Get Adobe Flash player

فوجی گاڑی پر خودکش حملہ دہشت گردوں کی مکمل منصوبہ بندی کا نتیجہ

 فتح جنگ میں حساس ادارے کی گاڑی پر خود کش حملہ اس بات کی علامت ہے کہ غیر ملکی ایجنٹوں اور پاکستان دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے دہشت گردوں نے قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور کرنے کے لئے ایک بار پھر اپنا گھنائونا کھیل شروع کر دیاہے اس خود کش حملے کے نتیجے میں پاک فوج کے دوکرنلز اور تین راہگیر شہید ہو گئے آئی ایس پی آر کی اطلاع کے مطابق ترنول فتح جنگ کے قریب سیکورٹی فورسز کی ڈبل کیبن گاڑی گشت پر مامور تھی کہ اس دوران ریلوے پھاٹک پر ایک بھکاری نے جو خودکش حملہ آور تھا سیکورٹی فورسز کی گاڑی کے پاس آکر خود کو دھماکے سے اڑادیا جس میں لیفٹیننٹ کرنل ظاہر شاہ اور لیفٹیننٹ کرنل راشد شہید ہوگئے جبکہ حملے میں تین راہگیر بھی شہید ہوئے خود کش حملہ آور بھی ہلاک ہوگیا عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور کافی دیر سے ریلوے پھاٹک کے قریب بھکاری کا روپ دھارے ہوئے موجودتھا''نمائندہ اساس،، کے مطابق فتح جنگ پنڈی روڈ پر واقع ریلوے پھاٹک جہاں خودکش حملہ کیاگیا اس کے اردگرد خود رو جھاڑیاں موجود ہیں اور پھاٹک پر ہر وقت کوئی نہ کوئی شخص بھکاری کے روپ میں موجود ہوتاہے مگر حساس اداروں اور سیکورٹی پر مامور اہلکاروں نے کبھی اس طرف توجہ نہ دی اس علاقے میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز پر حملے کے بعدیہ چوتھا بڑا واقعہ ہے اہم بات یہ ہے کہ فتح جنگ کے متعدد علاقوں میں کرم ایجنسی باجوڑ اور وزیرستان سے آنے والے بڑی تعداد میں آباد ہیں یہ علاقے مقامی لوگوں کے لئے نوگو ایریا کی حیثیت رکھتے ہیں مگر کبھی بھی ان علاقوں کے رہائشیوں کی جانچ پڑتال کا عمل شروع نہیں کیاگیا یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ فتح جنگ میں بعض کالعدم تنظیمیں بھی خاصی متحرک ہیں حساس علاقہ ہونے کے باوجود ان کی مشکوک سرگرمیوں کو روکنے کے لئے کوئی بھی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی جس کا نتیجہ اس سانحے کی صورت میں ظاہر ہوا کہ پاک فوج کے دو اہم افسران شہید کر دیئے گئے کالعدم تحریک طالبان کے فضل اللہ گروپ نے واقعہ کی ذمے داری قبول کر لی ہے یہ اطلاعات بھی منظر عام پر آئی ہیں کہ خود کش حملہ آور ازبک تھا ضلع اٹک میںاب تک چار خود کش حملوں میں بارہ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں پہلا خودکش حملہ2004 میں فتح جنگ کے قریب سابق وزیراعظم شوکت عزیز پر اس وقت ہوا جب وہ قومی اسمبلی کے امیدوار کی حیثیت سے منعقدہ انتخابی جلسہ سے خطاب کے بعد واپس جا رہے تھے اس خودکش حملے میں ان کے ڈرائیور سمیت سات افراد جاں بحق ہوگئے تھے دوسرا خود کش حملہ2009میں پاکستان ایئرو ناٹیکل کمپلیکس کی سکول گاڑی پر ہوا جس میں خودکش حملہ آور ہلاک ہوگیا تیسرا2010میں کامرہ ایئرو ناٹیکل کمپلیکس کی چیک پوسٹ پر ہوا جس میں تین سے زائد اہلکار شہید ہوگئے اب چوتھے حملے میں پاک فوج کے دو کرنیلوں سمیت پانچ افراد شہید کر دیئے گئے۔تازہ ترین واقعہ سے یہ ثابت ہوتاہے کہ دہشت گردوں کا انٹیلی جنس نظام بے حد متحرک ہے انہیں یہ معلوم تھا کہ متعلقہ گاڑی کس وقت پھاٹک کے قریب سے گزرے گی چنانچہ انہوں نے طے شدہ پروگرام کے تحت بھکاری کے روپ میں خود کش حملہ آور کو وہاں بٹھا رکھا تھا جس نے اپنے آپ کو گاڑی سے ٹکرا کر اڑادیا جس سے حساس علاقے میں بھکاری کے روپ میں خفیہ ایجنسیوں کے ماہر اور تجربہ کار اہلکار کو موجود ہوناچاہیے تھا وہاں بھکاری کے روپ میں دہشت گرد اور خودکش حملہ آور موجود تھا یہ صورتحال یقیناً غور طلب ہے یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ عام دہشت گرد محض خودکش حملے یا دھماکہ خیز مواد کے ذریعے تباہی پھیلاتے ہیں اپنے ہدف کی نقل و حرکت کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر کے اس پر حملے کی منصوبہ بندی محض پیشہ ور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے مذکورہ واقعہ سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ طالبان ملا فضل اللہ گروپ پاکستان دشمنوں کے آلہ کار کا کردار ادا کر رہاہے اور اس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں کی منصوبہ بندی کا عمل دخل ہے یہ امر بھی معنی خیز ہے کہ یہی گروپ ہمیشہ مذاکرات کا مخالف بھی رہاہے جبکہ ملا فضل اللہ شمالی وزیرستان کے مقابلے میں اپنے آپ کو افغانستان کے اندر زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں تازہ واقعہ کے بعد عوامی حلقوں میں ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جارہاہے کہ حکومت آپریشن یا مذاکرات کے معاملے میں ابہام سے کیوں دوچار ہے اور طالبان کے منقسم ہونے کے بعد خالد سجنا گروپ کے ساتھ رابطوں اور قیام امن کے حوالے سے اس کی حکمت عملی اور پالیسی کیاہے؟ اس سے قبل حکومت اور پاک فوج نے یہ اصول طے کیاتھا کہ جو گروپ بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کرے گا اس کے خلاف بلا تاخیر جوابی کارروائی کی جائے گی اور اس اصول کے تحت ماضی میں متعلقہ دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانوں کو فضائیہ کے ذریعے بمباری کر کے تباہ کر دیاگیا طالبان کے جس گروپ نے اس واقعہ کی ذمے داری قبول کی ہے اس کے خلاف فوری طور پر جوابی کارروائی کی جانی چاہیے تاہم امن اور مذاکرات پر یقین رکھنے والے گروپوں کے ساتھ رابطوں اورمکالمے میں بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔