بغل میں چھری منہ میں رام رام۔۔۔سعد فاروق

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاہے کہ نہ گالی سے اور نہ گولی سے، کشمیر کا مسئلہ ہر کشمیری کو گلے لگانے سے حل ہو گا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت کے 70ویں یوم آزادی پر دہلی کے تاریخی لال قلعہ میں خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ہمیں کشمیر کے معاملے پر مل کر کام کرنا ہو گاتاکہ کشمیر کی جنت کو ہم دوبارہ محسوس کر سکیں اور ہم اس کے لیے پرعزم ہیں۔بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کا نام لیے بغیردعوی کیا کہ جب سرجیکل اسٹرائیک ہوئیں تو دنیا نے ہماری طاقت کو تسلیم کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا کے بہت سے ملک ہماری مدد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیا بھارت جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ تک محدود نہیں۔ نئے بھارت کی جمہوریت ایسی ہو گی جس میں نظام کے بجائے عوام سے ملک چلے گا۔مودی کی یہ بات بغل میں چھری منہ میں رام رام کے مقولے کے عین مطابق ہے ایک جانب بھارت مقبوضہ کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے بھارتی فوج ہر وقت بیگناہ کشمیریوں پر ریاستی دہشت گردی میں مصروف ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور رواں سال میں اب تک 216 کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے 2016 کے مقابلے میں رواں سال وادی میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید کیے جانے والے کشمیریوں کی تعداد میں 100 گنا اضافہ ہوا ہے رواں سال کے 7 ماہ کے دوران اب تک 216 کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے جب کہ جون میں تمام مہینوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ 48 شہادتیں ہوئیں۔2017 سب سے پرتشدد سال ہے گزشتہ ماہ جولائی میں بھی بھارتی فوج کے ہاتھوں 33 کشمیری شہید ہوئے جب کہ 3 سے 4 روز کے دوران بھی 10 سے زائد کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی میں بے انتہا تیزی آئی اور حالات بھارتی فوج کے کنٹرول سے باہر ہو گئے مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد 7 لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی برہان وانی کی شہادت کے بعد جہاں پوری دنیا میں بھارتی دہشت گردی دنیا کے سامنے آئی اور بھارت کا بھیانک چہرہ سامنے آنے پر دنیا نے بھارت سے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کیا جولائی 2016 کے بعد برہان وانی شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سینکڑوں کشمیری نوجوانوں نے مجاہدین کی صفوں کا رخ کیا مقبوضہ وادی میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی میں اضافے کے باوجود پتھر بازوں میں بھی اضافہ ہوا ہر کشمیری سینہ تان کر بھارتی فورسز کے سامنے کھڑا ہوا۔بھارت میں مودی حکومت آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا ظلم مزید بڑھا ہے مودی سرکار نے بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دی مقبوضہ کشمیر میں مودی نے تحریک آزادی کو نقصان پہنچانے کے لیے کشمیریوں کو آپس میں لڑا دیا چند نوجوانوں کو ورغلا کر تحریک آزادی کے راہنمائوں کے خلاف بیانات دلوائے کشمیری مجاہدین کو بدنام کرنے کے لیے بھارتی ایجنسی را نے مودی حکومت سے کھلی چھوٹ ملنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں خفیہ آپریشنز کیے جن میں ہر علاقے میں تحریک آزادی کے حامیوں اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی نشاندہی کی گئی جس کے بعد بھارتی فوج نے را کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات کے تحت تحریک آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو اندھا دھند شہید کیا ہر شہید پر مجاہد ہونے کا لیبل لگایا گیا شہادتوں کی تعداد چھپانے کے لیے بھارتی ایجنسی کی جانب سے فوج کو کیمیائی ہتھیارفراہم کیے گئے بھارتی فوج نے ان کیمیائی ہتھیاروں کو کشمیریوں پر استعمال کیا جس کے بعد شناخت ہونا تودور کی بات انکی تعداد بھی چھپا لی گئی درجنوں کشمیریوں کو شہید کرکے تعداد ایک دو ظاہر کی جاتی ہے اسی مہینے 3 اگست کو قابض فوج نے ضلع کپواڑہ میں فوجی آپریشن کیا اور اس دوران فائرنگ سے 5 نوجوانوں کو شہید کردیا گیا۔صرف دو دن پہلے ایک مظاہرے کے دوران بھارتی فوج کی جانب سے فائر کی گئی پیلٹ گن سے دو نہتے کشمیری طالب علم شہید ہو گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے کئی نوجوانوں کی بینائی جاتی رہی 7 اگست کو بھارتی فوج ضلع پلوامہ میں ایک کشمیری نوعمر لڑکے کو شہید کیا 8 اگست کو بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں مزید پانچ کشمیری نوجوان شہید ہوگئے-تاحال شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے دنیا کے ممنوعہ ہتھیار بھارتی فوج کھلے عام استعمال کر رہی ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے ایک جانب عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کو بھارتی فوج اپنے فوجیوں کے ذریعے کشمیر میں پروان چڑھانے کی کوشش کر رہی ہے بھارتی فوجی سول کپڑے پہن کر مختلف مظاہروں اور شہدا ء کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں تاکہ کشمیریوں میں عالمی دہشت گرد تنظیم کے پراپیگنڈے کو پھیلا کر ان کو بھارتی فوج مدمقابل لڑنے کی بجائے آپس میں ہی لڑایا جائے تو دوسری طرف بھارتی ایجنسی را ایک بڑی سازش کے ذریعے حریت راہنمائوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے گرفتار کر رہی ہے ان راہنمائوں کو بھارت لے جایا جا رہا ہے تاکہ انکا مقبوضہ کشمیر کے لوگوں سے رابطہ کٹ جائے اور نوجوانوں کو گمراہ کرکے آپس میں لڑایا جائے تاکہ برہان وانی شہید کی شہادت کے بعد سے جو تحریک آزادی میں تیزی آئی وہ بالکل ختم ہو جائے اور ان نوجوانوں کے راہنمائوں کو بھارت کی جیلوں میں رکھ کر ٹارچر کرکے شہید کر دیا جائے اور مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے لیے کوئی آواز بلند کرنے والا نہ بچے۔بھارت وزیر اعظم کے نام نہاد جمہوریت کے دعوی کا یہ حال ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے لیے لڑنے والے ایک نوجوان مسرت عالم کو 1990 سے مسلسل جیلوں میں رکھا جا رہا ہے ایک نہتے سول نوجوان پر درجنوں دفعہ بدنام زمانہ پبلک سفیٹی ایکٹ لگا کر انکی جوانی جیلوں کی نظر کر دی گئی اور اب کئی ماہ سے انکو وادی سے دور جموں کی جیل میں بند کر دیا گیا تاکہ ان سے بھی کوئی ملاقات نہ کر سکے اور انکو ٹارچر کر کے شہید کر دیا جائے مودی سرکار کی جمہوریت اور انسانیت کا یہ عالم ہے کہ ایک عورت سے پورا بھارت ڈر رہا ہے حضرت خنسا رضی اللہ عنہا کی مثال بنی مقبوضہ کشمیر کی بہادر بیٹی آسیہ اندرابی پچھلے 30 سالوں سے بھارتی تشدد کا نشانہ بن رہی ہے ساری زندگی کے ٹارچر سے وہ مسلسل بیمار ہے لیکن بیماری کے باوجود ان پر مسلسل 20 مرتبہ بدنام زمانہ پبلک سفیٹی ایکٹ لگا کر انکو جموں کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ایک ایسے وقت جب انکو ہسپتال رکھنے کی ضرورت ہے انکو دوردراز کی جیلوں میں رکھا جا رہا ہے جہاں نہ انکا علاج ہو رہا ہے نہ دوائیاں مہیا کی جا رہی ہیں انکے ساتھ انکی سیکرٹری فہمیدہ صوفی کو بھی مسلسل گرفتار کرکے ٹارچر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کئی دفعہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے دبائو کے باوجود انکو بیرون ملک نہیں جانے دیا جا رہا تاکہ وہ بھارتیوں کے ظلم ستم کو دنیا کے سامنے نہ لا سکیں صبرو استقامت پر ڈٹے یہ کشمیری آج اپنے پاکستانی بہن بھائیوں اور اقوام متحدہ،او آئی سی جیسے کئی انسانی حقوق کے اداروں کی طرف مدد کے لیے دیکھ رہے ہیں جو جانوروں کے لیے دنیا بھر میں شور برپا کر دیتے ہیں اورکسی غیر مسلم کو کانٹا چبھنے پر پوری دنیا میں حقوق حقوق کا رونا روتے ہیں لیکن ان کو اپنے ہی خون میں رنگے، بینائی سے محروم،جیلوں میں اذیتیں سہتے کشمیری کیوں نظر نہیں آتے وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر کو لیکر پوری دنیا کو آگاہ کرکے بھارت سے ستر سال پہلے منظور کی گئی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرائے ۔ حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں کی اصلا ح کریں اور کشمیریوں کی کھل کر مددوحمایت کی جائے۔