Get Adobe Flash player

آرمی چیف کا فکر انگیز خطاب۔۔۔ضمیر نفیس

جی ایچ کیو میں پہلا موقع تھا کہ ایک سو سے زائد یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور نوجوان نسل سے وابتہ افراد جمع ہوئے سیمینار کا موضوع تھا ''انتہا پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوان نسل کا کردار ''متعدد دانشوروں نے سیمینار سے خطاب کیا تاہم کلیدی خطاب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا تھا جنہوں نے کھلے اور ڈھکے چھپے لفظوں میں بہت کچھ کہہ دیا انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف موثر آپریشن کے باعث اب پاکستان میں دہشتگردوں کیلئے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے پروپیگنڈے کے باوجود بحیثیت قوم پاکستان نے دہشتگردی کو مسترد کیا ہے یہ ہمارے سماجی اور مذہبی اقدام کی مضبوطی کا منہ بولتا ثبوت ہے دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا نہیں کر سکتی ہمارے ہمسائے میں بھارت انتہا پسندی کے آگے اس حد تک بے بس ہوچکا ہے کہ یہ ایک نئی روش اختیار کرچکی ہے بھارت میں نفرت مرکزی دھارے کا روپ اختیار کرچکی ہے اور یہ وہاں قومی تشخص کو مجروح کررہی ہے آر ایس ایس کی ہندووتوا انتہاپسندی اور ان کی گاڈ رکھشا فلسطینیوں کا احساس محرومی مغربی داد حکومتوں میں مساجد اور گردواروں کی بیحرمتی اور نسل پرستی کا عفریت سب انتہا پسندی کا مظہر ہیں آرمی چیف نے کہا کہ ہم باآسانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ انتہا پسندی کا مظہر ہیں  جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ناقص حکمرانی اور انصاف سے محرومی نوجوانوں میں انتہا پسندی کا سبب ہے۔ جنرل باجوہ نے کہا کہ ہم نے ایک قوم کے طور پر دہشتگردی کی لعنت کے خلاف بہادری سے مقابلہ کیا ہے ہماری مسلح افواج نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے کر ایک تاریخ رقم کی ہے پوری دنیا ہماری ان کامیابیوں کا اعتراف کررہی ہے مجھے دنیا کی سب سے بہترین بہادر اور پر عزم فوج کا سپہ سالار ہونے پر فخر ہے مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے انہوں نے کہا کہ آج ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ کے اہم ترین مرحلے میں ہیں اب آپریشن ردالفساد  کے تحت باقی رہ جانے والے خطرات کے خلاف ایک سنجیدہ آپریشن کررہے ہیں ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ دہشتگردی کے اسباب کا ازالہ اور قومی ایکشن پلان پر اسکی روح کے مطابق عمل کرنا ہے۔جنرل باجوہ نے ایک غور طلب بات کی کہ جب فوج دہشتگردوں سے لڑتی ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اور معاشرہ دہشتگردی و انتہا پسندی سے لڑتے ہیں ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی پوری تقریر اہم نکات پر مشتمل ہے جس پر حکومت اور مذہبی و علمی حلقوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔جنرل باجوہ نے ناقص حکمرانی اور استحصالی کا ذکر کیا ہے تمام تر خرابی غربت اور معاشی بدحالی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے معاشی ابتری سے دوچار انسانی قانون کی کیا پروا کرے گا اس کا تو خدا پر ایمان بھی کمزور پڑنے لگتا ہے معیشت اور روئی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خالق نے روزے کا کفارہ بھی دو افراد کو کھنا کھلاناقرار دیا ہے اور کھانا بھی وہ جو آپ خود کھاتے ہیں روزہ حقوق اللہ ہے مگر کفارے میں حقوق اللہ نہیں بلکہ بندوں کے حقوق ہیں ان کیلئے روٹی ہے۔ انتہاپ سندی کو روکنے کیلئے اچھی حکمرانی قائم کرنی ہوگی معاشرے سے ناانصافی کا خاتمہ کرنا ہوگا انتہا پسندی اگلے مرحلے میں دہشتگردی کا روپ اختیار کرتی ہے جنرل صاحب نے درست کہا بھارت سرکار اور بھارتی معاشرہ انتہا پسندی کے آگے جھک رہا ہے ہاں یہ فروغ پارہی ہے جبکہ ہمارے ہاں اس کے خلاف شعور بڑھ رہا ہے بھارت کی انتہا پسندی ایک وقت آئے گا اپنے معاشرے کیلئے عذاب بن جائے گی۔