Get Adobe Flash player

ڈاکٹر رتھ فائو پاکستانی قوم کی محسن ۔۔۔ظہیر الدین بابر

 آنجہانی ڈاکڑرتھ فاو کے انتقال کی خبر ہر اس پاکستانی کو سوگوار کرگئی جو ان کی خدمات سے آگاہ تھا۔ پاکستان میںجذام کے خاتمہ کا کریڈٹ ڈاکڑ رتھ فاو کو ہی جاتا ہے جنھوں نے انتھک محنت کے نتیجے میں اس موذی مرض سے پاکستانیوں کی جان چھڑائی۔ڈاکڑ رتھ فاو 1929میں جرمنی پیدا ہوئیں ۔ ان کا بچپن دوسری جنگ عظیم کی ہولناک کاروائیان دیکھتے گزرا۔ عالمی جنگ کے نتیجے میںجب جرمنی کے دوحصے کردئیے گے تو ڈاکڑ رتھ مشرقی جرمنی سے مغربی جرمنی میں مقیم ہوگئیں۔ طب کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ڈاکڑ رتھ فاو نے کھیتولک تنظیم ڈاٹر آف دی ہارٹ آف دی میری ''میں شمولیت اختیار کرلی۔ ڈاکڑ روتھ فاو 1960میں جرمنی سے پاکستان آئیں۔ انھیں 1979میں ہلال امتیاز اور 1989میں ہلا ل پاکستان کے اعزازات سے نوازا گیا ۔ ڈاکڑ روتھ فاو کو  1988 میں پاکستانی شہریت دی گی ۔ ڈاکڑ رتھ کی بھرپور اور انتھک کوششوں کی بدولت 1996میں پاکستان کو جزام سے پاک ملک قرار دے دیا گیا۔ ڈاکڑ روتھ فاو کی آخری رسومات 19 اگست کو کراچی کے سینٹ پیڑکس چرچ میں ادا کی جائیگی ۔صدر، وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف نے ڈاکڑ روتھ فائو کو پاکستان کا عظیم نقصان قرار  دیتے ہوئے ان کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا۔پاکستان کی مدر ٹریسا کہی جانے والی ڈاکڑ روتھ فاو کی پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے خدمات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے پوری زندگی اس کام کے لیے وقف کردی۔ ہر سال یکم فروری کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی جزام سے متعلق آگہی کا دن منایا جاتا ہے۔ ایک غیر سرکار ی  تنظیم کے مطابق پاکستان میں اب  بھی جذام کے 56 ہزار مریض موجود ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق جذام ایسا مرض ہے جو مریض کی کھال میں گھس کر اس جگہ کو سن کردیتا ہے مگر انسان کو کوئی تکلیف نہیںہوتی۔ اس ضمن میں خاص بات یہ ہے کہ جزام کا مرض مکمل طور پر قابل علاج ہے۔جزام یا کوڑھ ایک چھوت دار  بیماری ہے ۔ مریض کے چمڑی چھونے اس کے چھیکنے ، کھانسنے یا تھوکنے سے بیماری پھیلتی ہے۔کوڑھ بیماری کے جراثیم چمڑی پر اپنا اثر چھوڑتے ہیں ۔اس سلسلے میں اہم یہ ہے کہ کسی بھی مریض یا اس کے عزیز واقارب کے شک ہونے پر سن ہوئے دھبے کی جانچ ضرور کروا لیں ۔ ڈاکڑز کے مطابق  جذام کے چمڑا کی تہہ میں جراثیم بستے ہیں چنانچہ ان کی  جانچ بہت  ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے مختلف ہسپتالوں میں جزام کے علاج معالجہ یا تشخیص کی سہولت موجود ہے ۔ بعض شہروں میں  جذام کے لئے خاص ہسپتالوں کا بھی انتظام ہے ۔اس کی نشانی کے طور پر یہ کہ جلد پر پیلا دھبہ ، داغ جیسا دھبہ  ہونے پر فورا متوجہ ہوں ۔ڈاکڑز کے مطابق کوڑھ کی بیماری  سے جلد  پر سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے جلد سن ہونے کے باعث  مریض کو چھونے سے اس  پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اہم یہ ہے کہ کوڑھ سے مریض کو لقوہ بھی ہو سکتا ہے۔ ابتدائی علامات کے طور پر جسم کے کِسی حصے میں چمڑی پر دھبہ ہو سکتا ہے ہاتھ ، پائوں ، چہرہ ، کان ، کلائی اور گھٹنا بھی ہوسکتا ہے  ۔ اس بیماری کے باعث ناک کے چھید موٹے اور سخت ہو جاتے ہیں۔ بعض مریضوں کے ناک سے خون بھی بہہ سکتا ہے۔ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مریض کو سانس لینے میں پریشانی ہوتی ہے۔ ناک کی ہڈی گل سکتی ہے ۔ہاتھوں اور پاوں کے پنجے میں لقوہ ہو سکتا ہے ۔ عصر حاضر میں جہاں کئی دیگر بیماریوں کا علاج ممکن ہوچکا ہے وہی جذام بھی قابل علاج مرض قرارپائی ہے لہذا اب  تمام طرح کے کوڑھ کے مریض کا علاج ہو سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس مرض کے علاج میں کئی سال لگ سکتے ہیں حتی کہ کبھی کبھی مریض کو عمر بھرکے لیے علاج کروانا پڑ جاتا ہے مگر ڈاکڑز کے مطابق صبر وتحمل کے ساتھ  اِس بیماری کا علاج ضرور کرانا چاہے ۔جزام کے ماہر ڈاکڑز کے بعقول لازم ہے کہ ہر شخص پاوں  اور ہاتھوں کو آگ سے بچا کر رکھے۔ ننگے پاوں چلنے سے پرہیز کیا جائے۔ کھانا بناتے وقت آگ کے بہت پاس نہ بیٹھا جائے۔ مرد ہو یا عورت بیڑی ، سگریٹ ، حقہ نہ پیئے۔ رات کے وقت  اپنے جسم کو ٹھیک سے دیکھا جائے کوئی دھبہ تو نہیں ہے ۔ یہ بھی دیکھا جائے کوئی عضو سن تو نہیں ہوگا ۔ اس ضمن میں آنکھوں کا خاص خیال رکھا جائے ، مٹی یا  دھول نہ ممکن حد تک بچا جائے ۔ چھوٹے بڑے مرد  خواتین  بچے بوڈھے آنکھوں کو  صاف رکھیں ۔ مٹی یا  دھول نہ آنکھوں کو ممکن حد تک بچایا جائے  ،آنکھوں پر مکھیاں بھی  نہ بیٹھنے دی جائیں۔ ۔ وطن عزیز میں کروڈوں پاکستانیوں کو معیاری علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں۔ حکومت کوئی بھی ہو ہر کوئی یہ دہائی دیتی چلی آرہی کہ وسائل کی کمی کے باعث وہ ہر کسی کو سستا اور معیاری علاج معالجے فراہم کرنے کے قابل نہیں۔ دراصل یہی وہ حالات ہیںجن کے سبب مخیر حضرات کی جانب سے  مستحق مریضوںکے لیے مفت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔بعض درد دل رکھنے والے ڈاکڑز بھی انفرادی اور اجتماعی سطح پر کوشاں رہتے ہیں۔ ڈاکڑ رتھ کی مثال اس لحاظ سے منفردہے کہ انھوں نے اپنے ملک سے ہزاروں میل دور رہ کر پاکستان میں جزائم کے مریضوں کا علاج کیا جو یقینا قابل رشک بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔