Get Adobe Flash player

نیپال کو بھارتی تسلط سے نکلنا ہوگا!۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 نیپال کی حکومت  وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت نواز پالیسی سے انحراف کرکے خارجہ پالیسی میں نئے آفاق کی تلاش میں ہے۔ماضی کے برعکس نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی پر بھارت کا کنٹرول نہیں ہے، چنانچہ وہ ایک آزاد خارجہ پالیسی پر گامزن ہیں۔ اس طرح نیپال بھی بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے زمرے میں پاکستان ، چین اور مالدیپ کے کیمپ میں شامل ہورہا ہے۔اس سے پہلے بھارت نیپال کی خارجہ پالیسی کوکنٹرول کرتا تھا   لیکن اب نئی دہلی میں یہ سوچ گہری ہوتی جاتی رہی ہے کہ یہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔اسے کسی بھی نام سے پکاریں، انڈیا کا ایجنڈا یہ ہے کہ وہ نیپال میں جوبھی حکومت تبدیل ہو،وہ انڈیا کے ماتحت ہی رہے۔ اس کے علاوہ کوئی صورت حال انڈیا کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔ اس سے ایسا لگتا ہے کہ انڈیا خطے کی چھوٹی ریاستوں کے لیے بدمعاش بننے کے راستہ پر گامزن ہے۔ 25 مارچ 2017 کو اے بی سی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے   گریٹر نیپال   نیشنلسٹ فرنٹ کے چیئرمین  Mr Phanidra Nepal (Mr PN) اور  Dr.Bishnu Dahal نے واضع طور پر کہا کہ نیپال کو اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرتے ہوئے بھارت اور چین کے ساتھ یکساں تعلقات رکھنے چاہیئں۔ چیئرمین کا کہنا تھا کہ نیپال میں  بھارت مخالف جذبات کوئی ایک دن کی بات نہیں بلکہ یہ شروع دن سے نیپالی حکمرانوں کی بھارت پر انحصار کرنے کی پالیسی کی وجہ سے ہے۔ لیکن نیپالی حکمران اپنی مستی میں گم رہے ۔ انہوں نے نوشتہ دیوار نہ پڑھی۔ حقیقت یہ کہ نیپال میں بھارت مخالف جذبات کا سونامی ابل رہا ہے۔ نیپال کے اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت خود نیپال خارجہ پالیسی کی کمزوری رہی ہے۔  اگر بھارت نے اپنی پالیسی جاری رکھی تواس کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا۔ اب یہ بات نا ممکن لگتی ہے کہ نیپال میں کوئی بھی حکومت انڈیا کے سامنے گھٹنے ٹیکے گی۔ نیپال اب بھارت کو چھوڑ کر چین اور خطے کے دوسرے ممالک  کے ساتھ تعلقات بڑھانا چاہتا ہے۔ چین نے کبھی بھی نیپال کو بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنے سے منع نہیں کیا جبکہ بھارت نے ہمیشہ نیپال چینی تعلقات کی مخالفت کی اور نیپال کو اپنے حصار میں رکھنے کی کوشش کی۔ اب تک نیپال کے بھارت کے زیر اثر رہنے کی بڑی وجہ اس کے حکمران تھے۔ زیادہ تر نیپالی حکمران جب وہ حکومت میں نہیں ہوتے تو قومیت کے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں مگر جب حکومت میں آتے ہیں تو ان کی پوزیشن تبدیل ہوجاتی ہے اور وہ بھارت کے گن گانے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیپالی حکمران حکومت میں آنے کیلئے بھارتی سیڑھی استعمال کرتے ہیں  لہذا حکومت میں آنے کے بعد وہ بھارتی دبا ؤ میں کام کرتے ہیں اور بھارتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ مودی سرکار کی 2014 ء  میں اعلان کر دہ خارجہ پالیسی کے مطابق ہمسایوں کو ترجیحی درجہ دیا جانا تھا ،لیکن صورت حال اس کے برعکس ہے۔ اس وقت انڈیا کے سات ہمسایوں میں سے کسی کے ساتھ بھی اچھے تعلقات نہیں۔نیپال جو علاقے کی واحد ہندو ریاست ہے اور اب تک بھارت کے زیر اثر رہا ہے وہ بھی بھارتی عمل دخل کی وجہ سے بدامنی کا شکار ہو رہا ہے۔ بھارت نیپال تعلقات میں درآنے والی کشیدگی نے نئی دہلی اورکھٹمنڈو کے درمیان تنازع کو مزید عیاں کر دیا۔ نیپالی حکومت نے بھارت میں تعینات اپنا سفیر واپس بلا لیا، جبکہ ملکی معاملات میں ہمسایہ ملک بھارت کی ''دخل اندازی'' کی وجہ سے نیپالی صدر نے اپنا نئی دہلی کا دورہ بھی منسوخ کر دیا۔ مبصرین کچھ عرصے سے صورت حال کے اس نہج تک پہنچ جانے کے خطرے کومحسوس کر رہے تھے۔ اس تنازع کا باعث نیپال کی ہندو آبادی ، مدیسیوں کے آئینی حقوق کا مسئلہ ہے، تاہم یہ مسئلہ بھی گہرا ہوچکا ہے۔نیپال میں راء کے ایجنٹ نیپالی باغیوں کی کھل کر مدد کر رہے ہیں اور انہیں نیپال کے خلاف بغاوت پر اکسارہے ہیں۔بھارت اپنے ہمسایہ ہندو ملک نیپال کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں نیپال میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ بھارت بھوٹان اور نیپال پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اس سے پہلے وہ ریاست سکم پر قبضہ کر چکا ہے۔اب بظاہر یہ بات نا ممکن لگتی ہے کہ نیپال میں کوئی بھی حکومت انڈیا کے سامنے گھٹنے ٹیکے گی، لیکن ایسا ہوا ہے کہ نیپالی حکومت نے بھارت کے سامنے اپنے عوام کی خواہشات کے برعکس گھٹنے ٹیکے ہیں۔ بھارتی صدر پرناب مکھر جی نے نیپال کا دورہ کیا تو وہاں کی حکومت نے ایک دن کی سرکاری چھٹی کر دی۔ جس پر نیپالی عوام سیخ پا ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تو نیپال میں جمہوریت ہے نہ کہ بادشاہت۔ تو پھر یہ چھٹی کیوں؟ کیا اس سلسلے میں پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیا گیا؟ نیپالی عوام کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کے چنگل سے نکلنا چاہتے ہیں مگر جمہوری حکمران بھی ہمیں بھارت کا غلام بنانا چاہتے ہیں۔ بھارت ہمیں کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ ہمیں اپنے زیر انتظام سمجھتا ہے۔ ہم پر تسلط جمانا چاہتا ہے۔ بھارت ہم سے برابری کی بنیاد پر بات نہیں کرتا۔ کیا کل جب نیپالی صدر بھارت کا دورہ کریں گے تو دہلی میں چھٹی ہوگی؟ اس سوال کا جواب تو شاید نیپالی حکمرانوں کے پاس نہیں مگر وہ مستقبل میں بھارتی غاصبانہ چال کے خلاف نیپالی عوام کے ساتھ مل کر ان کی خواہشات کے مطابق اقدامات کر سکتے ہیں اور انہیں اپنے ملک کی سلامتی اور عزت کے لئے ایسا کرنا بھی چاہیے 'نیپال کو بھارت اور چین کے مابین ایک 'قدرتی بفر زون' سمجھا جاتا ہے۔ اس ملک نے شہنشاہت کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک نیا جمہوری آئین متعارف کروایا تھا تاکہ ملک میں کئی سالہ پرانے تنازعات کا خاتمہ ہو سکے۔ چینی وزارت خارجہ کی ایشیا ڈویژن کے نائب سربراہ ہاؤ یانچی  نے کہا کہ نیپال کے ساتھ دو ریلوے لائنیں بچھانے پر بات چیت ہوئی ہے۔ ایک ریلوے لائن کے تحت نیپال کے تین اہم شہروں کو ملایا جائے گا جبکہ دوسری لائن چین سے نیپال تک لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نیپال کے ساتھ طویل المدتی تعلقات قائم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے اور دونوں ملکوں کا مستقبل ریلوے سے جڑا ہوا ہے۔مجموعی طور پر ان دونوں ملکوں نے دس معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں سے ایک 'آزاد تجارتی معاہدے' کی فزیبیلٹی رپورٹ تیار کرنا بھی شامل ہے۔ اسی طرح نیپال کو ایک نئے ایئر پورٹ کی تعمیر کے لیے قرض بھی فراہم کیا جائے گا جبکہ نیپال میں گیس اور تیل کے ذخائر ڈھونڈنے میں بھی چین اس ملک کی مدد کرے گا۔بھارت کے مقابلے میں چین نے اپنی سرمایہ کاری میں غیر معمولی تیزی لاتے ہوئے نیپال میں اپنی اقتصادی سرگرمیوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ بیجنگ نے نیپال میں پاور پلانٹس، ہائی ویز، ہوائی اڈوں اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔