Get Adobe Flash player

افغان حکومت کا بھارتی لہجہ معنی خیز ہے

افغانستان نے سرحد پار حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سیکورٹی مذاکرات کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد پاک فوج پر حملوں کی دھمکی بھی دے دی ہے اطلاعات کے مطابق افغان وزیر دفاع بسمہ اللہ خان نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستانی فوج نے راکٹ حملوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو بھرپور جوابی کارروائی کی جائے افغان فوج کے ایک عہدیدار جنرل محمدی نے کہا کہ افغان فوج پاکستانی فوجیوں کے راکٹ حملوں کے جواب میں کارروائی کے لئے حکومتی احکامات کا انتظار کر رہی ہے ادھر قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر حامد کرزئی نے الزام لگایا کہ پاکستان افغان صدارتی انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہاہے۔ صدرحامد کرزئی کا مذکورہ الزام یکسر بے بنیاد ہے سوال یہ ہے کہ افغانستان میں انتخابات کے پہلے مرحلے کو پرامن بنانے کے سلسلے میں سرحد بند کرنے کے لئے انتہائی اقدامات بروئے کار لانے والا پاکستان دوسرے مرحلے کے انتخابات کو بھلا کیوں سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا پہلے مرحلے کے انتخابات کو پرامن بنانے کے لئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سرحد کو مکمل طور پر سیل کر کے جو کردار ادا کیا اس کی عالمی برادری نے بھی زبردست تحسین کی اب کس بنیاد پرپاکستان اپنے پہلے کردار کی نفی کرتے ہوئے کوئی دوسرا کردار ادا کرے گا درحقیقت بے بنیاد اور بلا جواز الزامات کابل انتظامیہ کا وطیرہ بن چکاہے پاکستان کے خلاف اس قسم کے الزامات عائد کر کے شاید کابل انتظامیہ نئی دہلی کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے چند روز قبل دو سو کے لگ بھگ دہشت گردوں نے باجوڑ میں ایک سرحدی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے جواب میں چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی فوری طور پر دہشت گردوں کو معقول جواب دیاگیا جس کے نتیجے میں سترہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیاگیا اور متعدد زخمی ہوئے اتنی بھاری تعداد میں دہشت گردوں کا افغانستان سے پاکستان کی سرحدی چیک پوسٹ پر حملہ آور ہونا معنی خیز ہے اس کی دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں اول یہ کہ اپنی سرحد پر افغان فورسز کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے جبکہ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اتنی بھاری تعداد میں دہشت گردوں کے حملے کے پیچھے افغان فورسز کی حکمت عملی اور پشت پناہی کارفرماہے پاکستان نے اس واقعہ پر افغان ناظم الامور سے احتجاج بھی کیاہے مذکورہ واقعہ پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی بجائے افغان حکومت کی طرف سے پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشی افسوسناک ہے افغان عہدیدار پاکستان کو دھمکیاں دینے کے بجائے سرحد پر اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں اور دہشت گردوں کے افغانستان سے پاکستان میں داخلے کو روکنے کے عمل کو یقینی بنائیں دس دنوں میں باجوڑ پر افغان دہشت گردوں کے تین حملے کسی سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔