ملک دشمن سرگرمیوں سمیت سنگین جرائم کے خلاف قانون کی منظوری

طویل عرصہ کی جدوجہد کے بعد آخرکار حکومت قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوانوں سے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی مذکورہ بل بدھ کے روز سینٹ کے ایوان سے منظور کروایا گیا جبکہ قومی اسمبلی نے جمعہ کے روز اس کی منظوری دی دہشت گردی کے سدباب اور ملزموں کی گرفتاری اور انہیں سزا سے متعلق بھی بعض امور پر اپوزیشن کے تحفظات تھے اپوزیشن نے اس شرط کے ساتھ بل کی منظوری میں تعاون کیا کہ بجٹ پر بحث اور اس کی منظوری کے بعد اس کی ترامیم کو بھی بل میں شامل کیاجائے گا انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کا مقصد سنگین جرائم سے نمٹنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موثر بناناہے اس کے تحت رینجرز کو بھی تفتیش کا اختیار دیاگیاہے جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیشن کو تحفظ فراہم کیاگیاہے جبکہ ویڈیو ریکاڈنگ کے ذریعے گواہوں کو بھی تحفظ دیاگیاہے بل کے تحت فائرنگ کا حکم پولیس کے گریڈ سترہ یا اس کے مساوی عہدہ کا فوج یا سول آرمڈ فورسز کا افسر ہی دے سکے گا تاہم فائرنگ کا اختیار صرف ناگزیر حالات میں ہی دیا جاسکے گا اور اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہی ہوگا اور یہ دہشت گردی روکنے یا کسی سنگین جرم کے روکنے کے لئے ہوگی کسی بھی واقعہ جس میں موت ہوگئی ہو یا شدید زخمی موجود ہوں کی ابتدائی انکوائری کمیٹی کے ذریعے ہوگی بل کی رو سے حکومت اس ایکٹ کے تحت آنے والے جرائم کے زمرے میں وجوہات تحریر کر کے کسی بھی شخص کو تین ماہ کے لئے زیر حراست رکھ سکے گی ان جرائم میں ملک دشمن سرگرمیوں ٹارگٹ کلنگ اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری شامل ہیں اس حراست کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیاجاسکے گا سول آرمڈ فورسز یا فوج کی طرف سے نظر بندی کے حکم کی انکوائری مشترکہ تفتیشی ٹیم کرے گی اس میں ایس پی سطح کا پولیس افسر بھی شامل ہوگا نظر بند شخص کو طبی معائنہ کی سہولت دی جائے گی مشترکہ تفتیشی ٹیم پانچ رکنی ہوگی کورم تین ارکان کا ہوگا ٹیم اپنی رپورٹ30دن میں دے گی مقدمہ کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی جج گواہ اور پراسیکیوٹر کی حفاظت کے لئے سکرین استعمال کی جاسکے گی مقدمہ جیل میں ویڈیو لنک کے ذریعے بھی چل سکے گا صوبائی حکومتیں کامیاب تفتیشی کار کو انعامات دیں گی پولیس افسر کی طرف سے کسی کو غلط طور پر مقدمہ میں ملوث کرنے کی سزا دو سال مقرر کی گئی ہے مقدمہ ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں متعلقہ عدالت کے چیف جسٹس کی اجازت سے منتقل ہوسکے گا۔مذکورہ بل اس دور کے تمام تقاضے پورے کرتاہے خرابی یہ ہے کہ ہمارے ہاں جرائم تو نئی نئی صورتوں میں سامنے آتے مگر تفتیش اور سزا کے روایتی قوانین اور طریقوں کی موجودگی میں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا مشکل تھا اس پس منظر میں یہ ضروری تھا کہ نئی قانون سازی ہو جس میں نہ صرف جج کسی خوف کے بغیر عدالتی فرائض سر انجام دے سکے بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے گواہ اور پراسیکیوٹر بھی اپنا کردار ادا کر سکیں سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف گواہی بہت مشکل مرحلہ ہوتاہے ایسے واقعات عام ہیں جب گواہوں کو کچہری کے راستے میں یا کچہری پنچنے پر قتل کر دیاگیا اس قانون کے ذریعے گواہ اور پراسیکیوٹر کہیں سے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا قانونی کردار ادا کر سکیں گے سنگین جرائم میں ملوث ارکان کی ہلاکتوں کا معاملہ بھی ایک درد سر تھا ایسا دہشت گرد ڈاکو اور اغواء برائے تاوان کا ملزم جس کے جرائم سے ہر کوئی آگاہ ہو وہ بھی اگر رینجرز یا پولیس کی گولی سے مارا جاتا تو متعلقہ افسران اور اہلکار اس پر جوابدہ ہوتے تھے اب ایسے ملزم پر قانون کے تحت فائرنگ کی جاسکے گی تاہم اہلکاروں کو فائرنگ کا حکم گریڈ سترہ یا اس کے مساوی عہدہ کا فوج یا سول آرمڈ فورسز کا افسر ہی دے سکے گا مذکورہ قانون کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت اس کے تحت آنے والے جرائم کے تناظر میں وجوہات تحریر کر کے کسی بھی شخص کو تین ماہ کے لئے زیر حراست رکھ سکے گی حکومت کو یہ بتاناہوگا کہ متعلقہ شخص ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے یا اس کے ملوث ہونے کا شبہ ہے یا ٹارگٹ کلنگ اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری میں ملوث ہے اس لئے اسے تین ماہ تک زیر حراست رکھنا مملکت اور عوام کے مفاد میں ہے ملک میں دہشت گردی ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کے جرائم میں جس تیزی سے اضافہ ہورہاہے اس کے پیش نظر سخت قانون سازی ناگزیر تھی اب کراچی سے لے کر خیبر پختونخواہ اور پنجاب وبلوچستان تک میں ان جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی فوری اور نتیجہ خیز ہوگی اب جبکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان اس قانون کی منظوری دے چکے ہیں صدر مملکت سے دستخطوں کے بعد اسے فوری طور پر نافذ العمل کیا جاناچاہیے امید کی جاسکتی ہے کہ مذکورہ قانون کے نفاذ کے بعد سنگین جرائم میں کمی ہوگی اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے گا۔