Get Adobe Flash player

70ویں سالگرہ پر پا کستان کے تقاضے ؟۔۔۔چوہدری محمد ریاض کھٹانہ

آ ج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قیام پا کستان کے لئے دس لا کھ شہید ہو نے والے شہدا ء کی قربانیو ں کو یا د کریں انگریز کی مکا ری اور ہندوبنئے کی عیا ری کو جا نیں ،د و قومی نظریہ کے مفہو م اورمعنی کو اگلی نسل میں منتقل کریں پا کستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کی حقیقت کو جا نیں جن لو گوںنے پا کستان بنتے دیکھا ہے ان کے تجربا ت واحسا سات سے مستفید ہوں قرآن کریم کی اس آ یت مبا رکہ (سورة البقرہ کی آ یت نمبر154)ترجمہ ''اور جو لو گ اللہ کی راہ میں قتل کئے جا ئیں ان کی نسبت یو ں  بھی مت کہو کہ وہ مر دہ ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم اس کا ادراک نہیں کر سکتے ''کو سمجھتے ہو ئے پا کستان کو اللہ کی عطا ء اور نعمت سمجھ کر اس کی قدر کریں تا کہ اللہ تعا لیٰ اس شکرانے کے صلہ میں ہمیں پا کستان جیسی عظیم نعمت سے مستفید ہو نے کی بھر پور تو فیق عطا ء فرما ئے  ۔  لہذا آ ج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وطن عزیز کو صحیح معنو ں میں علا مہ اقبال اور قا ئد اعظم کا پا کستان بنا نے کیلئے جدو جہد کریں ہما رے قول فعل سے  یہتا ثر ابھرے کہ ''تجھ پر دل قربا ن '' تجھ پر جا ن بھی قربان ہے تو میرا پا کستان ہے تو میرا پا کستان ہے ''بحثیت پا کستانی ہما رے قول فعل سے وہ تا ثر ابھرے جو با نی پا کستان قا ئداعظم محمد علی جنا ح کی دلیل اور عزم سے ظا ہر ہو تا تھا ہم قائد کی تقلید کرتے ہو ئے اپنے اقتدار کا نہیں بلکہ اپنی اگلی نسلوں کو سنوارنے کا سو چیں ہم اپنی ذات کی نفی کر کے قوم کی بہتری کو سامنے رکھ کر نصب العین ترا شیںپا کستان کو لیڈکرتے ہو ئے ہما رے ذھین میں قرآ ن حکیم کے یہ الفا ظ مو جزن ہو ں کہ ترجمہ '' اے اللہ ہمیں متقیوں کا امام بنا ''وطن عزیز پا کستان سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھا ڑ پھینکیں قرآنی تعلیما ت کو وطن عزیز کے اندر عملی طو پر نا فذ کریں اسی میں ہما ری دنیاو آ خرت کی کامیا بی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآ ن حکیم میں سورة طہ ٰ کی آ یت نمبر124میں ارشاد فرما یا ہے کہ ترجمہ '' اور جو شخص میری اس نصیحت (قرآن پا ک )سے ا عراض کریگا تو اس کیلئے تنگی کا جینا ہو گا اور قیا مت کے روز ہم اس کو اندھا کر کے(قبر )سے اٹھا ئیں گے ''اس میں کو ئی شک نہیں کہ دنیا گلو بل ویلج بن چکی ہے مگر یا د رہے آ ج ضرورت اس امرکی ہے کہ ہما ری درسگا ہو ں ، یو نیورسٹیوں اور دانش گا ہوں کو بطو ر ایک اسلامی ملک کی درسگا ہوں کے طور پر قرآ ن تعلیما ت کو عملی طور پرشامل نصاب کر کے ہی منفرد مقام مل سکتا ہے ۔لہذاضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے یہ تعلیمی مراکز ہر قسم کی کام چو ری ، جعل سازی ،تسائل پسندی اور چو ر بازا ری سے مکمل پا ک ہوں یعنی کرپشن کے عنصر کو زندگی کے ہر شعبہ سے ختم کرنے کی تعلیمات کو عام کر نا ہو گا  آ ج بحثیت سچے پا کستانی ہمیں ہر قسم کی گروہ بندی مخالفتوں اور نفرتوں کو ختم کرتے ہو ئے ایک قوم ہونے کا نقشہ پیش کرنا ہو گا ہماری سیاست کا مرکز و محور حقوق العباد کی ادائیگی کوسہل بنانا مقصود ہو نہ کہ ہماری سیاست کا روبار اور ذاتیات تک اور جا ئز ،نا جائزطریقے سے حکمرا نی کرنے تک محدو د ہو کر رہ جا ئے آ ج بحثیت سچے پا کستا نی ہم کچھ دیر کیلئے سر پکڑ کر سوچیں تو سہی کہ آ خر کیا وجہ ہم اسلا می دنیا کی پہلی اور دنیا بھر کی ساتویں ایٹمی پا ور بن جا نے کے با وجو د ، اسلامی دنیا کا قلعہ قرا ر پا نے کے با وجو د ،سی پیک منصوبہ کی وجہ سے کا روبا ری دنیا کا مرکز بن جا نے کے با وجود ، سپو رٹس کی دنیا میں اپنے آپ کو دنیا کا چمپئین ڈکلئیر کروا نے کے با وجود ، دنیا وا لوں کے اوپر اپنے قا بل ترین سائینسدا نوں اور فتین و معصوم ذہنوں کی توسط سے دھاک بٹھا لینے کے با وجو د ہم اپنا اصل مقام حا صل کرنے میں کا میا ب کیوں نہیں ہو پا رہے تو یقینا ہما را ضمیر جوا باً ہمیں جنجھو ڑے گا آ ج ہم سچے پا کستا نی ہو نے کی حیثیت سے یہ با ت سمجھنے سے قا صر ہیں کہ ہم علا مہ وقا ئد کی محنتو ں کا ثمرہ اس مملکت خدا داد پا کستان کے خمیر سے اٹھنے والی اس آ وا ز کو نہیں سن پا رہے جس کی با ز گشت ہمیں با  ور کرانے میں بدستو ر مصروف ہے کہ آ ج ہما را وطن عزیز پا کستان ہم سے سچا پاکستانی بننے کا تقا ضا کر رہا ہے یا د رکھیں اگر آ ج ہم خدانخواستہ اس مملکت خداداد پا کستان (جس کا نام تجویز کرنے وا لے چو ہدری رحمت علی کی قبر پر اللہ ہزاروں اورلا کھو ں رحمتو ں کا نزول فرما ئے )کہ تقا ضوں کونہ سمجھ سکے تو عزیز ان وطن و ذمہ داران وطن سن لو  اللہ تعالیٰ نے قرآ ن پا ک میں سورة الواقعہ کی آ یت نمبر60اور 61میں واضح کر دیا ہے کہ ترجمہ '' ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا یا اور ہم اس سے ہا رے نہیں کہ تم جیسے اور بدل دیں اورتمہا ری صورتیں وہ کردیں جس کی تمہیں خبر نہیں '' پھر اللہ تعالیٰ سورہ یٰسین کی آ یت نمبر43اور 44ترجمہ '' اور اگر ہم چاہیںتوان کو غرق کر دیں پھر نہ تو کو ئی ان کا فریا د رس ہو اور نہ ہی یہ خلا صی دیئے جا ویں مگر ہا ں یہ ہما ری مہربا نی ہے اور وقت مقررہ تک ان کو نفع پہنچا نا ہے ''میں واضح کر دیا ہے کہ میری لا ٹھی بے آ وا زمیں با اختیار ہوں اورمیں صرف ایک محدود مدت تک اپنے بندوں کو آ زما تا ہوں اور مقررہ مدت ختم ہو جا نے پرمیری طرف سے پکڑآ جا تی ہے جس کا نقشہ حالی نے اپنے شعر میں کچھ یو ں کھینچا ہے کہ نا جا اس کے تحمل پر کہ بے ڈھب ہے گرفت اس کی ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
تحریر :۔ چو ہدری محمد ریا ض کھٹانہ ۔ چو ہدری ہا ئو س حبیب لین اڈیالہ روڈ را ولپنڈی
0301-5423247