Get Adobe Flash player

معاشی ترقی کی دس سالہ بلند ترین سطح۔۔۔ضمیر نفیس

 پاکستان کی معیشت جس تیزی سے بہتری کی طرف جارہی ہے اب اس کا دشمنوں نے بھی اعتراف کرلیا ہے بھارتی اخبار اکنامک ٹائمز نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کا حجم تین سو ارب ڈالر سے تجاویز کر گیا ہے جبکہ آئندہ سال کے لئے معاشی ترقی کا ہدف 6فیصد مقرر کیا گیا ہے اخبار کے مطابق معاشی نمو میں زراعت اور خدمات کے شعبہ کا بڑا حصہ ہے عالمی جریدے ''دی اکنامسٹ'' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کی دس سالہ بلند ترین سطح پر ہے پاکستان کی معاشی ترقی 5.3فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے زرعی شعبہ میں گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں بہتری آئی ہے ۔معاشی سال 2016ء اور 2017ء میں پاکستانی حکومت نے جی ڈی پی ٹارگٹ کو بھرپور طریقے سے پورا کیا دنیا بھر کے ممالک پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں برآمدات کے شعبہ میں بھی خاطر خواہ بہتری آئی ہے یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ سی پیک کے متعدد منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جس کے باعث نہ صرف ہنر مند اور غیر ہنر مند کارکنوں کو ملازمتیں ملی ہیں بلکہ صنعتی شعبہ بھی متحرک ہوا ہے حکومت نے صنعتی شعبہ کو متحرک رکھنے کے لئے اسے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے صنعتی شعبہ کی اس فعالیت نے بھی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کئے ہیں جبکہ زرعی شعبہ کی تمام اہم فعلات کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے تعمیراتی شعبہ نے بھی بہت سے ملحقہ صنعتوں کو فعال کر دیا ہے۔سی پیک کے تحت چین کی سرمایہ کاری جو ابتداء میں 56ارب ڈالر تھی اب اس میں بھی مزید اضافہ ہوگیا ہے حال ہی میں ون بیلٹ ون روڈ فورم کے موقع پر چین کے ساتھ مزید معاہدے ہوئے ہیں جن کے تحت تقریباً چار سو یلین ڈالر کے مزید منصوبے شروع کئے جائیں گے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میںبھی بتدریج اضافہ ہوا ہے۔سرمایہ کار ہمیشہ سازگار ماحول چاہتا ہے  وہ اپنے سرمائے کا تحفظ اور منفع کی ضمانت کا خواہاں ہوتا ہے دہشت گردی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری کیا ہوتی مقامی سرمایہ کاروں نے بھی اپنے کاروبار سیکڑ لئے تھے معیشت اور افراد دونوں عدم تحفظ کا شکار تھے آپریشن ضرب عضب کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کر دئیے گئے اب ردالفساد آپریشن کے ذریعے بچے کچے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ادھر کراچی میں بھی مکمل طور پسے امن قائم کر دیا گیا ہے چنانچہ ملک کی معاشی سرگرمیوں کے مرکز شہر قائد میں ایک بار پھر صنعتی و کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اس کے پھر سے فعال ہونے کی وجہ سے بھی معیشت پر بہت زیادہ مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں یہ معاشی بہتری ہی کی علامت ہے کہ گزشتہ روز قومی اقتصادی کونسل نے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 2113ارب روپے مختص کئے گئے ہیں پنجاب کے لئے 600 ' سندھ کے لئے 263' خیبرپختونخواہ 202اور بلوچستان کے لئے 75 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں صوبوں کا حصہ دس فیصد زیادہ اور ترقی کی شرح 6فیصد مقررکی گئی ہے اقتصادی کونسل نے انفراسٹرکچر کے لئے 411' نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لئے 320' توانائی منصوبوں کے لئے 404 اور سی پیک کے لئے 180ارب روپے رکھے گئے ہیں معاشی بہتری کی یہ سب سے بڑی علامت ہے کہ اب منصوبوں کے لئے فنڈز میں کئی گنا اضافہ کیا گیا ہے پاکستان کے اقتصادی اعشارے نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں جن کا ریٹنگ کرنے والے عالمی اداروں نے بھی اعتراف کیا ہے دنیا نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہوگیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں حالات اس حد تک سازگار رکھے جائیں کہ بہتری کے اس سفر میں رفتار سست نہ ہونے پائے۔