رفتار نہ گفتار' یہ ہے چوہدی شجاعت کی سیاست۔۔۔ضمیر نفیس

مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا مسلم لیگیوں کو متحد کرنے کا کراچی کا دورہ بری طرح  ناکام رہا انہوں نے غوث علی شاہ کے گھر جا کر ان سے ملاقات کی اور پھر غوث علی شاہ کو کنگری ہائوس ساتھ لے جا کر پیر پگاڑا صبغت اللہ سے ملاقات کی نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے دورے کو ناکامی سے بچانے کے لئے انہوں نے ایک چار رکنی کمیٹی قائم کر دی۔اس دورے میں چوہدری پرویز الٰہی بھی ان کے ہمراہ  نہ تھے چنانچہ چوہدری صاحب کے پاس پیر پگاڑا کے بہت سے سخت سوالوں کے جواب نہ تھے اطلاعات کے مطابق پیر پگاڑا کا استفسار تھا کہ کیا انہوں نے اعجاز الحق سے رابطہ کیا ضیاء الحق کی برسی تھی وہ اعجاز الحق سے ان کے گھر پر ان سے ملاقات کرتے برسی کی تقریب میں ان کے ساتھ شامل ہوتے ان کی توقیر میں اضافہ ہوتا اور آپ کے مقاصد کو بھی تقویت ملتی پیر پگاڑا نے طنز کیا کہ آپ کو شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ نواز شریف کے سابق جرنیلوں کے خلاف ایک سخت بیان کا  اعجاز الحق نے بھی برا منایا تھا یہی موقع تھا کہ آپ ان سے ملاقات کرتے مگر آپ پنجاب میں لیگی دھڑوں سے رابطہ نہ کر سکے اور کراچی تشریف لے آئے چوہدری شجاعت حسین کے پاس پیر پگاڑا کی باتوں کا کوئی جواب نہ تھا۔پیر پگارا فوج کے ساتھ اپنے تعلقات کا برملا اظہار کرتے ہیں اس سے قبل ان کے والد مرحوم پیر مردان علی شاہ پگارا بھی اعلانیہ جی ایچ کیو سے اپنے تعلق کا اقرار کرتے تھے اس پر منظر میں پیر پگارا نے چوہدی شجاعت حسین سے کہا کہ ہمیں تو ابھی تک کسی نے مسلم لیگیوں کو متحد کرنے کا اشارہ نہیں دیا بہرحال آپ کی سوچ اچھی ہے مسلم لیگیوں کو مل کر کام کرنا چاہیے اس طرح چوہدری صاحب کراچی سے نامراد واپس لوٹے ہیں۔ان کی نظر اس بات پر  ہے کہ نیب کے ریفرنس شروع ہوں گے شریف فیملی کا کوئی ایک بندہ جیل چلاجائے گا مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں افراتفری مچے گی اور اس افراتفری میں کچھ 'مال غنیمت'' ان کے ہاتھ بھی آجائے گا مگر ان کی حالت یہ ہے کہ گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہیرہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگیمگر ان کے ہاتھوں میں جنبش ہے نہ آنکھوں میں دم ہے اس کے باوجود وہ سیاست کے ساغر و مینا سے دور رہنا پسند نہیں کرتے حالانکہ رفتار اور گفتار دونوں معاملوں میں وہ ارباب سیاست سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں پنجاب میں سردار ذوالفقار کھوسہ اور ان کے متعدد ساتھی مسلم لیگ (ن) کے نااراض لیڈروں میں شامل ہیں مگر اس جاگیردار گروپ سے رجوع کرنے کی چوہدری شجاعت ہمت نہیں کرتے وہ بھی چوہدری صاحب کے اندر سیاست کو پسند نہیں کرتے چوہدری صاحب اگرچہ اوپر سے اشاروں کے تابع رہتے ہیں مگر روز روز کہاں پرویز مشرف نمودار ہوں گے پرویز مشرف بھی کیا خوب ترقی پسند اور روشن خیال تھے کہ انہیں چوہدری شجاعت حسین اور ان کے مسلم لیگ (ن) کے باغیوں سے مدد حاصل کرنی پڑی لگتا ہے ان کی روشن خیالی بھی صرف مے نوشی اور  رقص و موسیقی تک محدود تھی اس قسم کے روشن خیال تو مسلم لیگ میں بھی بکثرت پائے جاتے ہیں اگرچہ پیپلزپارٹی میں بھی وافر مقدار میں موجود ہیں مگر فرق یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے روشن خیال کھلے کھلے سے ہیں اور مسلم لیگ چاہے قاف ہو یا نون اس کے روشن خیال بند کمروں اور ڈرائنگ روم کی سیاست کے ماہر ہیں۔ اس لئے ان کی روشن خیالی بھی بند کمرے اور ڈرائنگ روم سے باہر نہیں نکلتی' اس مسلم لیگ کے نظریات پر شک ہی کیا جاسکتا ہے جو ضیاء الحق اور پرویز مشرف دونوں کے ہم رکاب رہی البتہ مسلم لیگ (ن) پرویز مشرف کے ہم رکاب نہ ہوسکی جو ہوئی  وہ مسلم لیگ (ق) کا لبادہ روڑھ کر ہوئی' لیگی دھڑوں کو اکٹھا کرنے سے پہلے چوہدری صاحب اپنی صحت کی خبر  لیں اسے بہتر کریں صحت بہتر ہوئی تو سیاست بھی فعال رہے گی انہیں ایک نظر پرانے مسلم لیگی  سینیٹر ایم حمزہ پر ڈال لینی چاہیے جو سینٹ کے ایوان کے داخلی دروازے سے لے کر اپنی نشت تک آدھ گھنٹے میں پہنچتے ہیں اور دوران اجلاس مسلسل خاموش رہتے ہیں ایسا بھی کیا شوق سیاست جو صرف تنخواہ اور مراعات کے ''چیک'' کی وصولیالی تک محدود ہو کر رہ جائے ۔