Get Adobe Flash player

حکومت نے میٹرو بس تو چلا دی پی آئی اے نہ چلا سکی۔۔۔ضمیر نفیس

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے تاتارستان کے صدر رستم متھیانوف کے ساتھ ون ٹو ون مذاکرات کے دوران اور وفود کی سطح پر ملاقات کے دوران روسی زبان میں گفتگو کرکے  مہمانوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا مہمان صدر اور ان کے وفد کے ارکان نے وزیراعلیٰ پنجاب کی روسی زبان میں دسترس پر ان کی تعریف کی۔یہ ایک فطری سی بات ہے  آپ اپنے ہم زبان کو دیکھ کر خوش محسوس کرتے ہیں ہم زبان ہو یا ہم جماعت یا ہم وطن دیار غیر میں انہیں دیکھ کر محبت بھر کر آتی ہے آپ کسی دوسرے ملک میں ہوں وہاں دوران سفر' کسی ریستوران میں یا راہ چلتے آپ کو ہم وطن مل جائے تو آپ کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی اور جب ہم وطن ہم زبان بھی ہو تو کیا کہنے یہی جذبہ غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ ملاقاتوں میں بھی سامنے آتا ہے غیر ملکی کی زبان میں آپ گفتگو کریں تو وہ زیادہ اپنائیت محسوس کرے گا اور دل کھول کر رکھ دے گا۔ جب کوئی وزیراعظم یا وزیراعلیٰ غیر ملکی سربراہ حکومت  کے ساتھ اس کی زبان میں بات کرے گا تو متعلقہ ملک کے ساتھ معاملات اور معاہدوں میں زیادہ آسانی ہوگی وزیراعلیٰ پنجاب کو متعدد زبانوں  پر مہارت حاصل ہے جن میں روسی بھی شامل ہے پرویز خٹک ان کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں جنہیں درست طریقے سے پاکستان کی قومی زبان بھی نہیں آتی۔نظام الدین رحمتہ اللہ کی درگاہ کے سجادہ نشین برادران  آصف نظامی اور ناظم نظامی گزشتہ دنوں پاکستان آئے اور اس کے بعد اچانک ان کے غائب ہونے کی خبریں منظر عام پر آئیں مختلف اداروں نے ان کو ڈھونڈے کی کوشش کی بھارت سے بھی آوازیں آنے لگیں کہ انہیں تلاش کیا جائے یقینا یہ تشویش کی بات تھی اب معلوم ہوا ہے کہ دونوں صاحبان اپنے مریدوں سے ملنے اندرون سندھ چلے گئے تھے تاہم وہاں موبائل فون کی کوریج نہ ہونے کے باعث رابطے  میں نہیں تھے بھارتی حکام نے ان کے لاپتہ ہونے کے معاملے کو اچھالا تھا مگر اس سارے معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دونوں بھارتی شہری کراچی میں جن صاحب کے ہاں مقیم تھے انہوں نے بھی یہ واضح کرنے کی کوشش نہیں کی کہ  ان کے مہمان اندرون سندھ گئے ہیں سندھ حکومت کو معلوم کرنا چاہیے کہ نظامی برادران اندرون سندھ کہاں کہاں گئے اور کن مریدوں سے ملاقاتیں کیں بلاشبہ سجادہ نشین ہونے کی حیثیت سے وہ ہم سب کے لئے قابل احترام ہیں لیکن بھارتی مہمان کے بارے میں احتیاط بھی لازم ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے نام خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے قومی ائیر لائن کے سی ای او پر بدعنوانی کے الزامات لگائے ہیں پریمیئر سروس کے لئے سری لنکا سے مہنگے داموں جہاز کرائے پر لیا گیا جس میں بڑی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا گیا ایف آئی اے کی تحقیقات اور سفارشات کے نتیجے میں قومی ائیر لائن کے غیر ملکی سی ای او کا نام ای سی ایل پر ڈالا گیا بتایا جائے کہ ایک جرمن باشندے کی پی آئی اے کا سی ای او کیوں لگایا گیا قابلیت پر پورا نہ اترنے کے باوجود کیوں اسے قومی ائیر لائن چلانے کی ذمہ داری دی گئی؟300ارب روپے کے خسارے میں چلنے والی ائیر لائن کے لئے سی ای او کو 30لاکھ سے زائد کی بھاری تنخواہ پر کیوں رکھا گیا خزانہ اور ہوا بازی کی وزارتوں کے سیکرٹریوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں کیوں نہیں ڈالے گئے اس سارے معاملے کی ہڑتال اور آڈٹ کے لئے اب تک کیوں اقدامات نہیں کئے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ  بعض ہوائی اڈوں کے انتظام و انصرام کی ذمہ داریاں غیر ملکی کمپنیوں کو دئیے جانے کی اطلاعات بھی زیر گردش میں بتایا جائے کہ ان کمپنیوں کے انتخاب کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے؟۔پی آئی اے کو پھر سے باوقار' فعال اور منافع بخش ادارہ بنانے میں حکومت کیوں ناکام رہی یہ ایک بہت بڑا سوال ہے موجودہ حکومت کے اقتدار کو چار سال ہونے کو ہیں اگر کوئی حکومت چار برسوں کے اندر کسی ادارے کو تباہی سے نکال کر بہتری کی جانب نہیں لاسکتی تو اس کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے ایک سال میں میٹروبس چلا کر دکھانے والی حکومت چار سال میں پی آئی اے کو نہیں چلا سکی ہوائی اڈوں کو ٹھیکے پر دینا یا اداروں کو اونے پونے فروخت کرنا کوئی کمال نہیں ہے اس میں کسی دانشوری اور ذہانت کی ضرورت نہیں اصل بات اداروں کو بہتر بنانے کی ہے اس میں حکومت ناکام رہی۔