Get Adobe Flash player

بلوچستان میں دشمن خفیہ ایجنسیوں کا گھناؤنا کھیل۔۔۔ریاض احمد چوہدری

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان قدرتی وسائل کے ذخائر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے عالمی اہمیت کا حامل اور عالمی قوتوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور ایک عرصہ سے امریکہ،بھارت،اسرائیل اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں اس صوبے میں اپنا کھیل کھیلتی آرہی ہیں۔گوادر بندرگاہ کو چین کے حوالے کرنے اور ایران کیساتھ گیس پائپ لائن کے معاہدے سے پاکستان دشمن ممالک سخت ناراض ہیں۔اور وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان عوامی جمہوریہ چین اور جمہوری اسلامی ایران کیساتھ اپنے روابط اور تجارت کو بڑھائے۔پاکستان دشمن ممالک نے بلوچستان میں مختلف عناصر کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے انہیں نہ صرف سرمایہ اور ہتھیار فراہم کیے ہیں بلکہ بلوچستان میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے لسانی ،فرقہ وارانہ اور قبائلی تعصبات کے شعلے بھڑکائے اور ایسی تنظیمیں بنوائیں جو اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کے تحت قومی سلامتی کے ضامن اداروں کیخلاف منافرت پھیلا رہی ہیں۔ بلوچستان میں نسلی ،لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی بناء پر سینکڑوں بیگناہ افراد کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا کر غیر ملکی قوتوں کے پروردہ آلہ کار تخریب کاروں نے خطرناک خونی کھیل کھیلا۔ان غیر ملکی ایجنٹوں نے الیکشن 2013 کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھی دہشتگردی کی کاروائیاں کر کے خوف وہراس کی ایسی فضا پیدا کی جس کی وجہ سے بلوچستان میں ووٹوں کا ٹرن آؤٹ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بہت کم رہا۔ہمارے بعض سیاسی عناصر خصوصاً بلوچ سردار دشمن قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور ان قوتوں کے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ان کے مدد گار ہیں جس کے عوض میں انہیں بھاری مالی امداد، جدید اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ عناصر بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر اور کراچی میں لسانی قوتوں کو منظم کر کے آپس میں لڑوانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ ان عناصر کو بین الاقوامی خفیہ ہاتھ منظم کر رہے ہیں۔بلوچستان میں نواب محمد اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے بعد غیر ملکی قوتوں کو بلوچستان میں اپنا نیٹ ورک بڑھانے کا موقع مل گیا اوراس طرح بر ہمداغ بگٹی سمیت کئی بلوچ رہنماؤں کو بھارت اور افغانستان کی سر پرستی حاصل ہوگئی۔غیر ملکی قوتوں نے ناراض بلوچ تحریکوں کو سرمایہ اور اسلحہ فراہم کر کے حکومتی اداروں کے مدمقابل لا کھڑا کیا اور بلوچ نوجوانوں کو جنگی تربیت دینے کیلئے افغانستان میں ایسے مراکز قائم کئے گئے جہاں بھارتی فوج کے سابق اور حاضر سروس فوجی آفیسران بلوچ نوجوانوں کی برین واشنگ کے ساتھ ساتھ ان کو عسکری تربیت دیتے ہیں۔ ان تربیت یا فتہ بلوچوں کو استعمال کر کے بلوچستان میں ریاستی اتھارٹی اور حکومتی رٹ کو چیلنچ کیاجاتا رہا۔بھارت افغانستان میں پناہ گزین براہمداغ بگٹی کے علاوہ دیگر بلوچوں کو بلوچستان میں بدامنی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت بلوچستان کے علیحدگی پسندبھارتی سرمائے سے یورپی ممالک برطانیہ، کینیڈا، دبئی، اومان کے ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔ راء کے زیر سرپرستی بلوچ علیحدگی پسندوں کو تخریبی کارروائیوں کیلئے افغانستان میں قائم مختلف تعلیمی اداروں میں ورغلا کرعظیم تر بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن تھیوریاں بتائی جا رہی ہیں جس میں انہیں پاک فوج اور آئی ایس آئی سے متنفر کرنے کیلئے خصوصی سیمینارز کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔بھارت، امریکہ ، اسرئیل اور دیگر دشمن ممالک کے ایما پر افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال کر رہا ہے۔  افغانستان میں حقانی نیٹ ورک' تحریک طالبان پاکستان' جماعت الاحرار' القاعدہ کے ٹھکانے موجود ہیں جو دہشت گردی کے لئے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ ''را'' افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہی ہے۔حالیہ دہشت گردی میں باہر کے لوگ ملوث ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ہماری خفیہ ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہمارے بعض علماء  اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارتی ملوث ہیں۔دہشت گرد پاکستانی ہیں نہ مسلمان ، بلکہ دشمنوں کے تیارکردہ ہیں جنہیں مسلمان اور پاکستان کا لبادہ اوڑھا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ خود کش حملوں میں مدارس کے وہ بچے استعمال کئے جاتے ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا۔ نام نہاد مولوی اپنے بیرونی عناصر کے نظریات کی بنا پر ان کی ٹریننگ کرتے ہیں اور انہیں خود کش حملوں کیلئے بھیج دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان میں موجود بھارت کے قونصل خانے بہت سرگرم عمل ہیں۔ طالبان کے دور میں افغانستان میں بھارت کا ایک بھی قونصل خانہ موجود نہ تھا مگر نائن الیون کے بعد بھارت امریکہ کی شہ پر افغانستان میں قدم جما چکا ہے۔ بھارت نے افغانستان سے یتیم بچے اپنے ملک میں لا کر ان کو دہشت گردی کی ٹریننگ دی اور پھر ان کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے بھیج دیا۔ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ وطن عزیز میں فرقہ وارانہ فسادات کے پیچھے ''را'' کا ہاتھ ہے۔ پاکستان میں مختلف وارداتوں میں گرفتار ہونیوالے افراد یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے بھارت میں را  کے تربیتی کیمپوں سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔ بلوچستان بدستور غیرملکی سازشوں کا نشانہ بنا ہواہے'بھارت سے دوستی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ بھارت نہ پہلے پاکستان کا خیر خواہ تھا اور نہ ہی اب ہے بلکہ اس کا ایجنڈہ پاکستان کو کمزور اور ایٹمی پر وگرام ختم کر نا ہے مگر ابھی تک اس کو کا میابی نہیں ہوئی۔پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں ہونیوالی دہشت گردی سمیت ملک بھر میں ہونیوالی دہشت گردی کے اکثر واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے حکمران بھارت دوستی میں اندھے ہوچکے ہیں۔ دہشت گردی کے معاملے میں بھارت خود کفیل ہے جبکہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے وہ ڈرامہ رچا رہا ہے۔ہماری دعا ہے کہ بلوچستان کے منتخب عوامی نمائندے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مدد سے اپنے صوبے میں موجود غیر ملکی نیٹ ورک سے منسلک دہشتگردگروہوں کو راہ راست پر لانے کامیاب ہوں اور اپنی قیادت و سیادت سے بلوچ عوام کے دلوں کو مسخر کرتے ہوئے بلوچستان کو عالمی سپر پاورز کی سازشوں اورغیر ملکی ایجنسیوں کی ریشہ دوانیوں سے مستقل طور پر محفوظ کر سکیں۔