خصوصی ایوارڈ۔۔۔ اعجاز احمد

انسان بنیادی طو ر پر مفاد پرست اور خود غرض ہے ۔ دنیاکے رو زگار کو چلانے کے لئے کسی حد تک خو د غر ضی ضروری ہے، مگر بد قسمتی یہ ہے کہ بسا اوقات ہم اتنے خود غرض ہو جاتے ہیں کہ ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ حضور ۖ کا ارشاد ہے کہ مسلمان وہ ہے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہ دوسروں کے لئے بھی پسند کرتا ہے۔مگر بد قسمتی سے ہم اپنے لئے جو پسند کرتے ہیں وہ دوسروں کے لئے پسند نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ انتہائی خود غر ضی، لالچ بے انصا فی اور ما دہ پر ستی کی وجہ سے ہم سب کچھ بھول کر دوسرے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے ، انکو غصب کرنے اور انصاف سے کام نہیں لیتے نتیجتاً ہم بے تحا شا مسائل پیدا کرتے ہیں اور بعض اوقات ہمارے پیدا کر دہ مسائل اتنی شدت اختیار کر تے ہیں کہ ہم دوسروں کی جان و مال کو نُقصان دینے کی کوشش کرتے ہیں ، جسکی وجہ سے جھگڑے اور فساد شروع ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات یہی جھگڑے بر بادی ، قتل و غارت  اور دوسرے سماجی، معا شرتی مسائل کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ نہ تو ہم خدا سے ڈرتے اور نہ روز قیامت اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔اگر ہم ایک سوچ اپنالیں کہ ہم نے مرنا ہے اور ہم نے خدا کے حضورپیش ہو نا ہے تو میرے خیال میں ایک انسان سے گناہ صغیرہ تو سر زد ہو سکتا ہے مگر وہ گناہ کبیرہ سے پہلے سودفعہ سوچے گا ۔مگر بد قسمتی سے نہ تو ہم اللہ سے ڈرتے اور خوف خدا رکھتے ہیں اور نہ روزقیامت سے۔ جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنے یار دو ستوں عزیزوں اور رشتہ داروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں جسکی وجہ سے آئے دن جھگڑے ، فتنے فساد اور قتل وغارت ہو تی رہتی ہے۔ اسلام اور مذہب سے دوری اور مادہ پر ستی کے بے انتہا رحجان ، خود غر ضی اور لالچ کی وجہ سے ہم صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کر تے۔ جسکی وجہ سے بے تحاشا مسائل ہوتے ہیں۔خداوند لایزال کا کرم احسان ہے کہ دنیا میں اب بھی اللہ کے ایسے بندے ہیں جو لوگوں کے مالی خاندانی تنا زعات ، تکالیف اور جھگڑوں کی صورت میں اللہ کی خو شنو دی اور رضا کے لئے فی سبیل اللہ کام کر تے ہیں۔ وہ ہر صورت اللہ کے بندوں کے درمیان مسائل اور تنا زعات کو حل کر نے کے لئے کو شاں ہو تے ہیں اور اس قسم کے لوگوں میں ایک نام صوابی خا ص محلہ معظم خیل کے خدائی خدمت گار خیر محمد کاکا کابھی ہے۔ خیبر پختون خوامیں لوگوں کے تنا زعات کو حل کر نے اور اسکو خیر تک پہنچانے میں بہُت سارے لوگ سر گرم عمل ہیں اور کار خیر میں شریک ہیں۔ مگر اس میں خیر محمد کاکا کا کر دارنہا یت اہم ہے۔خیر محمد کاکا انتہائی دھیمے نرم مزاج ، خدا ترس، معاملہ فہم،دور اندیش، انصاف پسند ، اللہ کا خوف کرنے والے، پختون اور پاکستان کے دوسرے علاقوں کے کلچر ،رسومات، تہذیب اور روایات کوپہچاننے والے ہیں۔گو کہ خیر محمد کاکا زیادہ پڑھے لکھے نہیں اُنہوں نے گو رنمنٹ ہائی سکول صوابی سے میٹرک کا امتحان  پاس کیا ہے مگر اللہ تعالی نے خیر محمد کو ایسا لہجہ اور اخلاق دیا ہوا ہے کہ وہ پتھر کو موم اور کسی کو قائل کر سکتے ہیں۔انکی خوش اخلا قی، اعلی ظرفی، نرم مزاجی وطن عزیز کی روایات سے شناسائی کی وجہ سے اس موصوف نے انتہائی پیچیدہ پیچیدہ زمینوں، قتل، اور دوسرے سنگین جرائم کے کیسز اللہ اور اسکے رسولۖ کی خو شنودی ، مزید خوب خون خرابے کو روکنے اورآئندہ نسلوں کو تباہی اور بربادی سے بچانے کے لئے حل کئے۔ اور ایک اندازے کے مطابق اب تک خیر محمد کاکا مختلف جر گوں کے ذریعے ہزاروں پیچیدہ مختلف کیسز کا تصفیہ پُر امن طریقے سے کر چکے ہیں۔ گو کہ خیر محمد کاکا نے پبلک ریلیشننگ،ڈپلومیسی، معاملہ فہمی اور سفارت کاری میں کوئی باقاعدہ تعلیم حا صل نہیں کی مگر مندر جہ بالا فنون کو جاننے کے لئے جو لوازمات چاہیں وہ اللہ تعالی نے خیر محمد کاکا کی شخصیت کو فطری طو ر پر ودیعت کیے ہیں یہی وجہ ہے کہ خیبر پختون خوا اور باالخصوص ضلع صوابی ، مردان اور چار سدہ میں بڑے بڑے تنا زعات جس سے بُہت خون خرابہ ہو سکتا تھا خیر محمد کاکا کی ذاتی کو ششوں اور محنت کی وجہ سے حل ہو ئے ہیں۔ویسے خیر محمد کاکا اگر یورپ یا دوسرے مغربی ملک میں ہوتے تو اُسکو اگر بڑا انعام نہ دیا جاتا تو کم از کم پرائڈ آف پر فارمنس ضرور دیا جاتا ۔ انکی ایک خصو صیت یہ بھی ہے کہ جو بھی ان سے ایک دفعہ مل لیتا ہے اُسی کا ہوکے رہ جاتا ہے۔