Get Adobe Flash player

پاک گلف تعلقات۔۔ افشاں اعجاز

جنگلی جانوروں اور پرندوں کا شکار ہر زمانے میں لوگوں کا مشغلہ رہا ہے بعض اوقات تو لوگ بھوک مٹا نے کیلئے بھی شکار کرتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ شکار تفریح کیلئے کرتے ہیں ۔ ہر دور اور ملک کے لوگ اپنی پسند کا شکار کرتے ہیں اور اس کیلئے مختلف ممالک تک جانے کیلئے بھی تیار ہو جاتے ہیں کیونکہ بعض ممالک میں لوگ شکار کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن وہاں جنگلی جانور اور پرندے میسر ہوتے ہیں نہ ہی ایسی جگہیں مثلاً جنگل ، صحرا اور کھلے میدان ہوتے ہیں جہاں لوگ شکار کرسکیں اس طرح وہ مختلف ممالک کے قوانین وضوابط پر عمل کرتے ہوئے باقاعدہ لائسنس حاصل کرکے وہاں جنگلی حیات اور پرندوں کا شکار کرتے ہیںجس کی واضح مثال عرب ممالک کے شہزادوں کی ہیں جو ہر سال پاکستان میں تلو ر کے شکار کیلئے آتے ہیں ۔ پاکستانی حکمران عرب شہزادوںکو باضابطہ شکار کی دعوت دیتے ہیں ۔ مخصوص مدت اور مخصوص علاقے میں شکار کیلئے لائسنس جاری کرتے ہیں ۔یہ عرب شہزادے صوبہ سندھ کے سرحدی اور پنجاب  و بلوچستان کے میدانی علاقوں ڈیرہ غازی خان ، رحیم یار خان ، راجن پور وغیرہ میں آکر کیمپ لگاتے ہیں اور فالکن (باز) کے ذریعے تلور کا شکار کرتے ہیں لیکن بعض مفاد پرست عناصر نے تلور کے اس قانونی شکار کو انا کا مسئلہ کا بنایا ہے اور حکمرانوں سے ذاتی مفاد اور اختلا فات کے باعث تلور کے شکار کی آڑ میں ملکی سلامتی ، استحکام اورعرب ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف رہتے ہیں ۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مفاد پرست عناصر تلور کے شکار کیلئے آنے والے عرب شہزادوں اور وفاقی حکومت کے تعلقات میں رخنہ ڈالنے اور حوصلہ شکنی کیلئے باقاعدہ مہم چلارہے ہیں تاکہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے تعلقات خراب ہوجائیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ تلور کے شکار کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے تاہم یہ عناصرتلور کے شکار کی آڑ لیکر عرب ممالک اور پاکستان کے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہ بات اظہر بن الشمس ہے کہ ان عرب شہزادوں کو باضابطہ لائسنس جاری کئے جاتے ہیں جو مخصوص ایریا میں محدود مدت کیلئے کیمپ لگا کر تلور کا شکار کرتے ہیں جو پاکستانی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنے کے ساتھ ان علاقوں میں مقامی پسماندہ آبادی کی فلاح و بہبود کیلئے بھی متعدد منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں جس میںصحت ، تعلیم ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، بے گھر لوگوں کیلئے مکانات کی تعمیر ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی شامل ہیں تاکہ ان غریب لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آسکے اور انہیں بنیادی ضروریات زندگی اور سہولیات میسر ہو جائیں اور اس پسماندہ علاقے کے لوگوں کی سماجی ومعاشی زندگی میں تبدیلی لائی جاسکے۔مثال کے طورپر 2003 ء سے اب تک تلور کے شکار والے علاقوں کے مستحق لوگوں میں شیخ خلیفہ بن زید النہیان صدر متحدہ عرب امارات اور ابو ظہبی  کے حکمرانوں کی طرف سے رمضان المبارک کے دوران مفت اشیاء ، خوراک تقسیم کی جا رہی ہیں تاکہ اس پسماندہ علاقے کے لوگوں کو اس مبارک مہینے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔باقاعدہ منصوبہ بندی اور شفاف انداز میں مستحق لوگوں میں فوڈ آئٹم تقسیم کئے گئے ۔ ہوبارہ فاؤنڈیشن ، ڈسٹرکٹ وتحصیل انتظامیہ ، ریونیو حکام ، پولیس اور معززین علاقہ کی سرپرستی میں میرٹ پر راجن پور کے غریب لوگوں تک اشیاء خوردنوش پہنچائی گئیں ۔فوڈ آئٹمز میں آٹے کے تھیلے ، گھی کے پیکٹس اور کھجور شامل تھے ۔ یہ اشیاء خوردنوش ڈیرہ غازی خان ، رحیم یار خان ، خاران اور واشوک کے پسماندہ علاقے کے لوگوں میں ہر سال رمضان المبارک میں تقسیم کی جاتی ہیں ۔ ہوبارہ فاؤنڈیشن انٹر نیشنل پاکستان نے مارچ 2005 ء میں سیلاب کے دوران راجن پور میں ہزاروں ٹن امدادی سامان متاثرین میں تقسیم کیا ۔ اس کے علاوہ کھلے آسمان تلے بیٹھے متاثرین سیلاب زدگان میں خیمے بھی تقسیم کئے گئے۔ شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے خصوصی احکامات پر خاران ، جھل مگسی ، گوادر اور تربت میں اگست تا ستمبر 2007 ء امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں جبکہ اگست 2008 ء کے طوفانی بارشوں سے متاثرہ ضلع راجن پور میں بھی اشیاء خوردنوش تقسیم کی گئیں تاکہ متاثرین کو ریلیف مل سکے ۔ 2008 کے تباہ کن زلزلہ سے کوئٹہ ، زیارت ، پشین ، قلعہ عبداللہ ، مستونگ ، سبی ، بولان ، کچلاک ، لورالائی اور گردونواح میں 200 سے زائد افراد جاں بحق اور سینکٹروں خاندان بے گھر ہوچکے اور بے یارومددگار امداد کے منتظر تھے جس پر شیخ خلیفہ بن زید نے فوری طور پر ہزاروں ٹن اشیاء خوردنوش ، خیمے متاثرہ علاقوں میں ہوبارہ فاؤنڈیشن انٹر نیشنل پاکستان کی سرپرستی میں تقسیم کرنے کا اہتمام کیا ۔ امدادی اشیاء تقسیم کرنے کے حوالے سے ایک لمبی فہرست ہے جس کا یہاں ذکر کرنامشکل ہے تاہم قارئین کی معلومات کیلئے تھوڑا بہت ذکر کرنا ضروری تھا ۔ ابوظہبی کے حکمران نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پنجاب اور بلوچستان کے تلور کے شکار کے علاقوں کے لوگوں کی ہر ممکن مدد کی ہے اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا جبکہ ہوبارہ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی طرف سے ان علاقوں میں سماجی فلاح و بہبود اور ریلیف سرگرمیاں پوراسال جاری رہتی ہیں۔قارئین! عرب ممالک کے شہزادے اگر پاکستان کے شہری علاقوں میں عوام کی سہولت کیلئے سکولز، کالجز ، ہسپتال اور فلاحی ادارے قائم کریں تو ٹھیک ہے کیونکہ اس سے ہمارے سیاستدانوں اورامیر لوگوں کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور ان اقدامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور ان عرب شہزادوں کو اسمبلی فلور سے لیکر تمام جلسوں اور اجلاسوں میں بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان تعلیمی اداروں میں اشرافیہ کے بچے پڑھتے ہیں ۔ ان ہسپتالوں میں اسی طبقہ کا علاج ہوتا ہے ۔ خوود مستفید ہو جائیں تو اعتراض اور تنقید کی کوئی بات زبان پر نہیں آتی لیکن جب رحیم یار خان ، مظفر گڑھ ، راجن پور اور دیگر پسماندہ علاقوں میں تعلیمی ادارے ، ہسپتالز بنائیں ۔ دیگر فلاحی منصوبے شروع کریں ، مقامی غریب لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کریں ۔ تلور کے غیر قانونی شکار اور تجارت کی روک تھام کریں تو یہی سیاستدان ہر فلور پر اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ معمولی سی بات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ واقعی تلور کے شکار سے ملک میں بہت بڑا بحران آجائے گا لیکن ان مفاد پرست عناصر کو عوام کی کوئی فکر نہیں ۔ یہ صرف اور صرف انتشار پھیلانا چاہتے ہیں اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔ حکومت کے ساتھ اختلافات کے باعث ملکی استحکام ، سلامتی ، خارجہ پالیسی اور برادر اسلامی ، خلیجی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیںجو قرین انصاف نہیں ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام ،سیاستدان اور میڈیا سے وابستہ افراد ان چالوں سے باخبر رہیں اور اس طرح کے الزامات اور اعتراضات کا جرأ ت مندانہ اور مدلل انداز میں جواب دیں تاکہ پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات میں رخنہ ڈالنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے ۔ ان عناصر کی ہر سازش کو ناکام بناناچاہیے۔ یہ ہم سب کی مشترکہ اور قومی ذمہ داری ہے کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔