Get Adobe Flash player

منی لانڈرنگ کیس میں متحدہ کے قائد کی گرفتاری

متحدہ کے قائد الطاف حسین کو لندن کی میٹرو پولٹین پولیس نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کر لیاہے گرفتاری کے بعد ان کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیالندن پولیس ڈیڑھ برس سے ان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں تحقیقات کر رہی تھی ان کی گرفتاری نارتھ ویسٹ لندن کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ سے عمل میں آئی برطانوی میڈیا کے مطابق ان کے لندن چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے پولیس نے ان کا برطانوی پاسپورٹ اور دیگر کاغذات قبضے میں لے لئے ہیں بعض اطلاعات کے مطابق گرفتاری کے فوراً بعد ان کی طرف سے دی جانے والی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی ہے الطاف حسین کی گرفتاری کی اطلاعات کے بعد کراچی کے بعض علاقوں میں گاڑیوں کو جلانے کے واقعات افسوسناک ہیں ایم کیو ایم کے رہنمائوں کی ذمے داری ہے کہ وہ کارکنوں کو پرامن رکھیں لندن کے ایک مقدمے کے ردعمل کے طورپر پاکستان میں شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کا کوئی جواز نہیں ہے گرفتاریاں جیلیں اور مقدمات سیاسی لیڈروں کی زندگیوں میں ہرگز انہونی بات نہیں ہوتی تاہم قانون کسی بھی شہری کو اپنی بیگناہی ثابت کرنے کا حق دیتاہے الطاف حسین اور ان کے بہی خواہوں کو اب لندن کی متعلقہ عدالت کے سامنے بیگناہی ثابت کرنی ہوگی حکومت کا یہ رویہ مثبت ہے کہ اس کی طرف سے ایم کیو ایم کی قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیاگیاہے اور پاکستانی ہائی کمیشن کو الطاف حسین سے قونصلر تک رسائی کے لئے کہاگیاہے الطاف حسین چونکہ برطانیہ کی شہریت رکھتے ہیں اس لئے اس حیثیت میں برطانوی قوانین پر عمل درآمد ان کے لئے لازم ہے عمران فاروق قتل کیس کی تفتیش کے دوران جب لندن پولیس نے ان سے رجوع کیا تو چھاپے کے دوران ان کی رہائش گاہ اور دفتر سے بھاری مقدار میں کرنسی برآمد ہوئی جس کا وہ قانونی جواز پیش نہ کر سکے اس طرح ان پر منی لانڈرنگ کا شبہ کیاگیا مزید تحقیقات کے بعد پولیس نے اس شبہ کو باقاعدہ قانون کے تحت الزامات کی صورت دی اور ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیاگیا ڈیڑھ برس تک تحقیقات کے بعد بعض قانونی حلقوں کے مطابق جب بادی النظر میں الزامات مضبوط ثابت ہوئے تو برطانوی قوانین کے تحت گرفتاری عمل میں لائی گئی یہ ایک انفرادی کیس ہے اس کا کسی سیاست یا انتقامی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں برطانیہ میں بہت سے ترقی پذیر ملکوں کی طرح انتقامی کارروائیاں نہیں ہوتیں یہ سراسر منی لانڈرنگ کا کیس ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھنا اور اس کا دفاع کرناہوگا شدید بیان بازیوں مظاہروں اور دھرنوں سے برطانیہ کے تحقیقاتی اور عدالتی نظام کو متاثر نہیں کیاجاسکتااس لئے مناسب یہی ہے کہ اس معاملے پر سیاست کرنے کے بجائے اسے ایک قانونی مقدمے کے طور پر دیکھاجائے اور اسی انداز سے دفاع کیاجائے۔