معاشی مشکلات کے باوجود ایک متوازن بجٹ

 وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے ایوان میں2014-15کا وفاقی بجٹ پیش کر دیاہے اس بجٹ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایاگیا وفاقی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنروں کی پنشن میں دس فیصد اضافہ کیاگیاہے ترقیاتی بجٹ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں24 فیصد اضافہ کیاگیاہے گزشتہ سال یہ بجٹ425ارب روپے تھا جبکہ2014-15کے لئے اس میں اضافہ کر کے اسے525 ارب روپے مختص کیاگیاہے اگرچہ محصولات کے اہداف میں اضافہ کیاگیاہے تاہم ان طبقات پر ٹیکس عائد کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اسے ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں مذکورہ بجٹ کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ٹیکسوں کے حوالے سے متعدد فیصلے ایوان ہائے صنعت وتجارت کی مشاورت سے کئے گئے ہیں اس لئے ان کے نفاذ پرمتعلقہ شعبوں کی طرف سے کسی قسم کے منفی ردعمل یا احتجاج کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں گزشتہ مالی سال مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے5.8فیصد کے برابر تھا اب اس کا ہدف کم کر کے4.9فیصد مقرر کیاگیاہے وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ کے نتیجے میں روزگار کے لاکھوں مواقع میسر آئیں گے روزگار کی فراہمی میں نجی شعبہ کا کردار بے حد اہمیت کا حامل ہے حکومت کا کام محض یہ ہے کہ نجی شعبہ کے لئے ایسا سازگار ماحول فراہم کرے جو سرمایہ کاری کو فروغ دے انہوں نے کہا کہ تھری جی اور فور جی کی نیلامی کے باعث معاشی ترقی میں اضافہ ہوگا آئندہ چار برسوں میں نو لاکھ کے لگ بھگ افراد کو روزگار ملے گا یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت نے نچلے درجہ کے سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کے لئے خصوصی توجہ دی ہے تمام وفاقی ملازمین کو یکم جولائی2014سے دس فیصد ایڈہاک ریلیف دیاجائے گا جبکہ گریڈ ایک سے15تک کے ملازمین کو کنوینس الائونس میں پانچ فیصد اضافہ دیاجائے گا سپریٹنڈنٹ کی پوسٹ کو گریڈ سولہ سے سترہ میں اپ گریڈ کیاجارہاہے گریڈ ایک سے چار کے ملازمین کوایک انکریمنٹ کی اجازت ہوگی محنت کش کی کم سے کم تنخواہ دس ہزار سے بڑھا کر گیارہ ہزار روپے کی جارہی ہے اور کم سے کم پنشن پانچ ہزار سے بڑھا کر چھ ہزارکی جارہی ہے تمام ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی دس فیصد اضافہ کیاجائے گا بجٹ میں ہوائی جہازوں کے فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے ٹکٹوں پر ٹیکس ادا کرنے والے مسافروں سے3 فیصد اور ٹیکس ادا نہ کرنے والے مسافروں سے چھ فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیاجائے گا البتہ اکانومی کلاس کے مسافر اس سے مستثنےٰ ہوں گے اسی طرح غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس گزاروں سے ایک فیصد اور ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے لئے دو فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیاجائے گا تاہم بیس لاکھ سے کم قیمت کی جائیدادوں اور بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے سرکاری اسکیموں کو اس ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہوگی ایک لاکھ روپے ماہانہ سے زائد بجلی کے گھریلو بلوں پر7.5 فیصد کی شرح سے ایڈوانس ٹیکس وصول کرنے کی تجویز رکھی گئی ہیغیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے بھی تجاویز دی گئی ہیں بجٹ میں شادیوں اور تقریبات میں دو ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو دس فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کر دیاگیاہے صنعتی شعبہ اور ہائوسنگ کے منصوبے اگر30جون2017تک ٹیکس اور ٹوٹل پروجیکٹ کی قیمت کا پچاس فیصد ایکویٹی کی شکل میں بیرونی سرمائے سے حاصل ہوتو کارپوریٹ ٹیکس کی33 فیصد شرح کو کم کر کے بیس فیصد کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے بجٹ کا ایک اور اہم پہلو کم لاگت گھروں کے لئے قرضے کی فراہمی کا منصوبہ ہے اس اسکیم کے تحت دس لاکھ روپے تک کا قرضہ فراہم کیاجائے گا اس میں سے چالیس فیصد کی گارنٹی حکومت فراہم کرے گی اس پروگرام کے تحت20ارب روپے کے25ہزار قرضے دیئے جائیں گے ہائوس بلڈنگ فنانس کمپنی کو فعال بنانے اور اسلامی بنکنگ کو فروغ دینے کے لئے بھی سنجیدگی سے کام شروع کر دیاگیاہے اگرچہ بجٹ میں عوام کو بعض شعبوں میں ریلیف بھی دیاگیاہے لیکن مجموعی طور پر اس کے نتیجے میں عوام پر بالواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا عوام کو آئندہ مالی سال کے دوران231ارب کے ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا سگریٹ سریا سیمنٹ بجلی جنریٹر اور پرانی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اس بجٹ کو کئی اعتبار سے ایک روایتی بجٹ قرار دیاجاسکتاہے اس میں ایسے انقلابی اقدامات نہیں کئے گئے جن کے نتیجے میں اعلی اور مراعات یافتہ طبقات پر ٹیکسوں کا زیادہ بوجھ ڈال کر عوام کے بوجھ میں کمی لائی جاتی معاشی بہتری کے اعشاریے یقیناً موجود ہیں حکومت کی ایک سال کی کارکردگی بھی اطمینان بخش ہے لیکن اس بجٹ کے نتیجے میں عوام کی زندگیوں میں کسی ریلیف کی توقع نہیں کی جاسکتی عوام کو بجٹ کے ذریعے بہت کم ریلیف دیاگیاہے لیکن ان سے بہت کچھ لے لیاگیاہے اگر ٹیکسوں کا رخ اعلی طبقات کی طرف ہوتا تو عوام کی زندگیوں میں آسانیوں کی توقع کی جاسکتی تھی مگر وزیر خزانہ نے روایتی بجٹ پیش کر کے ان ہی عوام پر بوجھ ڈالا ہے جو ہمیشہ کچلے جاتے رہے ہیں۔