شدت پسندوں اور تخریب کاروں کیخلاف بلوچستان حکومت کی اہم کامیابیاں

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز خان بگٹی نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ سوئی میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے شرپسندوں کے خلاف آپریشن میں30 شدت پسند ہلاک کئے گئے اور ان کے آٹھ کیمپ ختم کر دیئے گئے جبکہ شدت پسندوں کی فائرنگ سے ایک اہلکار شہید اور سات شدید زخمی ہوگئے ان کا کہناتھا کہ شدت پسندوں کے قبضہ سے دو مغویوں کو بھی بازیاب کروایا گیاہے اور ان کے ٹھکانوں سے بھاری تعداد میں گولہ بارود برآمد کیاگیاہے بلوچستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران شدت پسندوں کے خلاف یہ ایک بڑی کامیاب کارروائی تھی جس میں ان کے آٹھ کیمپوں کو ختم کر کے30 شدت پسندوں کو ہلاک کیاگیا تاہم وزیر داخلہ کاموقف تھا کہ صوبے میںکہیں بھی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا البتہ حساس تنصیبات پر حملوں میں ملوث اور تمام شہریوں پر حملہ کرنے والے شرپسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائی کی جاتی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ دو روز قبل شرپسندوں کی جانب سے رینجرز اہلکاروں پر حملہ کیاگیاتھا جس کے بعد حملہ آور روپوش ہوگئے تھے تاہم خفیہ اطلاعات ملنے کے بعد شرپسندوں کے خلاف سوئی کے علاقہ میں سرچ آپریشن کیاگیا اس دوران شر پسندوں کی جانب سے سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی گئی سیکورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں30 شدت پسند ہلاک ہو گئے اور بھاری مقدار میں گولہ بارود سمیت بعض اہم دستاویزات قبضے میں لے لی گئیں وزیر داخلہ کے مطابق اس کارروائی میں پولیس رینجرز اور ایف سی اہلکاروں نے حصہ لیا ادھر ڈیرہ بگٹی میں نامعلوم افراد نے دوکنوئوں سے پلانٹ کو جانے والی16 انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو دھماکہ سے اڑادیا جس سے پلانٹ کو کنوئوں سے گیس کی فراہمی منقطع ہوگئی اطلاعات کے مطابق مکران میں فرنٹیرکور کے عملے نے فارن ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے45 افغان باشندوں کو گرفتار کرلیا جو غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوئے تھے بلوچستان حکومت کی صوبے میں امن وامان کی بحالی کی کوششیں یقیناً لائق تحسین ہیں اگرچہ اہم تنصیبات کے خلاف تخریب کاری کے واقعات اب بھی ہوتے ہیں تاہم مجموعی طور پر ان کی تعداد میں کمی آئی ہے کوئٹہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں شہریوں کے اندر عدم تحفظ کا جو احساس پایا جاتا تھا اس میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور اب کوئٹہ میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔بلوچستان میں دو قسم کے عناصر دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث ہیں ایک وہ ہیں جن کاتعلق ناراض بلوچ گروپ سے ہے انہوں نے مختلف علاقوں میں فراری کیمپ قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ سیکورٹی فورسز پر حملہ آور ہوتے اور اہم تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں دوسرے عناصر کاتعلق طالبان سے ہے جو دہشت گردی کی روایتی کارروائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں تاہم ہر دو عناصر کے پیچھے بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں موجود ہیں جو انہیں اسلحہ اور سرمایہ فراہم کرتی ہیں مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرناہے اگرچہ ماضی میں پاکستان نے بلوچستان میں''را،،کی مداخلت پر بھارتی وزیراعظم سے احتجاج کرتے ہوئے اسے اس مداخلت کی ثبوت بھی فراہم کئے مگر بھارت نے پاکستان کی شکایت کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور اس کی طرف سے مداخلت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کو ایک بار پھر نہ صرف سفارتی سطح پر پوری شدت سے اٹھایا جاناچاہیے بلکہ انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں تمام فراری کیمپوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے سوئی میں کی جانے والی کارروائی شدت پسندوں کی ایک زبردست شکست اور حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے اس قسم کی دوچار مزید کارروائیاں کی جائیں تو شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی کمر توڑی جاسکتی ہے البتہ ان کارروائیوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان سے ملحقہ افغان بارڈر پر کڑی نظر رکھی جائے بارڈر کو سیل کر کے نہ صرف تخریب کاروں اور دہشت گردوں کی آمد کو روکا جاسکتاہے بلکہ انہیں فراہم کی جانے والی کمک کے راستے بھی بند کئے جاسکتے ہیں بلوچستان حکومت اور وفاقی حکومت کی باہمی مشاورت کے نتیجے میں صوبے میں امن وامان کو مکمل طور پر یقینی بنانے کے لئے تمام مطلوبہ اقدامات بروئے کار لائے جانے چاہیں صوبائی حکومت نے حال ہی میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں انہیں وسعت دی جانی چاہیے۔