ترقی پسندی اور جاگیردارانہ شوق سیاست۔۔۔ضمیر نفیس

 ایک طویل عرصہ کے بعد ایک بار پھر عابد حسن منٹو کی عوامی ورکرز پارٹی کا نام سننے میں آیا ہے عابد حسن منٹو صبر اور حوصلے پر مبارکباد کے مستحق ہیں  ابھی بھی وہ اپنی اس پارٹی سے معجزوں کی توقع رکھتے ہیں جو شاید خود انہیں بھی کبھی نظر نہیں آئی' اسلام آباد میں انہوں نے متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی نامی کسی جماعت کی مرکزی سینئر وائس چیئرپرسن نائیلہ  کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔ منٹو صاحب نے کہا کہ ''عوامی ورکرز  پارٹی اور متحدہ کشمیر نیشنل پیپلزپارٹی کشمیر اور پاکستان میں مشترکہ سیاسی جدوجہد کریں گی۔'' اس مشترکہ سیاسی جدوجہد سے کس حد تک حکومتی ایوانوں میں لرزہ طاری ہوگا کہ وہ دونوں جماعتوں کی انفرادی قوت سے ہی واضع ہے ظاہر سی بات ہے ان کی انفرادی قوت  ہی دونوں کی مشترکہ قوت بنے گی۔عابد حسن منٹو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے قوموں کی حق خودارادیت کے اصول اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے یقینا ان کے اس مطالبے پر سوائے بھارت کے کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا دنیا کے مختلف فورم پر متعدد بار اسی انداز میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے لیکن بھارت اسے خاطر  میں نہیں لایا۔عابد حسن منٹو نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے حکمران مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کریں دونوں ملکوں کے درمیان 66سال سے موجود مسئلہ کشمیر اور دیگر تنازعات حل نہ ہونے سے جنگجو قوتوں کو پرورش پانے کا موقع مل رہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست کے تمام قدرتی راستوں کو کھولا جائے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان دونوں حصوں کے درمیان ایک آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا جائے وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل جیسے اداروں کو ختم کیا جائے پاکستان سے  افسروں کو بلا کر مقامی افسران کو تعینات کیا جائے۔ ایکٹ 1974 کی تمام متنازعہ شقوں کا خاتمہ کیا جائے عابد حسن منٹو نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان اور کشمیر کی دو بڑی ترقی پسند جماعتوں کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا اعتماد خطے میں انتہا پسندی کے خاتمہ اور ترقی پسند رحجانات' امن اور جمہوریت کے فروغ کے لئے تعاون ثابت ہوگا۔  ہمیں ذاتی طور پر ان دونوں بڑی اور ترقی پسند جماعتوں کے اتحاد سے ایسی کوئی توقع نہیں کہ یہ انتہا پسندی کے خاتمہ کے سلسلہ میں کوئی کردار ادا کر سکے گا عابد حسن منٹو ایک باصلاحیت شخصیت ہیں لیکن شاید سیاسی میدان میں انہیں اپنی صلاحیتوں کو نمایاں کرنے کا موقع نہیں مل سکا ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے ترقی پسند لیڈر اور دانشور ابھی تک تین عشرے قبل کی اصطلاحات اور فکر سے باہر نہیں نکل سکے اب بھی وہ استعماریت  استحصالی طبقات' نوآبادیاتی نظام وغیرہ کی اصطلاحات کے گرد گھومتے ہیں جبکہ ان تین عشروں نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے انسانی حقوق اور جمہوریت کے شعور نے سوشلزم اور کمیونزم کی ساری کشش کو چکنا چور کر دیا ہے کمیونسٹ معاشرے اندر سے کیسے کھوکھلے نکلے یہ ایک الگ سے دلچسپ کہانی ہے آج کے دور میں استحصالی بھی بدل گئے ہیں۔ غاصبوں کی صف میں بھی نئے چہرے آگئے ہیں اب بہت کچھ بدل گیا ہے اس لئے ترقی پسندی کی سیاست اس وقت ہی چلے گی اور کامیاب ہوگی جب اسے نئی ضرورتوں اور تقاضوں سے آراستہ کیا جائے گا' اگر عابد حسن منٹو یا ان جیسے ترقی پسند واقعی ایک ترقی پسند  سیاست کا فروغ چاہتے ہیں تو انہیں نئی فکر اور نئے انداز سے کام کرنا ہوگا وگرنہ یہی سمجھا جائے گا کہ ریٹائرڈ شخصیات تفریح طبع کے لئے  سیاست کر رہی ہیں تاکہ اس طرح ان کا وقت اچھی طرح گزر جائے جنرل (ر) حمید گل سے لے کر جنرل (ر) اسلم بیگ مرزا تک بہت سے ریٹائرڈ جرنیلوں کے پاس کرنے کو کچھ نہیں اس لئے وہ سیاست کرتے ہیں جبکہ دوسرے بہت سے  فوجی فائونڈیشن کے درجنوں محکموں کی سربراہی کر رہے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد زیادہ پرلطف  اور پرآسائش زندگی گزار رہے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ جرنیلوں کو سفارت مل جاتی ہے کہ ان کا مخصوص کوٹہ موجود ہے جبکہ آرمی چیف کی قربت رکھنے والوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی فائونڈیشن کے کسی ادارے کی سربراہی سونپ دی جاتی ہے جن کے سول حکومت کے ساتھ تعلقات اچھے  ہوں انہیں جمہوری حکومت کسی ادارے کی سربراہی عطا کر دیتی ہے' سیاست تو ہمارے ہاں فالتو وقت کی مصروفیت کا ایک شغل ہے' آپ یقین کریں یہ سو فیصد سچا واقعہ ہے مرحوم سردار شوکت حیات ایک دفعہ سینٹ کے کاغذات نامزدگی لینے آئے اس وقت اسلام آباد میں اخبارات اور رپورٹروں کی بھرمار نہ تھی ہم تین چار صحافی ہی ہر لگے پیش پیش ہوتے تھے ہم نے پوچھا سردار صاحب کیا سینٹ کا الیکشن لڑنے کا ارادہ ہے مجھ سے بہت بے تکلف تھے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے  یار ضمیر میری بیٹی ذہنی طور پر کچھ گڑ بڑ سی ہے  سوچتا ہوں اگر وہ سینٹ کی ممبر بن جائے تو اس کا دل لگا رہے گا'' یہ ہے جاگیرداروں کے نزدیک پارلیمنٹ کی اہمیت۔