Get Adobe Flash player

فیصلوں اور اقدامات میں آئین وقانون کی بالادستی ناگزیر

صدر ممنون حسین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران جہاں تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری اور احترام کی بنیاد پر تعلقات کے حوالے سے حکومت کی خارجہ پالیسی کا اعادہ کیاہے وہاں اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ ریاستی ادارے ملکی قوانین کے تحت اپنے فرائض ادا کریں اور سیاسی پسند وناپسند کو اپنے فیصلوں اور اقدامات کی کسوٹی نہ بنائیں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جمہوریت کشیدگی اور محاذ آرائی کا نام نہیں شخصیات پر قومی اداروں کو فوقیت دی جائے میڈیا کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ اگرچہ حکومت میڈیا پر پابندی کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتی تاہم میڈیا کو اپنی آزادی کا ذمے داری کے ساتھ استعمال کرناچاہیے اور اپنے لئے ایسا ضابطہ اخلاق مرتب کرناچاہیے جو پاکستان کے وقار میں اضافہ کا باعث ہو یہ امر قابل ذکر ہے کہ صدر مملکت نے بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہوناچاہیے۔صدر کا خطاب بہت جامع اور پراثر تھا یہ امر خوش آئند ہے کہ انہوں نے پاکستان کی قومی زبان میں خطاب کیا اور تمام قومی معاملات پر اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کیا انہوں نے مفاہمت کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مفاہمت کی کلید تمام مسائل کے حل کے دروازے کھولتی ہے پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل کو یقینی قرار دیتے ہوئے انہوں نے بجا طور پر کہا کہ اس کی تکمیل سے دونوں ملکوں کی تاریخی دوستی مزید مضبوط ہوگی مسئلہ کشمیر کا ذکر کر کے انہوں نے بالواسطہ طور پر بھارت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی اگرچہ پاکستان تمام شعبوں میں اس کے ساتھ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان موجود اس بنیادی تنازعہ کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتااسے بھی بات چیت کے ذریعے حل ہوناچاہیے اور اس ضمن میں اقوام متحدہ کی قراردادوں سے رہنمائی حاصل کی جانی چاہیے ریاستی اداروں کو پسند وناپسند کے بجائے آئین وقانون کے تحت کردار ادا کرنے کا مشورہ دے کر صدرمملکت نے اس بنیادی نکتے کی نشاندہی کی ہے جو کسی بھی بہترین جمہوری نظام کا خاصا اور بنیاد ہوتاہے جن معاشروں میں آئین وقانون کی بالادستی ہوتی ہے ان میں تمام فیصلے میرٹ اور انصاف کے تحت ہوتے ہیں اور نتیجے میں معاشروں کا توازن برقرار رہتاہے تمام اداروں جماعتوں طبقات اور حکومت کو اس طرف خصوصی توجہ دینی ہوگی۔