زرعی شعبہ کی مایوس کن کارکردگی حکومتی غفلت کا نتیجہ

 وفاقی حکومت کے اقتصادی سروے کے ذریعے قومی معیشت کی جو صورتحال سامنے آئی ہے اگرچہ اس میں شرح نموسمیت بعض اہداف حاصل نہیں کئے جاسکے تاہم گزشتہ برسوں کے معاشی تقابل کی روشنی میں دیکھاجائے تو معیشت نے بہتری کے عمل کا آغاز کیاہے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق گزشتہ چھ برسوں کے دوران پہلی بار شرح نمو چار فیصد سے زائد رہی بعض نامساعد حالات کی وجہ سے زرعی شعبہ میں بھی اہداف حاصل نہیں ہوسکے اقتصادی سروے کے مطابق افراط زر8.1 فیصد رہا برآمدات21ارب ڈالر اور درآمدات37.1 ارب ڈالر تھیں تجارتی خسارہ16ارب ڈالر سے زائد رہا غیر ملکی سرمایہ کاری2.97ارب ڈالر ہوئی جس میں سے دو ارب ڈالر یورو بانڈ کے ہیں گویا غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورتحال بھی زیادہ بہتر نہ رہی زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت13ارب63کروڑ ڈالر ہیں جبکہ وزیر خزانہ کا دعوی ہے کہ ستمبر تک انہیں15ارب ڈالر کی سطح پر لایاجائے گا دو ڈالر فی کس آمدنی کی بنیاد پر نصف آبادی غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے دوسرے لفظوں میں غربت کی شرح پچاس فیصد تک ہے وزیر خزانہ کا کہناہے کہ تین برسوں کے اندر ساری ٹیکس رعایات ختم کر دیں گے انہوں نے واضح کیا یہ تاثر درست نہیں کہ ترقیاتی منصوبے صرف وسطی پنجاب کے لئے ہیں داسو ڈیم دیامیر بھاشا ڈیم اور گوادر ہرگز پنجاب کے منصوبے نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی سپلائی بڑھنے سے صنعتی ترقی بہتر ہوئی تعمیراتی شعبہ میں رواں سال گیارہ فیصد سے زائد ترقی ہوئی صنعتی ترقی5.84فیصد رہی زراعت کی ترقی2.12فیصد تک محدود رہی گندم کی پیداوار25.29ملین ٹن رہی چاول کی پیداوار68لاکھ ٹن رہی سروے کے مطابق بیرون ملک ترسیلات زر کا حجم دس ماہ کے دوران12.9 ارب ڈالر رہاتیل اور گیس کے شعبہ میں40کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ٹیکس آمدنی11ماہ کے دوران1955 ارب ڈالر روپے رہی اس میںگزشتہ سال کے مقابلے میں16.4 فیصد اضافہ ہوا رواں سال ایف بی آر کے اہداف حاصل نہیں ہوسکے چنانچہ مالی سال کے دوران حکومت کو دو بار اپنے اہداف میں کمی کرنی پڑی زرعی شعبہ کا ہدف3.8 فیصد تھا جبکہ اس کی ترقی2.12فیصد رہی فصلوں کی گروتھ3.7 فیصد رہی آلو ٹماٹر پھلوں اور پیاز کی پیداوار کم رہی گزشتہ سال زرعی شعبہ میں2.88فیصد ترقی ہوئی اس برس یہ2.12 فیصد تک رہی المیہ تو یہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم زرعی شعبہ میں اہداف حاصل نہیں کر سکے حالانکہ اس شعبہ میں غیر معمولی پیداوار کے حصول کے بعد ہم بھاری زرمبادلہ حاصل کر سکتے ہیں حکومت کی تمام تر توجہ صنعتی شعبہ کی جانب مرکوز رہی چنانچہ ترقی کی صورتحال بہتر ہوئی اور اس کی شرح5.84فیصد تک آگئی ہماری دانست میں زرعی شعبہ میں کمی محض حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہے زرعی شعبہ میں محض قرضوں کے لئے رقوم مختص کر دینا ہی کافی نہیں اس امر کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ کون سی فصلات کے لئے کتنا رقبہ مختص کیاگیاہے اور متعلقہ کاشتکاروں کے مسائل کی کیا نوعیت ہے اگر اس طرف توجہ دی گئی ہوتی تو تمام زرعی فصلوں میں پیداوار حوصلہ افزاء ہوتی ہم یہاں اسمگلنگ کی روک تھام کی طرف بھی حکومت کی توجہ مبذول کرانا ضروری سمجھتے ہیں بدقسمتی سے اس شعبہ میں حکومتی کارکردگی مایوس کن ہے یہ ایک کھلا راز ہے کہ بہت سی زرعی اجناس ایران اور افغانستان کو اسمگل کی جارہی ہیں مگر آج تک کوئی حکومتی کارروائی سامنے نہیں آئی صرف بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات ایک ایسا شعبہ ہے جو معاشی معاملات میں مسلسل اہم کردار ادا کر رہاہے اگر حکومت سائنسی بنیادوں پر کام کرے اور مختلف فصلوں کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کرے اور کاشتکاروں کو مطلوبہ سہولتیں بھی فراہم کرے تو ترسیلات زر اور زرعی شعبہ دونوں قومی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں وفاق اور صوبوں کی حکومتوں دونوں کو زرعی شعبہ کی پیداوار میں اضافہ کے لئے موثر کردار ادا کرنا ہوگا ہمارا ایک اور بڑا مسئلہ جنگلات کے رقبہ میں مسلسل کمی ہے اس معاملے میں صوبائی حکومتوں کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنی ہوں گی اس شعبہ کی زبوں حالی محض صوبائی حکومتوں کی مایوس کن کارکردگی کا نتیجہ ہے مرکز سے محکمے صوبوں کو منتقل کرنے کے معاملات پر زور دینے والی ان حکومتوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے مرکز سے مزید سترہ محکمے صوبوں کو منتقل ہونے سے اب گڈگورننس کے معاملے میں صوبوں کی ذمے داری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے انہیں اب اپنی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہوگا یہ درست ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہواہے وزیر خزانہ ستمبر تک ان کے پندرہ ارب ڈالر ہونے کی نویدبھی دے رہے ہیں لیکن ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرناچاہیے کہ ان ذخائر میں یورو بانڈز اور تھری جی فور جی کی نیلامی عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل قرضوں کولیشن سپورٹ فنڈ اور سعودی عرب کے ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقوم شامل ہیں یہ ذخائر ہم نے برآمدات میں اضافہ یا قومی معیشت کی غیر معمولی بہتری کے ثمرات کے نتیجے میں حاصل نہیں کئے۔