Get Adobe Flash player

ماضی کا پاکستان ۔۔۔ضمیر نفیس

 گزشتہ چند دنوں سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں سبزیاں پھل ،انڈے ،مرغی دنوں اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لوگ چیخ رہے ہیں اور انتظامیہ خاموش ہے کسی کچھ خبر نہیں کہ اچانک مارکیٹ کو کیا ہوا بعض لوگوں کے مطابق جب سے چمن اور طور خم بارڈر کھلے ہیں اشیائے کی قیمتیں بڑھی ہیں تاجروں نے افغانستان کی ڈیمانڈ پوری کی ٹھان لی ہے جبکہ بعض لوگوں کا موقف ہے کہ ذخیرہ اندوزوں نے دام بڑھانے کیلئے اشیاء کا ذخیرہ کیا ہے اور مارکیٹ کو بہت کم مال سپلائی کیا جارہا ہے بہرحال وجوہات کچھ بھی سہی حقیقت یہی ہے کہ سبزیوں پھلوں اور مرغی انڈے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ انتظامیہ نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے جو نرخ مقرر کئے ہیں وہ محض فہرستوں پر ہیں ان کے مطابق اشیاء فروخت نہیں کی جارہی ٹماٹر کا حکومت نے نرخ 80روپے کلو مقرر کیا ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ ایک سو بیس روپے سے ایک سو پچاس روپے کلو تک فروخت ہورہا ہے پیاز 35سے 40روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے انتظامیہ نے اس کا نرخ 25روپے کلو مقرر کیا ہے آلو 30روپے کلو بک رہے ہیں حکومت نے اسکی قیمت بیس روپے کلو مقرر کی ہے سٹابری کا سرکاری نرخ ایک سو روپے کلو ہے جبکہ اسے ایک سو پچاس روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے مارکیٹ میں سیب کا نرخ 220روپے کلو ہے سرکار نے  180روپے مقرر کیا ہے۔ ہمارے ہاں تاجروں اور ریستوران مالکان کو آزادی ہے یہ لوگ اپنی مرضی کے نرخ مقرر کرتے ہیں مارکیٹ کی طرح آپ کسی ریستوران میں چلے جائیں کسی بھی کٹیگری کے ریستوران میں جائیں مالک نے پر کھانے کا نرخ اپنی مرضی سے مقرر کررکھا ہے سو فیصد اور پچاس فیصد کے حساب سے منافع وصول کیا جارہا ہے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں اسی طرح پاکستان کے کسی بھی شہر میں چلے جائیں ٹیکسی اور رکشے والا اپنی مرضی کے کرائے وصول کرے گا سوزوکی اور ویگن والوں کیلئے حکومت نے جتنے کرائے مقرر کررکھے ہیں وہ بھی اسکی پاسداری نہیں کرینگے ہر طرف ایک لو ٹ مار ہے من مرضی کے سودے ہیں آپ کی جیب اجازت دیتی ہے تو قبول کریں نہیں تو راستہ لیں۔ یہ صورتحال دیکھ کر ہمیں ماضی کا پاکستان زیادہ مہذب زیادہ قانون پسند اور زیادہ صاف ستھرا محسوس ہوتا ہے جن دنوں ٹانگے چلتے تھے چار سواریوں کی اجازت تھی اور اس پر سختی سے عمل ہوتا تھا کسی کوچوانوں کو اجازت نہ تھی کہ زخمی یا بیمار گھوڑے گھوڑی کو تانگے میں جوتے جوں ہی شام ہوتی وہ تانے کی بٹیاں روشن کردیتا بعد ازاں جب ٹیکسی کا آغاز ہوا تو ان پر میٹر لگے ہوئے تھے ڈرائیور سواری کے بیٹھتے ہی باہر نکل کر میٹر ڈائون کرتا اس کے بعد گاڑی سٹارٹ کرتا آج ٹیکسی ڈرائیور کی من مانی ہے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ وہ سواری سے کتنا کرایہ وصول کررہا ہے ماضی کے پاکستان میں تجاوزات نہ تھے خوف و ہراس نہ تھا دہشتگردی نہ تھی لوٹ مار نہ تھی منشیات نہ تھی آج یہ سب کچھ ہے ہم نے ترقی کے بعد زوالی کی طرف سفر کا آغاز کیا ہے جبکہ دوسرے ممالک ابتری سے بہتری کی جانب سفر کرتے ہیں ہمارا معاشرہ اخلاقی اعتبار سے بھی بہت پیچھے چلا گیا ہے حالانکہ ماضی کے مقابلہ میں آج ہمارا معاشرہ تعلیم یافتہ ہے آج ہمارے ہاں کمپیوٹر کی فراوانی ہے عالمی سطح پر ہمارے رابطے تیز تر ہیں لیکن جدید دور کے باوجود ہم پستیوں میں گھر چکے ہیں غربت اور دولت تو آنی جانی شے ہے مگر جو اخلاقی بگاڑ ہمارے ہاں پیدا ہوچکا ہے اسے کیونکہ درست کیا جاسکے گا حکومتیں تو بگاڑ پیدا کرنے والوں میں شامل رہی ہیں ان سے بہتری کی توقع بحث ہے۔