''احمد رضا قصوری نے پرویز مشرف کا تختہ الٹ دیا''۔۔۔ضمیر نفیس

جیسی کرنی ویسی بھرنی' پرویز مشرف نے جس طرح میاں نوازشریف کو اقتدار سے باہرکیا تھا اسی طرح پرویز مشرف کو پارٹی کے چیف کوارڈینیٹر احمد رضا قصوری نے پارٹی کی صدارت سے فارغ کر دیا اور ان کا تختہ الٹ دیا ہے۔چند روز قبل یہ اطلاع آئی تھی کہ آل پاکستان مسلم لیگ کے قائد جنرل (ر) پرویز مشرف نے احمد رضا قصوری کو برطرف کرکے ان کی پارٹی رکنیت ختم کر دی ہے اور انہیں پارٹی کے چیف کوارڈینیٹر کے عہدے سے بھی ہٹا دیا ہے ایک انٹرویو کے دوران احمد رضا قصوری کہتے ہیں یہ فیصلہ ڈاکٹر امجد نے کیا ہے پرویز مشرف نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا اس ضمن میں مجھ سے کوئی بات بھی نہیں کی درحقیقت اس اعلان سے دو دن پہلے میں نے چیف کوارڈینیٹر کی حیثیت سے ایمرجنسی میں سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا اس اجلاس نے مجھے پارٹی کا صدر بنا دیا صدر کا منصب کافی عرصہ سے خالی پڑا تھا سنٹرل ورکنگ پارٹی نے اسے پر کرنے کے لئے میر انتخاب کیا کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک جنرل (ر) پرویز مشرف پاکستان نہیں آتے اس وقت تک ملک میں پارٹی کے تمام مالی اور سیاسی فیصلے آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر احمد رضا قصوری کریں گے۔یہاں احمد رضا قصوری نے مصرعہ لگایا کہ پرویز مشرف کی حیثیت الطاف حسین جیسی بھی نہیں کہ وہ ریموٹ کنٹرول سے پاکستان میں پارٹی چلائیں' الطاف حسین کا گلی گلی میں تنظیمی ڈھانچہ موجود تھا اسلئے اس کا پارٹی پر  مکمل کنٹرول تھا لیکن ادھر جنرل (ر) پرویز مشرف اپنی مجبوری کی وجہ سے ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں سننے میں یہ آیا تھا کہ وہ فیصل آباد کے جلسے میں واپسی کی تاریخ کا اعلان کریں گے لیکن پارٹی لیڈر کے واپس آنے کی تاریخ نہ ملنے کی وجہ سے کارکنوں میں بہت بددلی پھیلی ڈاکٹر امجد نے اپنی اہمیت کی خاطر 12اگست کو فیصل آباد میں جلسہ کا فیصلہ کیا جلسہ  سے ڈاکٹر امجد نے کروڑوں کے فنڈز جمع کئے لیکن لوگ جمع نہ کر کے ۔ احمد رضا قصوری کہتے ہیں کہ میں نے اس جلسے کے حوالے سے پرویز مشرف سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر امجد نے جلسہ میں 50ہزار افراد لانے کا وعدہ کیا ہے لیکن جلسہ کے عروج میں شرکاء کی تعداد چارہزار سے زیادہ نہ تھی ہماری پارٹی کا ایک جھنڈا بھی نظر نہیں آرہا تھا ہر طرف سنی اتحاد کونسل کے جھنڈے تھے حامد رضا قادری فیصل آباد کے ہیں وہ اپنے ڈیڑھ دو ہزار لوگوں کے ساتھ ہمارے جلسے پر قابض تھے کچھ دیگر چھوٹی پارٹیوں کے لوگ تھے اس جلسہ میں آل پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے تین ساڑھے تین سو لوگ تھے جب جنرل (ر) پرویز مشرف نے تقریر شروع کی تو حامد رضا قادری اور دوسری پارٹیوں کے لوگ اپنے بندوں کو لے کر نکل گئے جلسہ میں بمشکل آٹھ سو لوگ رہ گئے کارکنوں کو گاڑیوں کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی۔سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں جو فیصلے ہوئے احمد رضا قصوری کہتے ہیں میں نے ان فیصلوں سے پرویز مشرف کو آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا میں پارٹی کا چیف کوارڈینیٹر تھا اور قیادت میں مشرف کے بعد میرا نمبر تھا جس طرح پرویز مشرف نے آئین کے برخلاف اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا میں نے بھی ان کی پارٹی کو ٹیک اوور کر لیا اس میں کیا ہرج ہے انہوں نے اقتدار پر قبضہ کرتے وقت کسی سے بھی نہیں پوچھا تھا کہ یہ آئین کے خلاف ہے یا نہیں تو میں پرویز مشرف کو کیوں بتائو ں پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی مکمل طور پر میرے ساتھ ہے میں ایک کہنہ مشق سیاستدا ہوں سیاست میں 50سال سے زائد کا عرصہ گزار چکا ہوں بھٹو کابینہ میں رہا آئین مرتب کرنے والوں میں شامل رہا  اپنے دور کی سب سے بڑی اپوزیشن پارتی تحریک استقلال کا جنرل سیکرٹری رہا بھٹو کی دھمکی کے باوجود ڈھاکہ کا سفر کیا۔احمد رضا قصوری پرویز مشرف کے بڑے بھائی جاوید مشرف کے کلاس فیلو ہیں اس تعلق نے انہیں پرویز مشرف کی پارٹی سے تعلق جوڑنے پر مجبور کیا انہوں نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ق)  پیچھے ہٹی تو میں نے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا میں نے پرویز مشرف کو چھوٹے بھائی کی طرح دیکھا جس طرح ہسپتال میں تین ماہ تک مشرف کو پناہ دی گئی یہ میرا منصوبہ تھا میں نے عدالت کے اندر اورباہر اس کا دفاع کیا