اطلاعات تک رسائل بل کی منظوری، تاریخ ساز کامیابی۔۔۔ضمیر نفیس

جمہوریت کے اجزائے ترکیبی میں جہاں شہریوں کے دیگر بہت سے حقوق شامل ہوتے ہیں مثلاً تنظیم سازی کا حق ، ووٹ کا حق ، تحریر اور تقریر کی آزادی کا حق اسی طرح معلومات تک رسائل کا حق بھی شامل ہے مضبوط جمہوری معاشروں اور حکومتوں میں اس حق کی  بے حد اہمیت ہوتی ہ اور شہریوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں جمہوریت کے اپنے وجود کو یہی خطرات لاحق رہے ہیں وہاں اس قسم کے حق کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وطن عزیز میں بعض لیڈروں اور سیاسی جماعتوں نے گاہے گاہے اپنے طور پر یہ کوشش ضرور کی ہے کہ شہریوں کے اس حق کو یقینی بنایا جائے اور اس کیلئے قانون سازی کی جائے مسلم لیگ (ن) قابل تعریف ہے کہ اس نے اس معاملے کو اپنے منشور میں شامل کیا اور قوم سے وعدہ کیا کہ وہ افراد معاشرہ کے اس حق کو یقینی بنائے گی چنانچہ اطلاعات و نشریات کی وزیر مملکت محترمہ مریم اورنگزیب نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اس طرف بھی خصوصی توجہ دی سینٹ کے ایوان میں مذکورہ بل کی منظوری سے قبل اس کے اہم خدوخال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بل کے ذریعے شفاف اور موثر انداز میں معلومات تک رسائل جو صرف معقول پابندیوں کے تابع ہو اسے یقینی بنایا گیا ہے بل کے تین حصے ہیں جن میں عوامی مفاد کا تحفظ کیا گیا ہے بل کی منظوری کے بعد معلومات تک رسائل آسان ہوجائے گی بل کی رو سے دس دنوں کے اندر معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔معلومات روکنے کی صورت میں دو سال سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا وزیر مملکت کے مطابق صوبوں میں یہ بل پہلے ہی متعارف ہوچکا تھا انہوں نے بل کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں سینیٹر فرحت اللہ بابر اور سینیٹر کامل علی آغاز کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ بل کی منظوری کے بعد چھ ماہ کے اندر رولز بنائے جائیں گے ارجنٹ معلومات کی تین روز کے اندر فراہمی یقینی ہوگی اگر معلومات فراہم نہیں کی جارہی تو اسکی ٹھوس وجوعات بتانی ہوں گی وزیر مملکت نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے معلومات تک شفاف رسائل کا وعدہ پورا کردیا ہے بل کو تمام جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے سے تیار کیا گیا ہے اب کسی کو معلومات کی فراہمی سے انکار نہیں کیا جاسکے گا ان کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت نیشنل سکیورٹی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے جبکہ انفارمیشن کمیشن کے ذریعے پارلیمانی نگرانی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ بل پر تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے یہ پیغام واضح ہوا ہے کہ پارلیمنٹ میں تمام جماعتیں اتفاق رائے سے اہم ترین اور حساس معاملے میں بھی کامیابی حاصل کرسکتی ہیں۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات جو سینیٹر کامل علی آغاز کی سربراہی میں کام کرتی ہے اس میں ان کا معلومات تک رسائل کے حوالے پہلے سے ایک غیر سرکاری بل موجود تھا یہ امر خوش آئند ہے کہ اس بل سے بھی حکومت نے رہنمائی حاصل کی ہے جس کے نتیجے میں حکومت اور اپوزیشن کا ایک متفقہ بل سامنے آیا ہے سینٹ سے اسکی منظوری کے بعد اب اگلے مرحلے میں اسے قومی اسمبلی سے منظور کروایا جائے گا جس کے بعد صدر مملکت سے منظوری حاصل کی جائے گی اور اس کے رولز وضع کئے جائیں گے۔یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ اس سے قبل نہ صرف صحافیوں اور عام شہریوں کو بعض معلومات اس جواز کے تحت فراہم نہیں کی جاتی تھیں کہ ان کا تعلق قومی مفاد اور سلامتی سے ہے بلکہ پارلیمنٹ کو بھی بعض اوقات متعلقہ اداروں کی طرف سے اسی جواز کے تحت انکار کیا جاتا تھا اس بل میں قومی مفاد و سلامتی اور عوامی مفاد کی حدود کا تعین کیا گیا ہے اب ہر معاملے میں قومی سلامتی کی آڑ میں معلومات کی فراہمی سے انکار نہیں کیا جاسکے گا۔ سینٹ سے متفقہ طور پر اس بل کی منظوری ایک تاریخ سازش حیثیت رکھتی ہے بلاشبہ یہ حکومت عوام اور جمہوریت کی اہم کامیابی ہے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتحاد و اتفاق کے اس جذبے کو نہ صرف برقرار رہنا چاہیے بلکہ اسے مضبوط ہونا چاہیے۔