Get Adobe Flash player

ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹیوں کیلئے ذمے داری کے لمحات

برطانیہ میں متحدہ کے قائد الطاف حسین کی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری کے بعد کراچی میں پہلا ردعمل انتہائی افسوسناک تھا ایک درجن کے لگ بھگ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو جلایاگیا اور مارکیٹیں وکاروباری ادارے بند کروا دیئے گئے تاہم بعد ازاں الطاف حسین کو بیٹی سے ملاقات کی اجازت ملنے اور پارٹی رہنمائوں سے ان کی گفتگو کے بعد ایم کیو ایم نے کراچی میں ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کراچی سمیت مختلف شہروں میں دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جمعرات کے روز اگرچہ مارکیٹیں اور کاروباری ادارے حسب پروگرام کھولے گئے تاہم بعض علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے ذریعے دکانیں بند کروانے کی کوششیں بھی کی گئیں جس پر ایم کیو ایم کے رہنمائوں کا موقف تھا کہ جو شرپسند زبردستی دکانیں بند کروا رہے ہیں ان کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں ہے ایم کیو ایم کے رہنمائوں کے مذکورہ موقف کی روشنی میں یہ دلچسپ سوال ضرور پیدا ہوتاہے کہ کیا کراچی میں ایم کیو ایم کے علاوہ بھی بعض عناصر ہیں جو زبردستی کاروباری ادارے بند کرواتے ہیں؟بہرحال یہ امر اطمینان بخش ہے کہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے اس کے بعد حالات کو بگڑنے نہیں دیا اور شہر کی صورتحال معمول پر آگئی متحدہ کے لیڈروں اور کارکنوں کو بہرصورت یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان میں ان کاکسی بھی نوعیت کا ردعمل ان کے قائد کے خلاف مقدمہ میں ان کے لئے کسی قسم کی بھی سہولت کا باعث نہیں بن سکتا یہ پاکستان کی انتظامیہ یا ادارے نہیں ہیں جو شدید ردعمل اور دھمکانے کی سیاست یا مصلحت کے نتیجے میں لچک پیدا کر لیتے ہیں ۔برطانیہ میں قانون کی بالادستی ہے وہاں پولیس اور اس کی تفتیشی ٹیموں پر اعلی سے اعلی حکومتی شخصیت بھی اثر انداز ہونے کی جرات نہیں کرسکتی الطاف حسین کی گرفتاری کے بعدوفاقی حکومت نے ایم کیوایم کے ساتھ جس طرح اظہار یکجہتی کیا لندن میں ہائی کمیشن کو الطاف حسین کے ساتھ قونصلر رسائی حاصل کرنے کے لئے کہا اور اپنی طرف سے ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کی بلاشبہ یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا اس کے نتیجے میں بھی حالات کو پرامن رکھنے میں مدد ملی اور ایم کیو ایم کے غمزدہ کارکنوں کی ڈھارس بندھی یہ صورتحال ایم کیو ایم کی لندن اور کراچی کی رابطہ کمیٹیوں کے لئے بے حد احتیاط اور دانشمندانہ فیصلوں کا تقاضاکرتی ہے ان کمیٹیوں کو اپنے طور پر بھی موثر اور دانشمندانہ فیصلے کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے ایسے فیصلے جو پارٹی کی ساکھ میں اضافہ کا باعث ہوں اور اس کے بارے میں منفی اثرات کو زائل کر سکیں۔