شمالی وزیرستان کے قبائلی عمائدین کو حکومت کی طرف سے ٹاسک

پشاور میں شمالی وزیرستان کے65رکنی گرینڈ جرگے کی خیبر پختونخواہ کے گورنر اور پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی سے ملاقاتوں کو سیاسی حلقوں نے غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیاہے حکومت کی طرف سے مذکورہ جرگہ کو شمالی وزیرستان میں امن کے قیام اور غیر ملکیوں کو نکالنے کے لئے پندرہ روز کی مہلت دی گئی ہے اور یہ مطالبہ کیاگیاہے کہ قبائلی عمائدین کو سرکاری تنصیبات اور فورسز کے قاتلوں کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جرگہ میں شریک قبائلی عمائدین کی طرف سے حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت کی طرف سے بھی اس مدت کے دوران علاقے میں کوئی کارروائی نہ کرنے کا یقین دلایاگیاہے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیاگیاہے کہ امن قائم نہ ہونے کی صورت میں بھرپور کارروائی کی جائے گی قبائلی عمائدین نے واضح کیا کہ انہوں نے ہمیشہ امن کے لئے کردار ادا کیاہے اور آئندہ بھی کریں گے اور پندرہ دنوں کے بعد حکومتی نمائندوں سے پھر ملاقات کریں گے آئی ایس پی آر کے مطابق قبائلی جرگے نے پاک فوج سے مکمل تعاون کا عہد کیا اور سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑاہونے کی یقین دہانی کرائی ہے پشاور کے کور کمانڈر لفیٹیننٹ جنرل خالد ربانی نے کہا کہ قبائلی بھائیوں کی مدد سے شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کریں گے علاقے میں ریاستی رٹ کو بحال کرنے اور تعمیر نو کے لئے پاک فوج قبائلی عمائدین کے ساتھ کھڑی ہے۔باور کیا جاتاہے کہ قبائلی جرگہ طالبان کے تمام گروپوں سے رابطہ کر کے ان پر یہ واضح کرے گا کہ تمام غیر ملکیوں کو جتنا جلد ممکن ہوسکے علاقہ چھوڑنا ہوگا اگر کسی گروپ نے اس سلسلے میں تعاون نہ کیا تو قبائلی عوام اس کے خلاف خود کارروائی کریں گی حکومت نے قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لینے کا درست اقدام کیاہے اس نے پہلے مرحلے میں انہیں اہم ٹاسک دیاہے یعنی غیر ملکیوں کے انخلاء اور پاک فوج کے قاتلوں کا تحفظ قبائلی عمائدین جنھوں نے ہمیشہ پاک فوج اور حکومت سے تعاون کیاہے یقیناً اس معاملے میں اپنی ذمے داریاں احسن طور پر انجام دیں گی تاہم اگر انہیں کسی فریق کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو پاک فوج متعلقہ فریق کے خلاف فوری ایکشن کے لئے تیار ہوگی ان حالات میں قبائلی عمائدین حکومتی ایکشن کی بھرپور حمایت کریں گے قبائلی عمائدین کی یہ نفسیات ہے کہ وہ اپنی مرضی کے بغیر کسی حکومتی ایکشن کو بھی قبول نہیں کرتے اس حوالے سے حکومت نے یقیناً درست حکمت عملی اختیار کی ہے۔