Get Adobe Flash player

چھتیس اضلاع میں کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ سنٹرز کا قیام ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

  وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کی سائٹ پر ہیپاٹائٹس ٹریٹمنٹ فلٹر کلینک کا افتتاح  جبکہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کی مین عمارت کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ جدید مشینری اور طبی سہولتوں سے آراستہ اس فلٹر کلینک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو علاج معالجہ کی بہترین اور جدید سہولتیں ملیں گی۔ کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ میں گردے اور جگر کے امراض میں مبتلا مریضوں کو جدید علاج معالجہ میسر آئے گا اور جگر کی پیوندکاری کی سہولت بھی ملے گی۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ہیپاٹائٹس فلٹر کلینک کے افتتاح اور پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کی مین عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایسے فلٹر کلینک پنجاب کے 36 اضلاع میں جنگی بنیادوں پر بنائے جائیں گے اور یہ تمام کلینکس رواں سال کے آخر تک ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو طبی سہولتوں کی فراہمی شروع کر دیں گے۔ ان فلٹر کلینکس کیلئے مشینری ہوائی جہازوں کے ذریعے منگوانا پڑی تو منگوائیں گے اور ہرطرح کے وسائل فراہم کریں گے۔  ملک کی تاریخ کا پہلا اور منفرد پاکستان کڈنی لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ و ریسرچ سنٹر کے منصوبے پر بھی تیزی سے کام کیا جا رہا ہے اور اس کا پہلا مرحلہ رواں برس 25 دسمبر کو مکمل ہو جائے گا اور یہاں پر جگر کی پیوندکاری کا پہلا آپریشن بھی ہوگا۔یہ پاکستان کی جیت ہے۔یہاں مستحق اور غریب مریضوں کا مفت علاج ہوگا اور انہیں مفت لیورٹرانسپلانٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔  اس ہسپتال کو 14 اگست 2017 کو اپنا کام شروع کرنا تھا لیکن اس میں بعض وجوہات کی بنا پر تاخیر ہوئی ہے اور اب یہ منصوبہ اس برس کے آخر میں کام شروع کر دے گا جس کیلئے حکومت اربوں روپے فراہم کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس پراجیکٹ کا نام پنجاب کی بجائے پاکستان کڈنی لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ و ریسرچ سنٹر رکھا گیا ہے کیونکہ یہاں وادی مہران، بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں، کے پی کے برف پوش پہاڑوں پر بسنے والوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور پنجاب کے بہن بھائیوں کو علاج معالجہ کی سہولتیں ملیں گی اور اس ہسپتال میں غریب، نادار اور مستحق مریضوں کا علاج بالکل مفت ہوگا۔ دکھی انسانیت کی خدمت ایسا منافع ہے جسے ہیرے اور جواہرات میں تولا نہیں جاسکتا۔ دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے اس ادارے کے قیام میں حصہ لینے والے سب ادارے اور افراد دین و دنیا دونوں کما رہے ہیں۔  سڑکیں، فلائی اوورز، موٹر ویز، میٹروز، محلات اور دیگر انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں منافع کمایا جاتا ہے لیکن ایسے اداروں کے قیام سے ملنے والے منافع کی کوئی قیمت نہیں۔ ہیپاٹائٹس فلٹر کلینک میں کوئی ہڑتال نہیں ہوگی بلکہ تمام ڈاکٹرز اور عملہ دل و جان سے دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے ہمہ وقت موجود ہوگا اور یہ سب مسیحا ہوں گے۔میں ینگ ڈاکٹرز سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا احتجاج کا راستہ چھوڑ کر دن رات دکھی انسانیت کی خدمت کریں۔ ملتان سے 30 منٹ کی مسافت پر دور گورنمنٹ رجب طیب اردوان ہسپتال موجود ہے جہاں مریضوں کو جدید طبی سہولتیں دی جا رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ ہسپتال 100 بستروں پرمشتمل تھا جو ترک صدر رجب طیب اردوان نے پنجاب کے عوام کیلئے بنایا۔ اب ہم نے اسے 500 بستروں تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس توسیعی منصوبے کے پہلے مرحلے میں 250 بستروں کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح لدھڑ میں بھی جدید ترین ہسپتال بنایا گیا ہے جہاں مریضوں کا بے پناہ رش ہے۔ 1940 کو لاہور میں لاکھوں لوگ اقبال پارک میں اکٹھے ہوئے اور ایک علیحدہ وطن کے حصو ل کی قرارداد منظور کی۔ اب 23 مارچ کی آمد آمد ہے اور ہمیں اس دن پچھلی غلطیوں سے سبق سیکھ کر پاکستان کو ترقی کی منزل سے ہمکنار کرنے کیلئے محنت کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم کرنا ہوگا۔اگر ہم اپنے حالات کو بدلنے کا تہیہ کر لیں تو کوئی پہاڑ، سمندر ہمارے راستے میں حائل نہیں ہوسکتا۔ وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پنجاب ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہے جب صحت عامہ کی سہولتوں کے حوالے سے ہیپاٹائٹس فلٹر کلینک کا افتتاح کیا گیا ہے اور یہ فلٹر کلینک پاکستان بالخصوص پنجاب میں صحت عامہ کی کاوشوں کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی زیادہ خطرناک اورمہلک ہیں۔ اور اس کلینک میں اس کا علاج میسر ہوگا۔  میں اس کلینک کے ڈاکٹروں، نرسوں، پیرامیڈکل سٹاف سے ملا ہوں۔ اس موقع پر پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ و ریسرچ سنٹر کے بورڈ آف گورنرز کے صدر ڈاکٹر سعید اختر، صوبائی وزرائے صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، صوبائی وزیر تعمیرات و مواصلات تنویر اسلم ملک، چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ومیڈیکل ایجوکیشن، طبی ماہرین، متعلقہ حکام اور علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔