Get Adobe Flash player

امت مسلمہ اور عامی ایجنسیاں۔۔۔میاں انوارالحق رامے

 اہل بصیر ت اس امر سے بخوبی آشنا ہیں کہ پاکستان کے حالات کی ابتری ،بدحالی اور سیاسی عدم استحکام صرف ہمارا داخلی مسئلہ نہیں ہے ۔جنگ عظیم دوئم کے بعد امریکہ اور روس نے خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے دوسرے ممالک میں مداخلت کا آغاز کردیا تھا ۔جنگ اب سرحدوں کی بجائے اندرون ملک لڑی جانے لگی ہیں ۔دونوں ممالک اپنے گماشتوں کو مسلط کرنے کیلئے کبھی فوج کو اکساتے اور کبھی حکومت کے خلاف برسرپیکار مسلح گروہوں کی پشت پناہی کرتے دونوں صورتوں میں انسانوں کا قتل عام ہوتا ۔روس کی شکست وریخت کے بعدیہ کام امریکہ اور اُس کے حواریوں نے انجام دینے کا بیڑہ اٹھالیا کے ذریعے انجام دیا جانے لگا ۔گزشتہ چند سالوں میں روس نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے دوبارہ فعالیت اختیار کی ہے یہ فعالیت اُسی حد تک موثر ہے جس دائرے میں امریکہ اور یورپ کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچ رہا ہے ۔نئے بین الاقوامی حالات کے تناظر میںا مریکہ اور روس دونوں کا مشترکہ مفا د ہے کہ امت مسلمہ میں ابتری ،بدحالی ،افتراق وانتشار ،خلفشار و سیاسی خانہ جنگی ۔معاشی کسمپرسی کی بڑھو تری میں کردار ادا کیا جائے ۔جن ممالک میں امریکہ کے مفادات کے محافظ حکمران مسلط ہیں وہاں روس اپنی خفیہ و مالیاتی کارروائیوں کے ذریعے ابتری و سیاسی انتشار کو جنم دینے میں مصرو ف عمل ہے ۔جن ممالک میں روس کے حاشیہ نشین حکمران ہیں وہاں امریکہ اور یورپ کے حکمران ملک میں انتشار وبدامنی پید ا کرنے کیلئے کمر بستہ ہو جاتے ہیں ۔گزشتہ تین دہائیوں سے امت مسلمہ میں بھی خاموش سرد جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔اس جنگ کے دونوں سپہ سلار سعودی عرب اور ایران ہیں ۔دونوں ممالک کی باہمی شکرڑنجی و چپقلش نے امت مسلمہ کو داخلی انتشار اور خانہ جنگی میں مبتلا کرد یا ہے ۔دونوں ملک کی پالیسیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغرب نے مسلمان ممالک کے اندر شیعہ سنی تنازعہ کی شکل دے دی  اس فقہی و مسلکی خانہ جنگی سے صرف وہی ممالک محفوظ ہیں جن میں ایک ہی فقہ کے ماننے والے واضح اکثریت میں ہیں ۔جیسے بنگلادیش ،انڈونیشیا ،ملائشیا،اور شمالی افریقہ کے چند ممالک ۔باقی سب جگہوں پر اللہ، رسولۖ اور اہل بیت کے نام پر خون کی ندیاں بہائی جارہی ہیں ۔الجزائر سے لیکر پاکستان تک کوئی خطہ محفوظ نہیں ہے۔اسلامی ممالک میں نام نہاد جمہوری جدوجہد اور حقوق کی تحریکیں اور کہیں شدت پسند اور دہشت گر د اور کہیں مسلح افواج جو بھی ان کے عزائم کی تکمیل میں معاون ہوگا و ہ اُس کے پشتی بان بن جائیں گے یہ طاقتیں ملکوں کے اندر حکومتی بدلتی اور خانہ جنگی پید ا کرکے اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں ۔شام میں تسکری الکواتی کی حکومت تھی عالمی قوتوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے آدمی چیف حسنی الزیم کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرلیا ۔1953ء میں ایرانی وزیراعظم مصدق کے خلاف جنرل فضل اللہ ہادی کی سربراہی میں فوجی بغاو ت کروا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کی گئی ۔مصدق کی حکومت الٹنے کی وجہ آبادان آئل ریفائنری تھی جس کو مصدق نے قومی ملکیت میں لینے کے احکامات جاری کئے تھے گوئٹے مالا میں 1950ء میں Jecob Arbezنے امریکی نمائندے فوجی آمر جارج اوپیکو سے جمہوری بنیادوں پر اقتدار چھینا اور تمام کسانوں کو زمینوںکو ملکیتی حقوق دینے شروع کئے تو 1954ء کو مسلح جدوجہد کا آغاز کروایا منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاو ت کروادی ۔تبت میں 16 مارچ1959ء کو مسلح جدوجہد آغاز کروایا دلائی لامہ کو عالمی ہیرو بنا کر پیش کیا گیا 1962ء تک یہ جنگ جار ی رہی ،1974میں امریکہ کے چین سے تعلقات درست ہوئے تواس جنگ کو CIAنے ختم کروادیا ۔جنوبی ویت نام میں امریکہ نے اپنے پٹھو حکمران کو ڈونک وان منہ کو اس عبرت کا نشانہ بنادیا کہ اُس کا رویہ باغی بھکشوؤں کے خلاف رحمدلانہ تھا ۔کیتھولک عیسائیوں کو اسلحہ فراہم کیا گیا جنھوں نے بدھوؤں کے مذہبی مراکز اور دیہات پر حملے اور قتل و غارت کا باز ار گرم کیا ۔برازیل کے صدر Joao Goulartنے امریکی کمپنیوں میں سے عوام کی بہتری کیلئے اقدامات کا آغاز کیا تواُس کے خلاف برادرم نامی آپریشن کے ذریعے مسلح جدو جہد کا آغاز کروادیا گیا ۔نیو جرسی سے 110ٹن اسلحہ برازیل بھیجا گیا ۔بدامنی پھیلی تو یکم اپریل 1964ء کو جواو گولارٹ کا تختہ الٹ دیا گیا ۔چلی تو لاپتہ افراد اور امریکی CIAکے تیار کردہ افرادکے ہاتھوں مارے جانے والے لاکھوں افراد کا ملک ہے 11ستمبر 1973ء کو بدنام زمانہ جنرل نپوشے کو امریکی آشیر باد اور فوج کے ذریعے بر سراقتدار لایا گیا ۔ارجنٹائن میں ازابیل پیرون صدرمنتخب ہوئے تو 26مارچ 1976کو جنرل رافیل کے ذریعے ازابیل کا اقتدار ختم کردیا گیا ۔1979میں نکاراگوامیں کونٹراگوریلوں کی خفیہ مدد کی گئی اس دفعہ تشدد پسند گوریلے امریکہ کے منظور نظر تھے ۔یہی کونٹرا گوریلے تھے جن کا اسلحہ خفیہ طور پر ایران کو فراہم کیا گیا کونٹرا سکینڈل دنیا کا مشہور ترین سکینڈل ہے ۔وینز ویلا کے ہیوگو شاویز کے خلاف ناکام عوامی تحریک تو پرائیوٹ میڈیاچینلز اور سرمائے کے بل بوتے پر مظاہر ین کے ذریعے بر پا کی گئی ۔یہ الگ بات ہے کہ شاویز کی مقبولیت کی بنا پر سازش ناکام ہوگئی ۔یہ وہ تاریخ کے جھروکوں سے مثالیں ہیں جہاں کمیونزم کی آمد کے خطرات تھے اب کمیونزم کے عالمی سطح پر زوال نے امریکی اور یورپ کے ممالک کو اسلامی فوبیا میں مبتلا کردیا ہے ۔عرب بہار سے مصر ،مراکش ،تیونس ،شام اور یمن میں بے چینی کی لہر کو پہلے جمہوری جدو جہد اور جمہوریت کی فتح قراردیا گیا پھر ان ملکوں کو دوبارہ خانہ جنگی میں الجھا دیا گیا ۔لیبیا میں کرنل قذافی کے خلاف ایسے دہشت گردوں کی مدد کی گئی جو امریکہ کے ناپسندیدہ گوریلے اور دہشت گرد تھے ۔شام اور عراق میں شیعہ سنی تنازعہ کو مہمیز دے کر لاکھوں مسلمانوں کو قتل کروادیا گیا ۔سعودی عرب اور ایران کی سرد جنگ کے علم بردار دونوں ممالک نے خداداد پاکستان میں جتھوں اور ہمدردوں کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی کو روبہ عمل لانے کی کوشش تیز کردیں ۔مسلمہ امہ کی خفیہ سردجنگ اور امریکہ اور یورپ کی منصوبہ بندی اور سازش پر کسطرح قابو پاتا ہے یہ ہمارے لئے غوروفکر اور لائحہ عمل مرتب کرنے کا مقام ہے ۔ایشیا ٹائمز نے بھارت اور امریکہ کے افغانستان سے وابستہ مفادات کا ذکر کیا ہے ۔امریکہ خود کو اسلامی دنیا سے الگ کرکے اس کی نمبرداری بھارت کے سپردکرناچاہتا ہے تا کہ وہ بحرالکاہل میں اپنی موجودگی کو یقینی بنا سکے ۔امریکہ کی جنوب ایشیا کے حوالے سے پالیسی بھارت کے اردگرد گھومتی ہے ۔بھارت افغانستان میں امریکہ کے موثر تعاون سے وسیع تر کردار ادا کرنے کیلئے کمربستہ ہورہا ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان کے منتخب حکمران اور ہماری سیکورٹی فورسز نے افغانستان میں بھارت اور امریکہ کے مشترکہ گٹھ جوڑ سے نپٹنے کیلئے کوئی حکمت عملی تیار کرلی ہے ۔