Get Adobe Flash player

بنگلہ بھارت دفاعی معاہدے پر بنگالی عوام کی مخالفت۔۔۔ریاض احمد چوہدری

  بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے دورہ بھارت کے موقع پر بھارتی وزیراعظم کے ساتھ سول نیوکلیئر انرجی سمیت 22 معاہدوں پر دستخط کیے جبکہ نریندر مودی نے بنگلہ دیش کیلئے آسان شرائط پر 4.5 ارب ڈالر قرض کی فراہمی کا بھی اعلان کیا ہے تاہم دونوں ملکوں کے درمیان کئی برسوں سے جاری دریائے تیستا کے پانی کے تنازع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا البتہ بھارتی وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ اس مسئلے کا بھی جلد حل نکال لیا جائے گا۔ اس موقع پر 1971کی جنگ میں بنگلہ دیش کے مارے جانے والے افراد کی یاد میں منعقدہ تقریب کے موقع پروزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ہمراہ  پاکستان کا نام لیے بغیر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب امن چاہتے ہیں لیکن ایک قوم دہشتگردی پھیلانا چاہتی ہے۔ ایک ملک دہشتگردی پھیلا اور اسکی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔جنوبی ایشیاء میں ایک ہی نظریہ ہے جو دہشتگردی کو پھیلاتا اور اسکی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ایسانظریہ جس کی ترجیح انسانیت نہیں بلکہ دہشتگردی اور انتہا پسندی ہے۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پر عزم ہیں اور ہمارے دوستانہ و تعاون پر مبنی تعلقات سے پورا جنوبی ایشیاء مستفید ہوگا۔نریندر مودی نے بنگلہ دیش کیلئے دفاعی آلات کی خریداری کیلئے 50کروڑ ڈالر کا بھی اعلان کیا۔ بھارت اوربنگلہ دیش کے درمیان تقریباً50 سال کے بعد مسافر ٹرین سروس کا دوبارہ آغاز ہو گیا۔بھارت کے شہر کولکتہ سے بنگلہ دیش کے شہر کھلنا کے درمیان چلنے والی فرینڈشپ ایکسپریس ٹرین کی آزمائشی سروس کا افتتاح بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے دورہ بھارت کے دوران دہلی میں کیا۔ایک جانب بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت ہے تو دوسری جانب بھارت میں انتہا پسند نریندر مودی حکمران ہیں۔ دونوں  پاکستان کے ساتھ معاندانہ اور متعصبانہ جب کہ آپس میں دوستانہ اور ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں۔اس طرح نریندر مودی اور شیخ حسینہ واجد کی سوچ میں پاکستان کے خلاف ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہا ہے۔شیخ حسینہ واجد 1971ء کی جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینے والے محب وطن افراد پر مقدمے چلا کر انھیں سزائیں دے رہی ہیں۔ جس شخص نے کسی بھی حوالے سے پاکستان کا ساتھ دیا وہ اسے معاف کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ پاکستان کے خلاف یہی معاندانہ رویہ بنگلہ دیش اور بھارت کو ایک دوسرے کے قریب لے آیا ہے اور دونوں کے درمیان مختلف معاہدے طے پا رہے ہیں۔نریندر مودی نے جون 2015ء  میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا، ڈھاکا یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا تھا۔ اس موقع پر انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ بنگلہ دیش کے قیام میں بھارتی فوجیوں کا خون بھی شامل ہے جو مکتی باہنی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑے۔ مودی نے کہا تھا کہ جب بنگلہ دیش کی علیحدگی کے لیے دہلی میں ستیہ گرہ تحریک چلی تھی تو وہ بھی ایک نوجوان رضاکار کے طور پر اس میں شامل ہونے آئے تھے۔اس موقع پر سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو پاکستان توڑنے اور بنگلہ دیش کی علیحدگی میں فعال کردار ادا کرنے اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے پر بنگلہ دیش لبریشن وار ایوارڈ دیا گیا جسے نریندر مودی نے وصول کیا۔ گویا حسینہ واجد حکومت نے سقوط ڈھاکا میں بھارت کے گھناؤنے کردار کی تائید کر دی تھی۔مودی نے جو پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے شاید اسے یہ بات کہتے  ہوئے خود بھی شرم محسوس ہو رہی ہوگی کہ دہشت گردی پاکستان پھیلا رہا ہے۔ مگر ان تلوں میں تیل کہاں۔ یہ سب جانتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء میں دہشت گردی کا ذمہ دار صرف اور صرف بھارت ہے۔ سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور خود بنگلہ دیش بھی بھارتی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ اب حسینہ واجد یہ بات بھول گئی ہیں تو اور بات ہے۔ پاکستان کے ساتھ تو بھارت کو اللہ واسطے کا بیر ہے۔ بقول مودی اگر پاکستان دہشت گرد ملک ہے تو پھر یہ کلبھوشن کون ہے اور پاکستان میں کیا کر رہا تھا۔ سرحد پر گولہ باری کو ن کر رہا ہے۔ بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو ہتھیار کون فراہم کر رہا ہے۔ کراچی اور پشاور میں بدامنی کون پھیلا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے خلاف 20 رکنی جماعتی اتحاد جس کا نعرہ سب سے پہلے بنگلہ دیش ہے وہ بنگلہ دیش کو غیر ملکی خصوصاً بھارتی مداخلت سے پاک رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ سی پیک میں شمولیت کا بھی خواہش مند ہے۔ اسی لئے بھارت بنگلہ دیش کو قرضوں، ایٹمی تعاون اور دیگر شعبوں میں معاہدوں کے ذریعے التفات برت رہا ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کو سی پیک اور پاکستان کے قریب ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ حسینہ واجد اب مشکل میں ہیں کیونکہ وہ بھارت کے دباؤ سے نکلنا بھی چاہیں تو نہیں نکل سکتیں جبکہ ان کے عوام کچھ اور چاہتے ہیں۔ جہاں تک بھارت بنگلہ دفاعی معاہدے کا تعلق ہے تو خود بنگلہ دیش میں اس معاہدے کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے حکومت کو خبردار کیا کہ بنگلہ عوام اس معاہدے کو قبول نہیں کریں گے۔ بی این پی کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری جنرل راہول کبیر رضوی نے کہا ہے کہ اگربھارتی خواہشات  کے مطابق یہ معاہدہ طے پایا تو ہم سمجھیں گے کہ بنگلہ وزیر اعظم نے بنگلہ دیش کی سالمیت کو بھارت کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے اور بنگالی عوام اس کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ہم اپنی آزادی کھو کر بھارتی امنگوں کے  مطابق اس معاہدے پر عمل درآمد کریں تو اس کا نتیجہ بہت ہولناک ہوگا۔ عوام اور قومی سلامتی کے ادارے اس معاہدے کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے اور اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔