Get Adobe Flash player

ناکامیوں کا ذمہ دار پھر پاکستان قرار ۔۔۔ظہیر الدین بابر

 توقعات کے عین مطابق امریکہ کی نئی افغان پالیسی میں پاکستان کے لیے خیر کا پہلو کم ہی نکلا۔ بظاہر صدر ٹرمپ نے ڈو مود کی اسی پالیسی کو آگے بڑھایا  جو امریکہ بہادر کی جانب سے کئی  سالوں سے جاری وساری ہے ۔  سچ یہی ہے کہ پاکستان بارے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دھمکی آمیز لہجہ  دونوں ملکوں معاملات کو مزید خراب کرنے کا باعث بن سکتا۔ دنیا کی واحد اکلوتی سپرپاور ہونے کے دعویدار امریکہ  کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ  افغانستان میں سے اپنی فوجوں کو واپس بلانے کے وعدے سے انحراف کرتے نظر آتے ہیں اس کے برعکس ان کی جانب سے  مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی راہ ہموار کرتے ہوئے  پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام دہرا گیا ۔اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ   پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کا واویلا کرتے رہے مگر کسی مخصوص علاقے کا تنظیم کا نام نہ لیا۔امریکی صدر کی افغان پالیسی میں جو لب ولہجہ اختیار کیا گیا اسے کسی طور پر سفارتکاری نہیں کہا جاسکتا۔ ایک بار پھر  ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ناقدین کے اس دعوے پر پورا اترے کہ  موجودہ امریکی صدر  سفارتکاری نہیں کرسکتے بلکہ   دھمکیوں سے کام چلانے کے ماہر ہیں۔  ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر بڑی حد تک تضادات سے پر رہی ایک طرف وہ یہ کہتے رہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاںدیں جبکہ دوسرے جانب ان کا موقف تھا کہ انتہاپسندی کے خاتمہ کے خلاف پاکستان کا کردار  تسلی بخش نہیں۔  صدر ٹرمپ نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ وہ  افغانستان کی جنگ جیتیں گے، جس کے لیے وہ مختلف سماجی، اقتصادی، سفارتی اور فوجی ذرائع استعمال کریں گے۔صدر ٹرمپ کی تقریر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ   افغانستان کی جنگ جیتنے کے نام پر پاکستان میں انواع واقسام کی پابندیاں لگانے کی حکمت پر سوچ وبچار کررہا رہے۔  سوال یہ ہے کہ افغان مسلہ کو حل کرنے کے لیے  پاکستان کا تعاون کرنا ضروری ہے تو پھر اس حقیقت کو حقیقی معنوں میں تسلیم بھی کرنا ہوگا۔  بعض حلقوں کے خیال میں صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی  یہ پیغام دے رہی کہ امریکہ کے ساتھ  پاکستان نے حقیقی  تعاون نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ 16 سال میں جنگ نہیں جیت سکا۔ امریکہ کی نئی افغان پالیسی کی بھارت نوازی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف   بھارت کو کہا جارہا ہے کہ وہ افغانستان میں مزید اقتصادی تعاون کرے جبکہ دوسری طرف ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے  کہ پاکستان طویل عرصہ سے امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو یہ باور کروانے کی کوشش  رہا کہ  افغانستان میں بھارت کا اثر رسوخ  اس کے لیے مسائل پیدا کررہا۔ ریکارڈ پر موجود ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی بڑی کاروائیوں کے تانے بانے افغانستان سے ملے ہیں جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی قیادت را کی سرپرستی میںمتحرک  ہے۔دراصل  امریکا  بھارت کو  افغانستان میں بھر پور کردار دے کر پاکستان اور چین دونوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا چاہتا ہے۔ انکل سام کی  خواہش یہ بھی ہے کہ بھارت تیزی سے اپنا اثررسوخ بڑھاتے ہوئے روس کے راستہ میں بھی رکاوٹ بنے ۔ بعض حلقے تو یہاں تک کہہ رہے  کہ  امریکہ کی کوشش ہے کہ  بھارت اپنی فوجیں بھی افغانستان بھجوائے مگر آثار یہی ہیں کہ بھارت اس چال میں نہیں آئے گا۔اس میں شک نہیں رہا کہ پاکستان کا چین کی جانب رجحان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ بنا رہا ۔ سی پیک پر امریکہ اعتراضات بھی کسی سے مخفی نہیں رہے۔  نئی افغان پالیسی میں انکل سام کا ہدف چین اور پاکستان دکھائی دیتے ہیں ۔ دوسری جانب یہ سب کچھ ایسے ماحول میں ہورہا  جب  بھارت اور چین کی فوجیں آمنے سامنے ہیں ۔سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ایک بار پھر امریکہ  افغان مسئلہ کو طاقت سے حل کرنے کی جسجتو میں ہے۔ امریکہ بہادر  بھول رہا کہ گذشتہ 16 سال سے  قوت ہی استعمال کررہا  مگر  اسے کامیابی نہیں مل سکی۔ امریکہ کی نئی افغان پالیسی جہاں چین اور پاکستان کو قبول نہیں  ہوگی وہی  ایران، روس اور خطے کے دیگر ممالک بھی اس پر اعتراض کرسکتے ہیں جو تنازعہ  افغانستان کو  پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔دوسری جانب وطن عزیز میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو امریکہ کی نئی افغان پالیسی کو پاکستان کے لیے سبق قرار دے رہے ۔  یہ اعتراض بھی اٹھایا جارہا کہ دراصل  دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ کے کہنے پر اٹھائے جانے والے بعض اقدامات ملک کی مشکلات میں اضافہ کرگئے ۔ امریکہ اب بھی  یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ عصر حاضر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کم وبیش ساٹھ ہزار سے زائد شہری اور سیکورٹی فورسز کی قربانی دی،اربوں ڈالر کی املاک کا نقصان اٹھایا  مگر اس کے باوجود  ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف ہے کہ'' پاکستان افراتفری پھیلانے والوں کو اکثر پناہ دیتا ہے اور اس کے ہاں  دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔''بلاشبہ آنے والے دنوں میں امریکہ کی جانب سے پاکستان پر مختلف حوالوں سے دباو بڑھایا جاسکتاہے۔ لازم ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے قومی سطح پر باہم اتفاق واتحاد کو فروغ دیں تاکہ ہر علاقائی اور بین الاقوامی دشمن کے عزائم خاک میںملائے جاسکیں۔