Get Adobe Flash player

سی پیک پر بھارت بوکھلاہٹ کا شکار۔۔۔ریاض احمد چوہدری

   پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک )علاقے میں معاشی محرومی سے نجات اور امن و خوشحالی کے نئے دور کے آغاز سے نہ صرف پاکستان کے لیے ''گیم چینجر '' ثابت ہوگی بلکہ پورے خطے کی تقدیر بھی بدل جائے گی۔ پاکستان اور چین یک جان دو قالب ہیں۔ چین دنیا بھر میں پاکستان کی عزت کا محافظ ہے، اس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی اور تنہا نہیں چھوڑا۔سی پیک منصوبہ کی تاریخی ، تزویراتی اور اقتصادی اہمیت اگرچہ اب کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ قوم جمہوری حکومت کی جانب سے معاشی ثمرات کی منتظر بھی ہے جب کہ اس اہم ترین قومی اقتصادی منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کے خدشات بھی غیر معمولی شکل اختیار کررہے ہیں اور پہلی بار اس کی نشاندہی ایک اعلیٰ چینی عہدیدار نے کی ہے۔چین نے بھارت کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے بلوچستان یا پاک چین اقتصادی راہداری کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو چین بلا تاخیر اسے منہ توڑ جواب دیگا۔بھارت کا کوئی بھی اقدام صرف پاکستان کے خلاف ہی نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔چین کو خدشہ ہے کہ بھارت بلوچستان میں موجود حکومت مخالف عناصر کو استعمال کر کے چین اور پاکستان کے درمیان 46 ارب ڈالر کی لاگت سے جاری پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ زمینی حقائق سے جڑے اندیشے ہیں جنہیں ارباب اختیار بلوچستان کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھے۔ بھارتی مذموم عزائم سے ہمہ وقت خبردار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ بقول اتر پردیش کی سابق وزیراعلیٰ مایا وتی کے نریندر مودی کی حکومت ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان سے جنگ چھیڑ سکتی ہے۔دیگر بھارتی سیاست دان اور اپوزیشن لیڈر مودی کے خبث باطن کے کئی گوشوں کو بے نقاب کرچکے ہیں۔سی پیک منصوبہ عالمی مفاد پرست قوتوں کے گٹھ جوڑ کا شرمناک مشترکہ ہدف بھی بن سکتا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان انکشاف کر چکے ہیں کہ بھارتی سفارت کاروں کے طالبان سے رابطے تھے اور اس امر کے ثبوت مل گئے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بھارت کی ان کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جائیں اور کراچی، گلگت اور بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کیا جائے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت اس حوالے سے اپنے سفارتکاروں کو بھی استعمال کر رہا ہے پاکستان کے بھارتی سفارت خانے میں کام کرنے والے پانچ اہلکار سی پیک کے خلاف سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف سطحوں پر کام کر رہے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کے مجوزہ روٹ پر جس طرح گزشتہ کچھ سالوں سے دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں ۔ انہیں دیکھ کر پاکستان کے عوام اور عالمی برادری نے پہلے ہی اندازہ لگا لیا ہے کہ کوئی قوت ایسی ہے جو یہ چاہتی ہے کہ سی پیک کے منصوبے پر عمل درآمد نہ ہو۔''سی پیک'' منصوبہ جتنا عظیم الشان ہے، اس کی مخالفت کرنے اور اسے ناکام بنانے والے بھی اْتنے ہی بڑے پیمانے پر سامنے آرہے ہیں۔ بھارت اور امریکا ان مخالفین میں پیش پیش ہیں۔جب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف نئے انداز میں حالات بگڑے ہیں۔ سی پیک کے خلاف بھارتی آوازیں اور سازشیں مزید بڑھ گئی ہیں۔مذموم عزائم کے حصول کے لئے بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ بھارتی بحریہ بھی اپنی آبدوزوں کو پاکستان کے خلاف تعینات کر رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال بھارتی آبدوز کا پاکستانی علاقے میں گھس کر تخریب کاری کی حرکت کرنا ہے۔ جہاں بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی تشویشناک حد تک لگاتار خلاف ورزیاںکر رہی ہے وہیں بھارتی بحریہ بھی خفیہ مقاصد کے حصول کے لئے اپنی آبدوزیں پاکستان کے خلاف تعینات کر رہی ہے۔تاہم پاک بحریہ نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ ہر دم چوکنا رہتے ہوئے کامیابی سے بھارتی آبدوزکا سراغ لگا کر اْسے پاکستانی سمندری علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا اور پاکستانی پانیوں سے مار بھگایا۔گزشتہ سال پاکستان کے سمندری علاقے کے جنوب میں پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس کی مدد سے بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگایا اور اس کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا۔ بھارتی آبدوز نے اپنی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن پاکستان نیوی فلیٹ یونٹس نے آبدوز کا مسلسل تعاقب جاری رکھا اور اْسے پاکستانی پانیوںسے دھکیلتے ہوئے مار بھگایا۔ گہرے سمندر میں بھارتی بحریہ کی آبدوز کا سراغ لگانا اوراس کی مسلسل نگرانی کا یہ اہم کارنامہ نہ صرف پاکستا ن نیوی کی اینٹی سب میرین وار فیئر کی اعلیٰ صلاحیتوں کامنہ بولتا ثبوت ہے بلکہ پاکستان کی بحری سرحدوں کے دفاع میں بلند عزم اورمضبوط عہد کا بھی عکاس ہے۔ پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو چارروز تک مانیٹر کیا۔ بھارتی آبدوز 4 روز تک سطح سمندر پر نہیں آئی اور پاک بحریہ نے اسے سطح سمندر پر آنے پر مجبور کیا۔ آبدوز جرمن ساختہ 209 تھی۔ بھارتی آبدوز شیشوش مرنے نے پاکستانی پانیوں میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ بھارتی آبدوز جاسوسی اور جنگی مقاصد کیلئے آئی تھی۔ کموڈور (ر) عبیداللہ نے کہا ہے کہ بھارتی آبدوز خطرناک ارادوں سے پاکستانی حدود میں داخل ہونا چاہتی تھی۔  دفاعی تجزیہ کاروں نے بھارتی جارحیت کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ کوشش سی پیک کو نقصان پہنچانے کیلئے تھی۔ سینئر دفاعی تجزیہ کار کموڈور (ر) عبداللہ اور ایڈمرل (ر) تسنیم احمد نے کہاکہ یہ بھارت کی انتہائی مہلک ترین آبدوز تھی اللہ نے پاکستان کو بڑے خطرے سے بچا لیا ہے۔ بھارتی آبدوز کے پاکستان آنے کے تین سے چار مقاصد ہو سکتے ہیں۔ بھارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )کی وجہ سے بہت پریشان ہے اور اس وجہ سے اوٹ پٹانگ حرکتیں کررہاہے ۔ وہ پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے کئی طریقے اپنا رہاہے اور یہ اس کی زندہ مثال ہے۔ اس آبدوز کا بظاہر نشانہ اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ تک پہنچنا تھا۔ یہ آبدوز پاکستان پانیوں میں گھسنا چاہتی تھی۔  آبدوز میں بھارتی ایس ایس جی کے لوگ اور دہشگرد تھے۔ لینڈ کرنے کے بعد بلوچستان میںکارووائی کرنا تھی۔کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ بھارتی بحریہ کا سارا ٹارگٹ بلوچستان کا ساحل ہے۔ ان کا مقصدسی پیک کو نقصان پہنچانا تھا۔ آبدوز بھیجنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تینوں فورسز کو دبائو میں رکھنا چاہتا ہے۔ پاک بحریہ کی چوکسی نے ملک کو بڑے خطرے سے بچا لیا۔لائن آف کنٹرول پربھارت کی جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں اسی طرح یہ بھی جارحانہ کارروائی ہی ہے۔ سمندر میں جارحانہ کارووائی کے کئی مقاصد ہیں وہ جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا دفاع کس حد تک محفوظ ہے۔ بھارت سمجھتا ہے کہ ان چیزوں سے پاکستان پر دبائو ڈال کر پاکستان کی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا،مگر اس کا الٹا اثر ہورہا ہے۔ سی پیک کی وجہ سے اس خطے میں جو نئی صف بندی ہو گی اس میں پاکستان کی اہمیت زیادہ اجاگر ہو گی اور بھارت کی اہمیت کم ہو گی۔ چین،روس اور پاکستان کی تثلیث کو ایک نئی عالمی طاقت کے ابھرنے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس تثلیث کے ساتھ ترکی اور ایران بھی اتحاد کرسکتے ہیں اور اس خطے میں ایک نیا بلاک بن سکتا ہے جو عالمی سطح پر انتہائی طاقتور بلاک ہو گا کیونکہ مذکورہ بالا ملکوں کے معاشی مفادات انہیں ایک دوسرے کے قریب لارہے ہیں۔ بھارت اس ممکنہ اتحاد یا بلاک میں اپنی مناسب پوزیشن نہیں دیکھ رہا اور وہ اس سے خوف زدہ بھی ہے۔ بھارت یہ بھی سمجھتا ہے کہ سی پیک سے نہ صرف پاکستان کو فائدہ ہو گا بلکہ چین پہلے سے بڑی معاشی طاقت بن کر ابھرے گا۔ سی پیک پر عمل درآمد نہ ہونے سے علاقائی اور عالمی سطح پر وہ صف بندیاں نہیں ہوں گی ۔، جو اس وقت ہو رہی ہیں اور جن کی وجہ سے بھارت اپنی حیثیت کھو رہا ہے اس لئے بھارت سی پیک کے منصوبے کو ہر حال میں سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔