Get Adobe Flash player

اورنج ٹرین منصوبہ رکاوٹیں دور کریں۔۔۔جاوید اقبال

موجودہ دور کی تیز ترین ترقی ذرائع آمدورفت برقی طاقت اور ذرائع مواصلات کی مرہون منت ہے ان تین عناصر کی غیر موجودگی میں کوئی ملک ترقی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔بلکہ ترقی کیلئے یہ تین عناصر ایک مثلث کی مانند ہیں ان میں سے کوئی ایک سہولت بھی میسر نہ ہو تب بھی ترقی کا پہیہ چل نہیں سکتا۔ پاکستان گزشتہ بیس سال کی دہشت گردی  کرپشن اور لاقانونیت سے انتہائی سخت نقصان اٹھا چکا ہے۔ اب عسکری اور سیاسی قیادت نے مل جل کر ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنا دیا ہے جس سے پاکستان ترقی کی راہ پر چل نکلا ہے۔ بہت ساری رکاوٹوں کے باوجود ترقی کا یہ سفر جاری ہے موجودہ حکومت نے ترقی کی منزل کو پالینے کیلئے ذرائع آمد و رفت کے منصوبوں پر برق رفتاری سے کام جاری کررکھا ہے چین سے لے کر گوادر تک موٹروے کی تکمیل نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی ترقی کی نوید ثابت ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرا اہم پہلو برقی طاقت کا ہے ۔حکومت موٹرویز کے ساتھ ساتھ بجلی کے منصوبوں پر بھی پوری توجہ سے عمل درآمد کررہی ہے' انشاء اللہ ایک سال کے اندر بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا جس سے ہمارے ملک کی تمام ضروریات با آسانی پوری ہو جائیں گی۔ ذرائع آمد و رفت میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ملک کے ہر بڑے شہر میں میٹرو بس کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں ملتان  لاہور اور اسلام آباد کے منصوبے مکمل ہو کر عوام کی خدمت میں مصروف ہیں شہروں میں سفر کی مشکلات بہت بڑھ چکی ہیں ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے اس طرح کے جدید منصوبے ہی کامیاب ہو سکتے ہیں۔جن شہروں میں میٹرو بس چل رہی ہے ان شہروں کے لاکھوں شہری نہایت سستی اور با وقار بس سروس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں بڑے شہروں میں ایسے سفری منصوبوں کی اشد ضرورت ہے لاہور جیسے بڑے شہر میں میٹرو بس کے باوجود اب بھی لوگوں کو سفر میں مشکلات درپیش ہیں لہذا ان مشکلات کو دورکرنے کے لیے لاہور میں اورنج لائن ٹرین  منصوبہ متعارف کروایا گیا اس منصوبہ پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے لیکن کچھ ایسے عناصر جو اس ملک کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں اور وہ غیر ملکی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں نام نہاد این جی اوز کا لبادہ اوڑھ کر اس منصوبہ کی مخالفت کررہے ہیں ان عناصر کی سرپرستی ہمارے غیر ملکی دشمن کررہے ہیں۔ جو یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان میں امن اور ترقی کی راہیں کھلیں دوسرے ایسے شکست خوردہ سیاسی یتیم ہیں جو اپنی مردہ سیاست کو بچانے کے لیے حکومت کے ان حیران کن منصوبوں کی مخالفت کررہے ہیں۔ اور طرح طرح سے ان منصوبوں کیلئے رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے ہیں یہ سیاسی شعبدہ باز حکومت پر الزامات لگا کر یا نت نئے اعتراضات پیدا کرکے حکومتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے ہیں انہیں حکومت کا کوئی کام ٹھیک نظر نہیں آتا۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ حکومت کو کوئی ایسا اچھا کام نہ کرنے دیا جائے جس سے حکومت کی سیاسی ساکھ اور مستقبل شاندار بن سکے یہ لوگ بھی غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ جمہوریت  میں تنقید عوام اور اپوزیشن کا حق ہوتا ہے لیکن مخالفت برائے مخالفت ملک دشمن ہی کرتے ہیں۔ محب وطن شہریوں کا یہ کام ہرگز نہیں ہوتا۔ لاہور میںمیٹرو بس کی شاندار کامیابی اور عوامی پذیرائی کے بعد اورنج ٹرین کا منصوبہ نہایت جوش و خروش اور برق ر فتاری کے ساتھ شروع ہوا تھا جسے پنجاب حکومت ریکارڈ وقت میں مکمل کرکے عوام کو سہولت پہنچانا چاہتی تھی اس منصوبہ کو بد نیتی کی بناء پر روکنے اور الجھانے کیلئے لاہور کے آثار قدیمہ کی تباہی کا بہانا بنا کر اس منصوبہ کو عدالت میں لے جایا گیا تاکہ عدالتی کارروائی میں وقت ضائع کرکے اس منصوبہ کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔ پاکستان کا کونسا شہری ہے جسے پاکستان کے قدیم ورثہ سے لگائو یا محبت نہیں ہم سب کو پاکستان کے قدیمی ورثہ پر فخر ہے وزیراعلیٰ پنجاب جن کا بچپن' لڑکپن' جوانی اور اب بڑھاپا اس شہر کی گلیوں میں کھیل کود کر گزرا۔ ان سے زیادہ کس کو لاہور سے محبت ہوگی لاہور کو خوبصورت ترین اور ترقی یافتہ بنانے کا جنون ہے وہ لاہور کو جدید ترین اور جدید سہولتوں سے آراستہ شہر دیکھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی لاہور کے آثار قدیمہ سے اتنا ہی پیار ہے جتنا عدالت میں جا کر اس منصوبہ کو برباد کرنے والوں کو ہے دراصل ان عناصر کو لاہور کے آثار قدیمہ سے قعطاً کوئی غرض نہیں یہ صرف حکومت کے تعمیری کاموں میں خلل ڈالنے کیلئے سازشیں کررہے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اگر مسلم لیگ ن اپنے موجودہ منصوبوں کو 2018 ء تک مکمل کرے گی جو کہ نظر آ رہاہے کہ تمام منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہو جائیں گے تو پھر ان سیاسی شکست خوردہ عناصر کو مزید پانچ سال کیلئے حکومت سے دور رہنا ہوگا ان کا اصل مسئلہ یہ ہے لاہور کے آثار قدیمہ ہرگز نہیں وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور اور پاکستان چھوڑ کر کہیں بھی نہیں جانا انہوں نے اس شہر میں زندگی گزارنا ہے لہذا ن سے بڑھ کر لاہور کی خوبصورتی کا کون خواہشمند ہوگا۔کسی شاعر نے شہر کی محبت کے حوالے سے کہا تھا   
یہ شہر چھوڑ کے جانا بھی تھا کہاں آخر
یہیں چراغ یہیں دل جلائے رکھتے ہیں
 لہذا یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اورنج ٹرین منصوبہ سے لاہور کے آثار قدیمہ کو کوئی خطرہ نہیں اگر خطرہ ہے تو ان عناصر کو ہے جو غیر ملکی ایجنٹ بن کر اس ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں اگر خطرہ ہے تو ان نام نہاد کر پٹ سیاستدانوں کو ہے جن کی لوٹ مار بند ہوچکی ہے جنہوں نے کرپشن کرکے اس ملک کو لوٹا ہے اور آئندہ پھر لوٹنے کیلئے تیاریاں پکڑ رہے ہیں۔ اگر ان کو آثار قدیمہ کی اتنی فکر ہے تو پورے پاکستان میں قدیمی ورثہ برباد ہو رہا ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں یہ ان کی اصلاح اور بہتری کی فکر کریں۔ حکومت کے عوامی فلاحی منصوبوں کیلئے مشکلات پیدا نہ کریں۔ ہمارے ملک میں جب کوئی جدید کام شروع ہوتا ہے تو اس کی مخالفت اس لیے کی جاتی ہے کہ پاکستان کہیں ترقی کی راہ میں آگے نہ نکل جائے جب اسلام آباد لاہور موٹروے منصوبہ شروع ہوا تھا تو اس وقت بھی اس کی مخالفت کی گئی' طرح طرح کی باتیں بنائی گئیںلیکن آج وقت نے ثابت کردیا ہے کہ یہ موٹروے ہمارے ملک کیلئے کتنا اہم ہے کل اس پر تنقید اس کی مخالفت کرنے والے آج اس پر گاڑیاں دوڑاتے نظر آتے ہیں۔ اس طرح اورنج لائن منصوبہ کی بھی مخالفت کی جا رہی ہے اس منصوبے کی رکاوٹ سے ملک کو اربوں روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ ہماری عدلیہ میں قابل ترین اور ذمہ دار جج صاحبان تشریف فرما ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ جلد سے جلد ان اعتراضات کرنے والوں کوفارغ کریں اور ملکی فلاحی منصوبہ کی راہ میں رکاوٹ دور کریں تاکہ ملک ترقی اور امن کی راہ پر گامزن رہے ۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔