Get Adobe Flash player

مٹی پائو۔۔۔حفیظ عثمانی

اکتوبر2005کازلزلہ قیامت صغری تھا،اس قدرتی آفت نے ایک بارپھرہمیں جھنجوڑکررکھ دیااداروں کی غفلت نااہلی اورکسمپرسی کے سارے پردے چاک ہوگئے ہیں ان دنوں میں وفاقی دارالحکومت کے ایک روزنامہ اخبارسے بطورپررپورٹرمنسلک تھا۔رمضان المبارک کابابرکت مہینہ تھاہم سحری کرکے سوئے ہی تھے کہ زلزلے کے جھٹکوں سے ہڑبڑاکراٹھ بیٹھے ،گلی میں بھاگے توپورامحلہ گلی میں نکل آیاتھا،لوگ اونچی آوازمیں استغفارپڑھ رہے تھے کچھ ہی دیربعدساتھی رپورٹرعثمان گجرکافون آیاکہ ایف ٹین کامارگلہ ٹاورزمین بوس ہوگیا،جلدی جلدی تیارہوکردوڑلگائی کہ وقوعہ پرپہنچاجائے ۔موقع پرپہنچے تووہاں ایک عبرت ناک منظرہمارامنتظرتھا،بلندوبالامارگلہ ٹاورکاایک بڑاحصہ منہدم ہوکرزمین میں دھنس ساگیاتھا،ملبے کے اس ڈھیرتلے نہ جانے کتنے لوگ موت اورزندگی کی کشمکش میں تھے مگروہاں اخباری رپورٹروں اورچندپولیس اہلکاروں کے سواکوئی نہ تھاسب ایک دوسرے کامنہ دیکھ رہے تھے کہ کنکریٹ کے اس پہاڑکے نیچے دبے ہوئے لوگوں کوکیسے نکالاجائے ؟گھنٹوں توادارے ایک دوسرے سے صلاح ومشورے کرتے اوراپنی استعدادکے نہ ہونے کاڈھنڈوراہی پیٹتے رہے پھرمیڈیاکے لبوں پرقفل لگانے کیلئے کچھ فرسودہ طریقوں سے آپریشن کاآغازکیاگیامگرآسمان توسرپراس وقت ٹوٹاجب دن ڈھلے اطلاعات موصول ہوئیں کہ کشمیراورشمالی علاقہ جات کاایک بڑے حصے پرقیامت ٹوٹ پڑی ہے وہ کوریج میری زندگی کی تکلیف دہ کوریج تھی قدم قدم پرتباہی وبربادی کی راکھ سے جنم لینے والی روح تک کوزخمی کرتی کہانیاں بکھری پڑی تھی اوران کورپورٹ کرتے ہوئے آنکھیں ساون کی طرح برستیں اورکلیجہ حلق کوآتاتھاان کاتفصیلی ذکرآئندہ کسی کالم تک اٹھارکھتے ہیں اس وقت ذکراداروں کی اس غفلت اوربے حسی اورسست روی کاجوآسیب کی طرح پنجے گاڑھے ہوئے ہے ۔اٹک سے ایک سینئرصحافی جاویدکشمیری نے مجھے فون کیااوربتایاکہ حکومت مشینری کی قلت کارونارو رہی ہے جبکہ ہٹیاں کے مقام پرغازی بروتھا پروجیکٹ میں استعمال ہونے والی بھاری مشینری ناکارہ پڑی ہے ۔انہوں نے میری درخواست پراس مشینری کی تصاویربناکربھی مجھے ارسال کردیں اگلے روزمیں نے وہ تفصیلی خبرمع تصاویرچھاپی تواداروں کو ہوش آیااداروں کے آپس میں رابطوں کے فقدان اورغیرذمہ داری کی یہ ایک بدترین مثال ہے ۔ان دونوں اسلام آبادکوریڈزون قراردیاگیالوگ کئی منزلہ عمارتوں میں ٹھہرنے کوتیارنہ تھے سی ڈی اے کی طرف سے یہ دعوے سنے گئے کہ آئندہ عمارتیں زلزلہ پروف ہوں گی اوربلندوبالاعمارتوں سے اجتناب برتاجائے گامگروقت کی دھول میں وہ سارے دعوے کہیں دفن ہی ہوگئے آج جب میں ایف ٹین سے گزرتاہوں تواس متاثرہ مارگلہ ٹاورکی جگہ ایک نئے ٹاورکی تعمیرکودیکھتاہوں ماضی کے دردناک لمحے یادکرتاہوں اوراس بے حسی پرلعنت بھیجتاہوں کہ جہاں جاں بحق ہونے والے لوگوں کی یادمیں ایک یادگارتعمیرہونی چاہئے تھی جوہمیں اس دکھ کی یاددلاتی اوراس سانحہ پرکئے گئے وعدوں اوریقین دہانیوں کوبھی تازہ کرتی مگرصدافسوس کہ ہمارے رویوں پرتوبے حسی بھی شرماگئی ہے ۔ابھی چندروزقبل رمضان المبارک کے ہی آخری عشرے میں احمدپورشرقیہ میں بھی ایک قیامت گزری ہے جہاں آئل ٹینکرکے الٹنے کے بعدپٹرول سمیٹتے دوسوسے زائدلوگ جل کرکوئلہ بن گئے مگروقتی افسوس اورمگرمچھ کے آنسوبہانے کے بعدہم سب ایک بارپھراسی زندگی میں لوٹ گئے ہیں ۔قومی شاہراہ پرایک بارپھرویسے ہی پرانے ناکارہ اوراحتیاطی سازوسامان کے بغیرآئل ٹینکرپوری رفتارسے دوڑرہے ہیں اوگراکے کانوں پرجوں رینگی ہے نہ ہی موٹروے پولیس نے ایسے حادثات کے سدباب کیلئے کوئی حکمت عملی وضع کی ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مجازافسران بھی صرف بادشاہ سلامت کوخوش کرنے کیلئے کوشاں ہیں اوران کی ساری توانائیاں وزیراعظم کی مری گزرگاہ کی تزئین وآرائش پرصرف ہوتی ہیں گویایہاں ہرحادثہ ہرسانحہ مٹی پائوکے آزمودہ فارمولے تلے دفن ہوجاتاہے۔ایساکب تک ہوگابھیانک غفلت کایہ کھیل کب تک جاری رہے گا؟ہرحادثہ ہرسانحہ ہماری نااہلیوں کی نئی داستانیں کھول دیتاہے اوربجائے اس کے کہ ہم کوئی سبق سیکھیں اپنی کوتاہیوں کودرست کرنے کیلئے کوئی ٹھوس قدم اٹھائیں ہم رات گئی بات گئی کی روش پرعمل پیراہیں ۔یوں دکھائی دیتاہے کہ حکمرانوں کے نزدیک یہ لوگ گوشت پوست کے صرف لوتھڑے ہیں ان کے نزدیک ان کی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں نہ جانے کب تک اس ارض پاک پریہ مکروہ دھندہ جاری رہے گااورکب تک غربت کی چکی میں پستے یہ لاچارہ اوربے بس لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح مرتے رہیں گے اورکب تک حکمران ان کی لاشوں پرسرکس لگاتے رہیں گے۔نہ جانے کب تک ؟