ڈاکٹر رتھ فائو کی خدمات۔۔۔ڈاکٹر رئیس صمدانی

ڈاکٹر رتھ فائو جرمنی کے شہر Leipzingمیں 9ستمبر 1929کو پیدا ہوئی،1960میں اپنے وطن جرمنی کو خیر بادکہا اور پاکستان آئی۔اس وقت اس کی عمر 31 برس تھی ۔اس کا پورا نام Dr. Ruth Katherine Martha Pfau تھا۔ اس وقت پاکستان آنا ممکن ہے سیر و سیاحت کی غرض سیررہا ہو یا کوئی اور مقصد بھی ہوسکتا ہے۔ وہ انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سر شار تھی ، یہ جذبہ اس کے اندر موجود رہا ہوگا۔ اپنے اس جذبے کے تحت وہ کچھ ایسا کرنا چاہتی تھی جو مختلف اور انسانیت کے خدمت سے اس کا تعلق ہو۔ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران وہ کراچی پہنچی اس زمانے میں کراچی مختصر ، صاف ستھرا ، ہنگاموں، ڈرو خوف، دہشت گردی سے پاک صاف ہوا کرتا تھا۔ لوگ سرکاری بسوں ، گھوڑا گاڑیوں ، تانگوں ،بگھیوں، سائیکل رکشائوں، ٹرام اور پیدل سفر کیا کرتے تھے۔ میری رہائش اس زمانے میں قدیم کراچی یعنی لیاری کی ایک بستی آگرہ تاج کالونی میں تھی جو مسان روڈ کہلاتی تھی۔ میری عمراس وقت 12/13برس کی رہی ہوگی ، لوگ پیدل مسان روڈ سے کھارا در، میٹھا در، ایدھی کی ابتدائی ڈسپنسری ، قائد اعظم کی پیدائش گاہ حتی کے بولٹن مارکیٹ تک پیدل سفر کیا کرتے ، بولٹن مارکیٹ سے ٹرام کے ذریعہ بندر روڈ موجودی ایم اے جناح روڈ پر کیماڑی یا سولجر بازار سفر کیا کرتے تھے۔ جرمن ڈاکٹر رتھ فائو کا گزر میکلوڈ روڈ آئی آئی چندریگرروڈ پر سٹی اسٹیشن کے عقب میں ایک مخصوص بستی میں ہوا ، ہوسکتا ہے اسے کسی نے بتا یا ہو کہ کراچی میں ایک ایسی خوف ناک بستی بھی موجود ہے جہاں کے مکین ناامیدی اور بے سہارگی کی زندگی بسر کررہے ہیں، لوگ ان کے نزدیک جاتے ہوئے خوف کھاتے ہیں۔ عام طور پر سیاح جب کسی شہر کی سیاحت کو جاتے وقت وہاں کے خاص خاص مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کر کے جاتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ کراچی میں قائم کوڑھیوں اور جذامیوں کی اس بستی کے بارے میں رتھ فائو کومعلومات ہوں ۔ خیر یہ جوان لڑکی کراچی کی اس بستی میں پہنچی۔ اس نے جب اس بستی کے مکینوں کی حالت زار کو دیکھا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اسے اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ پاکستانیوں نے ایسے مریضوں کو ایک الگ تھلگ علاقے میں بے یار و مددگار چھوڑا ہوا ہے ۔کسی کو کوئی بھی مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ جس طرح موت اللہ کے اختیارمیں ہے اسی طرح موت کا سبب بننے والا مرض بھی اللہ ہی کی عطا ہے ۔ وہ مرض دیتا بھی ہے، شفا بھی دیتا ہے اور وہ مرض اسی کے حکم سے موت کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ اس بستی کے مکینوں کو دیکھ کر ڈاکٹر رتھ فائو حیران و پریشان ہوئی کہ کتنے ہی لوگ کوڑھ جیسی بیماری میں مبتلا کرب و اذیت کی زندگی گزار رہے تھے ۔ ان کوڑھیوں اور جذامیوں کا دکھ رتھ فا کے اندر سرائیت کر گیا اس نے اسی وقت یہ فیصلہ کیا کہ اسے اس کے خواب اور خواہش کی تعبیر مل گئی،وہ ایسے ہی دکھی لوگوں کا سہارا بننا چاہتی تھی جنہیں لوگ اپنے لیے خطرہ اور مصیبت سمجھ کر اپنے سے جداکردیتے ہیں، نہ ان کے کھانے کی فکر ، نہ علاج کی فکر، کھلے آسمان تلے انہیں اللہ کے سہارے چھوڑ کر اپنی راہ لیتے ہیں۔ آج تو بے سہارا افراد کی بحالی کے بے شمار مراکز قائم ہیں اس دور میں تو اس قسم کے ادارے بھی ناپید تھے۔ اب وہ ایسے ہی دکھی انسانیت کی خدمات میں اپنی باقی زندگی گزارنے کا عہد کرچکی تھی۔اسے کراچی کی اس کوڑھیوں کی بستی اور باقی شہر کے مکینوں کے درمیان ایک دیوار حائل نظر آئی جس دیوار کو مسمار کرنے کا جذبہ اس کے اندر پیدا ہوا اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس دیوار کو ایک نہ ایک دن گراکر دم لے گی۔ یہی جذبہ اس بات کا سبب بنا کہ اس نے اب اپنے وطن جرمنی نہ جانے کا فیصلہ کر لیا اور اپنی بقیہ زندگی جذامیوں کے علاج اور انہیں سہارا دینے میں بسر کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ ان مریضوں اور بے سہارا لوگوں کے علاج اور انہیں تسلی و تشفی دینے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ زندگی بسر کرنا شروع کی۔ علاج تو بعد کی بات تھی جب وہ ان دکھی اور بے سہارا مریضوں کے قریب گئی ، انہیں گلے لگایا، تسلی دی، حوصلہ دیا تو وہ مکین حیرت و تحیرکی مورت بن گئے۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی نوجوان لڑکی اس طرح انہیں گلے لگا ئے گی، تسلی و تشفی دے گی، وہ تو دور دور سے لوگوں کو چلتے پھرتے دیکھا کرتے تھے، لوگ کھانا بھی دور ہی سے انہیں ڈال دیا کرتے تھے۔ یقینااس وقت ان مریضوں کے دل سے جو دعا نکلی ہوگی وہ سیدھی پروردگار کی بارگاہ میں پہنچی ہوگی تب ہی تو ڈاکٹر رتھ فا اپنے مقصد میں قائم رہی اور دکھی انسانیت کی خدمت کرتی رہی۔ ڈاکٹر رتھ فانے اپنے کام کا آغاز کیا وہ تو تنہا ہی چلی تھی جانب منزل لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا لیکن اس نیک کام کا بیڑا ڈاکٹر رتھ فا نے تنہا ہی اٹھا یا تھا۔ نیک اور اچھے کام میں یقینالوگوں نے اور حکومتوں نے اس کی مدد کی ہوگی تب ہی تو وہ پورے پاکستان میں170 لپروسی ڈسپنسریاں اور اسپتال قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کی خدمات کا کراچی کے ایک چھوٹی سی کلینک سے ہوا تھا جو بڑھ کر پورے پاکستان میں پھیل  گیا۔ یہی نہیں بلکہ ڈاکٹر رتھ فا کی خدمات سے جذام جیسا مرض پاکستان سے ناپید ہوگیااور1996میں ڈاکٹر رتھ فا کی عملی جدجہد کے نتیجے میں پاکستان کو جزام فری ملک قرار دیاگیا ۔ ایشیاء میں جزام فری ملک کی حیثیت حاصل کرنے والا پاکستان پہلا ملک تھا۔ 1988میں پاکستان نے ڈاکٹر رتھ کو پاکستان کی شہریت دے دی اور ڈاکٹر رتھ پاکستانی ہوگئیں۔کراچی میں ڈاکٹر رتھ فا کا لپروسی اسپتال فیرئیر روڈ پر نویک کلینک کے سامنے صدر کے علاقے میں قائم ہے۔ کوئی تیس چالیس سال قبل کی بات ہوگی میرے ایک عزیز نوید کلینک میں داخل ہوئے، میں انہیں دیکھنے گیا ، اس وقت میں اس علاقے سے اچھی طرح واقف بھی نہیں تھا نوید کلینک سمجھ کر میں اس کے سامنے کی بلڈنگ میں چلا گیا ۔ اوپر گیا تو دیکھا کہ وہاں اپنے اپنے بیڈ پر موجود ہر مریض ایک ہی قسم کی بیماری میں مبتلا دکھائی دیا ، ہر ایک کے ہاتھوں کی انگلیوں پر پٹی بندھی تھی ، ناک بھی کچھ عجیب سی تھیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ وہی اسپتال ہے جو ایک جرمن خاتون نے کوڑھ یا جذام کے مریضوں کے لیے قائم کیا ہے۔ جذام یا کوڑھ ایک ایسا خطرناک اور موذی مرض ہے کہ جس میں مریض اپنے جسم کے مختلف اعضا خاص طور پر ہاتھ اور پیر کی انگلیوں سے رفتہ رفتہ محروم ہوجاتا ہے۔ مریض کے عزیز رشتہ دار اس ڈر و خوف سے کہ یہ مرض گھر کے کسی اور فرد کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے اس مریض کو اپنے سے جدا کر دیتے ہیں۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ جرمن خاتون ڈاکٹر رتھ فا ہیں جنہوں نے جذامیوں کے علاج اور قیام کے لیے یہ ادارہ قائم کیا ہوا ہے۔حکومت پاکستان ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف ادوار میں مختلف اعزازات سے نواز چکی ہے۔ اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے 1989ستارہ قائد اعظم، 1979ہلال امتیاز،1989ہلال پاکستان، 2003 جناح ایوارڈ، 2004ڈاکٹر آف سائنس آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے دیا گیا،2010نشان قائد اعظم سے انہیں سرشار کیا گیا۔1969میں جرمن حکومت کی جانب سے انہیں Order of Meritبھی دیا گیا۔ وہ Women of the Year 2006بھی قرار پائیں تھیں۔ڈاکٹر رتھ فا نے اپنی تمام زندگی لپراسی کے علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال میں صرف کر دی۔ انہوں نے اپنے وطن کو خیر باد کہا، اپنی نجی زندگی کے بارے میں نہیں سوچا، اس کا مقصد لپراسی کے مریضوں کا علاج اور انہیں سہارا دینا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنی جوانی، اپنا بڑھاپہ سب کچھ نچھاور کردیا۔ یقینااللہ اس کی جزا اسے ضرور دیں گے۔10 اگست 2017کو ڈاکٹر رتھ فا اللہ کو پیاری ہوئیں۔ وہ پاکستانی تھیں لیکن اپنے مذہب پر قائم رہیں ۔ آنجہانی ڈاکٹر رتھ فا کی آخری رسومات ان کے عقیدہ کے مطابق 19اگست2017کو کراچی میں صدر میں واقع سینٹ پیٹرکس چرچ میں ادا کی گئیں۔انسانیت کے لیے ان کی عظیم الشان خدمات کے اعتراف میں ان کی آخری رسومات سرکاری اعزازات کے ساتھ ادا کی گئیں۔ان کا جسد خاکی پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا، جو فوج کی آرٹلری گنز پر رکھ کر چرچ لایا گیا انہیں 19 توپوں کی سلامی دی گئی۔ ان کی تدفین میں عسکری و سول اعلی قیادت نے شرکت کی،صدر ممنون حسین، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، گورنر سندھ محمد زبیر، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، ائر چیف سہل امان، آئی جی سندھ، کورکمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز ، میئر کراچی وسیم اختر اور دیگر سیاسی، سماجی ،تعلیمی، سول و عسکری شعبے کے سے تعلق رکھنے والے بے شمار لوگوں نے ڈاکٹر رتھ کو ان کی آخری آرام گاہ پہنچایا۔ ڈاکٹر رتھ فا کو پاکستان کی مدر ٹریسا کا لقب بھی دیا گیا۔ جذام کے مریضوں اور جذام جیسے مرض کو پاکستان سے ناپید کرنے میں ڈاکٹر رتھ فا نے جو خدمات انجام دیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ڈاکٹر رتھ فا نے اپنی زندگی کے 57سال 1960سے2017 پاکستان میں جذام میں مبتلا مریضوں کی دیکھ بھال میں گزارے، اسے پاکستان سے محبت ہوگئی تھی ایسی محبت کہ اس نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد اسے جرمن نہ لے جایا جائے بلکہ اسے پاکستان ہی میں دفن کردیا جائے۔ وہ غیر مسلم ضرور تھی لیکن پاکستانی تھی۔ اس نے پاکستان کو اپنی زندگی وقف کی ، پاکستان میں بھی اسے جوعزت ملی وہ بھی قابل تعریف ہے مرنے کے بعد اسے جس عزت اور وقار کے ساتھ سرکاری اعزازات کے ساتھ ، اس کا تابوت پاکستان پرچم میں لپٹا ہوا تھا ، اسے فوجی دستوں نے19توپوں کی سلامی دی۔ عام شہری کی حیثیت سے عبد الستار ایدھی کے بعد ڈاکٹر رتھ پا کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔