Get Adobe Flash player

دو ہزار سترہ کی پیپلز پارٹی اور آئندہ انتخابات۔۔۔محمد یوسف بھٹی

جس ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی وہ غیر ملکی یونیورسٹیوں کا فارغ التحصیل ایک کرشمہ ساز شخصیت کا حامل خوبرو ، وجیہ نوجوان ، سیاست کے اسرار و رموز سے اچھی طرح واقف ، اس کی انگلیاں لوگوں کی دکھتی رگوں پر رہتیں، بھٹو ہی تھا جس نے سیاست کے گھر سے وڈیروں اور جاگیرداروں کو راندہ درگاہ کرتے ہوئے ایک انتہائی مضبوط فکر ، فلسفے اور نظریات کی بنیاد پر سیاست کرتے ہوئے سیاست کی باگ ڈور کو گلیوں، بازاروں اور ملو ں میں کام کرنے والے مزدوروں و کسانوں عام آدمی کے ہاتھوںدے کر کہا '' عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں''شروع سے آخر تک سیاسی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے کبھی کوئی کرپشن یا بد امنی کا داغ اپنے دامن پر نہ لگنے دیا ۔ قومی خدمات سے بھرا یہ شخص جس کی عوام ، جمہوریت اور وطن سے محب لازوال تھی وہ انتہائی زیرک سیاستدان تھا جس کی خدمات کو ہر سطح پر سراہا گیا وہ کشمیر کی آزادی کیلئے ہراول دستہ کا کمانڈر، اس کی چین کے ساتھ دوستی، سب سے بڑی خدمت ٹھہری۔ بھٹو نہ رہا تو اس کی بیٹی بے نظیر نے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھانے کا جھنڈا تھام کر منزل کی طرف سفر شروع کر دیا۔اپنے والدکی طرح نے نظیر بھٹو نے بھی اپنے آپ کو وطن کی محبت اور جمہوریت کے تسلسل کیلئے وقف کر دیا۔ دوسری طرف کچھ غیر مرئی طاقتوں نے اسے اپنی راہ کا پتھر اور کانٹا سمجھ کر اس کی آواز ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دینے کی ابتداء کی، محلاتی سازشوں کے بزرجمہروں نے بھی اپنے گھوڑے دوڑا دئیے۔ بے نظیر بھٹو(شہید)اپنے باپ کے مشن کیلئے بہت پرخلوص تھی مگر محلاتی سازشوں کا عروج پوری دنیا نے دیکھا کہ غیر مرئی قوتوں نے بھٹو کی طرح بے نظیر کو بھی راہ سے ہٹا دیا ، اس کی آواز ہمیشہ کیلئے بند ہوگئی۔ یہ صدمہ پیپلز پارٹی کے جیالوں کیلئے انتہائی دردناک تھا، جب بھٹو کو شہید کیا گیا تو جیالوں پر قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی، ان کے ساتھ انتہائی گھٹیا سلوک روا رکھا گیا، پابند سلاسل رکھ کر قید و بند کی صعوبتیں دی گئی۔ انہیں توڑنے کی بہت کوششیں ہوئیں جو رنگ نہ لاسکیں اور نہ ہی ان کے پختہ عزم کو متزلزل کیا جاسکا۔ پھر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جیالوں نے آصف زرداری کو شہید کا خاوند اور بلاول کا باپ سمجھ کر ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ اس کی سربراہی کی چھتری تلے جمع ہوکر سیاسی میدان میں آنا فرض خیال کیا، یہی وجہ تھی کہ 2008میں جیالوں نے پیپلز پارٹی کے سر پر مسند اقتدار کا تاج رکھ دیا اور پھر صدارت و وزارت عظمیٰ دونوں پیپلز پارٹی کے حصہ میں آگئیں۔ الیکشن کی جیت سے جیالے پاگل ہورہے تھے، پورے ملک کے جیالے اور کروڑوں عوام جن میں اکثریت محروم طبقوں کی ہے وہ سوچنے لگے اب ہماری تمام مشکلیں حل ہوں گی ، محروم اور مایوس لوگ زرداری کو مسیحا اور نجات دہندہ سمجھ کر خوشی سے نہال ہونے لگے لیکن لوگ اس وقت انگشت بدنداں رہ گئے جب انکی سوچوں کے مطابق کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہ ہوا۔ وہ بہت مایوس اور بے قرار رہنے لگے، جیلوں میں صعوبتیں سہنے اور اذیتیں برداشت کرنے والے سوچتے رہ گئے کہ اب ان کی پذیرائی ہوگی مگر انہیں مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ بھٹو اور ان کی بیٹی کا عوام ، محروم طبقوں اور جیالوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رہتا لیکن زرداری کے درباریوں تک نے بھی کبھی عام ورکر تو عام رہا سینئر اراکین کو بھی اپنے پاس پھٹکنے دیا اور نہ ہی ان کے مسائل کی طرف توجہ دی۔ برعکس اس کے زرداری صاحب کی سربراہی میں بہت سے نئی کہانیاں جو کرپشن، بدعنوانی اور مفاہمتی پالیسی پر مشتمل تھیں، منظر عام پر آگئیں۔ جیالے بہت بد دل تھے اور مایوس بھی، اسی وجہ میں 2013کے عام انتخابات میں پورے پنجاب میں اپنی پارٹی کی بجائے نون لیگ اور پی ٹی آئی کو جتوا کر پارلیمنٹ میں بھجوا دیا اب زرداری صاحب کوششیں تو بہت کر رہے ہیں اور بڑے بڑے دعوے بھی وہ کہتے ہیں '' 15دنوں کے اندر جب میں لاہورمقیم تھا تو ن لیگ اور پی ٹی آئی والوں لرزہ طاری ، ٹانگیں کانپتی اور ہونٹ خشک رہے'' یہاں لوٹا ازم کی فصل بہت زرخیز ہے۔ اب زرداری صاحب کا پانامہ پر دارومدار تھا خان صاحب بھی اسی انتظار میں تھے سیاسی میدان میں شہ سواری کرنے کیلئے انہوں نے بھی گھوڑے تیار کر رکھے تھے ، بلاول بھی پرعزم ہیں کیونکہ اس کے ساتھ باپ کا تجربہ ہے وہ پورے ملک میں پارٹی کی تشکیل نو میں مصروف لیکن یاد رہے پنجاب میں پیپلز پارٹی کو ن لیگ اور پی ٹی آئی کے ساتھ مقابلہ کر کے جیتنا ہوگا لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں کیونکہ ن لیگ نے بھی اپنے دور حکومت میں خدمات کی انتہا کر رکھی ہے، کسانوں کی بہتری کیلئے سبسڈیز دی گئی ہیں مزدوروں کی تنخواہیں بڑھانے کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کی کارکردگی میں اضافہ کرتے ہوئے تعلیمی میدان میں بہت کام کیا ۔