اور یہ ثابت ہوجاتاہے کہ انہوں نے بدعنوانیوں کا ارتکاب کیاہے تو ایسے میں یقیناً قانون نے اپنا راستہ اختیار کرناہے اور عدلیہ نے قانون کے تحت فیصلے کرنے ہیں اصول پسندی کا تقاضا تویہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت حکومت سے شکوہ کرنے یا اس پر انتقامی کارروائیوں کے بے بنیاد الزامات عائد کرنے کی بجائے عدلیہ میںان کی بیگناہی ثابت کرنے کی کوشش کرے مقدمات کی واپسی سے بدعنوانیوں کے داغ نہیں دھلتے بلکہ یہ اس وقت ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دھلتے ہیں جب عدلیہ کسی کو بیگناہ قرار دیتی ہے۔