Get Adobe Flash player

پاک چین بے مثال دوستی کے ثمرات۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 پاکستان اورچین کی باہمی دوستی مضبوط معاشی تعلقات میں بدل چکی ہے'ہر گزرتے لمحے دونوں ممالک کی دوستی کا رشتہ مضبوط سے مضبوط ہو رہاہے'چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے دروازے کھول دئیے ہیں' چین کی پاکستان میں 55ارب ڈالر کی سرمایہ کاری دونوں ممالک کی مخلصانہ دوستی کی اعلی مثال ہے'سی پیک کے تحت منصوبوں کی تکمیل سے حقیقی معنوں میں خطے کی تقدیربدلے گی اور سی پیک کے تحت لگنے والے منصوبوں سے پاکستان میں ترقی و خوشحالی کادوردورہ ہوگا ' وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے  دورہ چین کے دوران بیجنگ میں کہا کہ چین نے اس وقت پاکستان کے ساتھ دوستی کا حق ادا کیا ہے جب ہمیں دہشت گردی اور توانائی بحران کا سامنا تھا۔چین کی دوستی ہر پاکستانی کی متاع عزیز ہے۔ دونوں ملک ترقی،خوشحالی اورامن کی منزل کے اہم شراکت دار ہیں۔ چین نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں دنیا کو پر امن اورخوشحال مستقبل کی امید دی ہے اورپاکستان امن اورخوشحالی کے چینی ماڈل سے بے حدمتاثر ہے۔ون بیلٹ ون روڈ فورم کے انعقاد پر شہباز شریف نے کہا کہ میں چین کی قیادت کو مبارکباددیتاہوں اورپاکستان ون بیلٹ ون روڈ فورم کے تاریخی اقدام کی بھرپور حمایت کرتاہے۔ون بیلٹ ون روڈ سے چین کا ایشیاء کے دیگر ممالک،یورپ اورافریقہ تک مربوط رابطہ ممکن ہو سکے گا۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کی تکمیل سے خطے میں تاریخ کا دھارا بدل جائے گا۔ ہماری حکومت صرف چین کی تعریف ہی نہیں کرتی بلکہ بہت کچھ سیکھنے کی بھی کوشش کرتی ہے۔ سی پیک چین کے صدر، وزیراعظم اور حکومت کا پاکستان کیلئے ایک عظیم تحفہ ہے اور پاکستانی قوم چین کے اس تاریخ ساز تحفے کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔سی پیک کے منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہیںاور دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے معاشی تعاون کا مظہر ہیں اور اس تاریخی منصوبے سے پاک چین تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کی تکمیل سے خطے میں تاریخ کا دھارا بدل جائے گا اور پاکستان سمیت خطے میں مختلف ممالک کی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس عظیم منصوبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور انتہاپسندی کے رجحان کا خاتمہ ہوگا۔  چینی حکمرانوں نے  وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کے ترقیاتی وژن کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مثالی اقدامات کئے ہیں پنجاب میں شہبازشریف کی متحرک قیادت میں سی پیک کے منصوبوں پر انتہائی برق رفتاری سے کام کیا جا رہا ہے۔ شہبازشریف اور ان کی ٹیم کے کام کرنے کی غیر معمولی رفتار سے بے حد متاثر ہیں۔اب چین میں ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کا موازنہ ''پنجاب سپیڈ'' سے کیا جا رہا ہے۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور اور پاک چین معاشی تعلقات میں اضافے کیلئے وزیراعلیٰ شہبازشریف کا متحرک کردار لائق تحسین ہے۔  وزیراعلیٰ شہبازشریف نے صوبے کو بے مثال ترقی دی ہے اورشہبازشریف کے عوام کی فلاح کیلئے اقدامات اور پروگرام انقلابی نوعیت کے ہیں۔اگرچہ چینی قوم بہت محنتی اور انتھک ہے لیکن شہبازشریف ہم سے بھی زیادہ محنتی اور انتھک ہیں۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے پنجاب میں منصوبوں کو مثالی رفتار سے آگے بڑھایا ہے اورچین میں وزیراعلیٰ شہبازشریف کی کام کرنے کی رفتار کو ''پنجاب سپیڈ'' کا اعزاز ملا ہے اوریہ پنجاب سپیڈ نہیں بلکہ ''شہباز سپیڈ'' ہے۔وزیراعلیٰ شہبازشریف کی قیادت میں پنجاب کا مستقبل روشن اور تابناک ہے۔پاکستان اور چین ترقی اور خوشحالی کے سفر میں قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔چین پاکستان کاانتہائی قابل اعتماد عظیم دوست ہے۔ پاکستان کی موجودہ قیادت چین کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔ پاکستان اورچین کی دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندرسے گہری ،شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ پاک چین دوستی آزمائش کی ہر گھڑی پر پورا اتری ہے۔ پاکستان اورچین کی موجودہ لیڈرشپ کے دور میں دونوں ملکوں کے مابین تعلقات مستحکم ہوئے ہیں۔ پاک چین دوستی سود مند معاشی تعلقات میں بدل چکی ہے۔ چین پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ چین اور پاکستان کے عوام باہمی احترام اور محبت کے رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔چین نے پاکستان کے ساتھ دوستی کا حق نبھایا ہے۔ ِسی پیک کے تحت پاکستان بھر میں منصوبے تیزی سے مکمل کئے جا رہے ہیں۔ پوری دنیا میں بھی سی پیک کا ڈنکا بج رہا ہے۔سی پیک کے مثبت اثرات پاکستان میں ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔پاکستان کے عوام چین کی قیادت اور حکومت کی محبت، خلوص اور ایثار پر شکرگزار ہیں۔چین نے سفارتی، سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بھرپور حمایت کی ہے۔پاکستان اور چین کی دوستی عالمی سطح پر ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ 1951میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کا باقاعدہ آغاز ہو ا اور پاکستان کو سب سے پہلے چین کو تسلیم کرنے والے ممالک میں شامل ہونے کا گراں قدر اعزاز بھی حاصل ہے۔ 1962ء کے چائنہ ہند سرحدی تنازع میں پاکستان نے چین کی غیر مشروط حمایت کی اور پھر محبتوں کا سلسلہ دراز ہو تا چلا گیا ۔ 1978ء میں قراقرم ہائی وے کی تعمیر 1982میں پاک چین سرحد پر درہ  خنجراب کا افتتا ح ، دو سال بعد چینی صدر لی ژیان نیان کا دورہ پاکستان، 1996ء میں صدر جیانگ ژیمن کی آمد، 2002ء میں گوادر ڈیپ سی پورٹ کی ابتدائی تعمیر کا آغاز، 2008ء میں دونوں  مما لک کے درمیان آزادانہ تجارت کا معاہدہ ، 2010ء کے سیلاب میں چین کی طرف سے 260ملین ڈالر کا عطیہ، 2013میں گوادر پورٹ کی تعمیر کے لیے چین سے باضابطہ معاہدہ اور 2015ء میں چینی صدر ژی جن پنگ کا تاریخی دورہ پاکستان، 51معاہدوں پر دستخط اور 46ارب ڈالر کے اقتصادی پیکج کا اعلان۔یہ دوستی آہنی بھائی چارے میں ڈھل چکی ہے ۔ پاکستان اور چین کی قیادت نے اعتماد اور یقین کے ساتھ سی پیک جیسے گیم چینجر معاہدے پر عملدرآمد کا آغاز کیا۔ 46 ارب ڈالر کے پیکج کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی جس سے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں بجلی گھر' روڈز اور انفراسٹرکچر کے دیگر منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں۔ سی پیک کا منصوبہ عام آدمی کی ترقی ' اس کی زندگی میں خوشحالی کا انقلاب لانے کا منصوبہ ہے جس کے خوشگوار معاشی اثرات صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں محسوس کئے جائیں گے۔ گوادر کو براہ راست چین کے شہر کاشغر سے منسلک کرنے والے تاریخی منصوبے سی پیک سے ملک کے تمام صوبوں کویکساں معاشی فوائد حاصل ہوں گے اور ملک بھر میں 8لاکھ سے زائد نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیداہوں گے۔10 سے 12 سال کی مدت میں مکمل ہونے والے منصوبے سی پیک میں ہزاروں کلومیٹر سڑکیں' ریلوے ٹریک اور گوادر میں دنیا کے جدید ترین ایئرپورٹ کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ سی پیک پراجیکٹ میں 33 بلین ڈالر صرف انرجی پراجیکٹس کے لئے مختص ہیں۔کول ہائیڈل ونڈ اور شمسی توانائی کے ذریعے 10400میگا واٹ بجلی کی پیداوار کے منصوبے جلد تکمیل کے قریب ہیں (ان میں 1320میگاواٹ پورٹ قاسم کو ل پاور پلانٹ، 660میگا واٹ کا حبکو پاور پراجیکٹ، 1320میگا واٹ کا ساہیوال کول پاورپلانٹ، 300میگا واٹ کا گوادر کول پاور پلانٹ، 100میگا واٹ کا یو ای پی ونڈ فارم، 50میگاواٹ کا سچل ونڈ فارم، 870میگا واٹ کا سکی کناری ہائیڈرو پاور سٹیشن، 720میگاواٹ کا کاروت ہائیڈرو پاو رسٹیشن ، 50میگا واٹ ہائیڈرو چائنہ ونڈ فارم اور50میگاواٹ کا جھمپر ونڈ فارم ،1320میگا واٹ کا تھر پول بلاک 1پاور پلانٹ، 1320میگا واٹ کا اینگرو تھرکول پاور پلانٹ 1320میگا واٹ کا تھر بلاک 6 اور 1000میگاواٹ کا قائد اعظم سولر پارک شامل ہیں۔ مٹیاری لاہور 600کے وی اور مٹیاری فیصل آباد 600کے وی ٹرانسمیشن اس کے علاوہ ہیں) چین کی معاونت سے تھرمل پاور پراجیکٹ 12705میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی ۔وطن عزیز پر کئی دہائیوں سے چھائے اندھیرے چھٹنے کو ہیں۔ امید کی روشنی اندھیرے کو تیزی سے نگل رہی ہے۔ یہ تاریخ کا سفر ہے۔ پاکستان کی تعمیروترقی کی تاریخ کا سفر۔ کچھ لوگ اس سفر میں شامل ہو کر تاریخ کا حصہ بن جائیں گے اور اندھیروں کے کچھ متلاشی اپنی ہی تیار کی ہوئی سازشوں کی اندھی گلی میں گم ہو جائیں گے۔ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ کو کس کے ساتھ تاریخ کا سفر طے کرنا ہے۔