پاکستان کی سا لمیت کا مسئلہ۔۔۔شیخ خالد زاہ

 ہمیں کسی کام کو کرنے کیلئے کوئی ضرورت اور اسکی اہمیت اکساتی ہے اور اسی سے یہ اخذ ہوا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے ۔مگر کیا ضرورت پوری ہوجانے کہ بعد وہ ایجاد روک دی گئی ؟ جی نہیں جب موجد کی ضرورت پوری ہوگئی تو وہ دوسروں کی ضرورت بن گئی جب دوسروں کی ضرورت بنی تو کاروبار شروع ہوگیا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ کاروبار کی بدولت وہ ضرورت سب کی بنتی گئی اور پوری ہوتی گئی۔ اس ضرورت کے نظرئیے کے تحت ہی دنیا میں میل جول شروع ہوئے اور ایک انسان دوسرے انسان کیلئے ضرورت بنتا چلا گیا۔ ایک دور ایسا گزر چکا ہے جب انسان کو انسان کی ضرورت تھی مگر آج انسان کو انسان سے زیادہ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترقی کی سیڑھیاں چڑھتی انسانیت جو اب ترقی بذریعہ ایسکیلٹر کر رہی ہے موبائل اور کمپیوٹر میں اپنے لئے سب کچھ دستیاب کر لیا ہے اسکے ساتھ انٹرنیٹ بھی لگا لیجئے تو باقی رہی سہی کسر پوری ہوگئی۔ اب تو ایک جگہ دس افراد کی موجودگی بھی ایسی لگتی ہے جیسے کوئی نہیں ہے۔انسانیت کے ناتے دکھ میں انسان سارے لوازمات اورگلے شکوے ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے، یہی ہمارے دین کی تعلیم ہے ۔ انسان نے وسائل کی بھرمار تو لگا لی مگر اس وسائل سے پیدا ہونے والے مسائل میں گھرتا چلا جا رہا ہے ۔ اللہ تعالی نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ دنیا کی ہر شے فنا ہونے کیلئے ہے اور دنیا کی تاریخ اس بات کی دلیل اور گواہ ہے ۔ ہم جو آج اس دنیا میں موجود ہیں اس کے پیچھے ایک ایک نامعلوم حد تک انسانوں کا ہجوم ہے۔ ہم سے پہلے، پھر پہلے سے پہلے اور پھر اسی طرح نامعلوم سے معلوم تک اور معلوم سے نامعلوم تک۔ ایک تھکادینے والی جانکاری اور مسافت ہے اور آخیر میں سب یہیں دھرا چھوڑ کر چلے جانا ہے۔کسی بھی مسئلے میں الجھنے کی دو وجوہات ہیں اول تو یہ کہ انسان کسی کی نا سنے اور نا ہی مشورہ کرے دوئم یہ کہ سب کی سنے بھی مشورہ بھی لے مگر کرے وہی جو اسکا دل چاہے۔ دونوں صورتوں میں انسان الجھتا ہی چلا جاتاہے۔ مشورہ کرنا ہمارے پیارے نبی ۖ کی سنت ہے اور مشورہ یقیناکسی عقل و دانش اور فہم و فراست والے فرد سے ہی کیا جاتا ہے نا کہ کسی خوشامدی سے کیونکہ خوشامد کرنے والاتو وہی مشورہ دے گا جس میں آپ کی مرضی ہوگی جیسا آپ چاہتے ہوگے جبکہ پہلا فرد آپ کو سہی اور غلط میں فرق بتائے گا اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوگا کہ وہ آپکے مزاج کے خلاف ہے یا پھر مزاج کے مطابق مشورہ دے رہا ہے۔پاکستان اسوقت ایک انتہائی سنگین بحران کا شکار ہے مگر بحران سے نکالنے والے خود اس بحران کو پیدا کرنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ذاتی نوعیت کے اس بحران کو پورے وطنِ عزیز پر مسلط کردیا گیا ہے جو کہ اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں تعلیم یافتہ طبقہ نا ہونے کے برابر ہے۔ اس ذاتی نوعیت کے بحران کو سرکاری مشینری استعمال کرتے ہوئے لڑا گیا اس کیلئے سرکاری ذرائع استعمال کیئے گئے اور سرکاری ذرائع ابلاغ کو بھی گھسیٹا گیا۔   پاکستان میں رہنے والا بچہ بچہ یہ جانتا ہے کہ جس کی حکومت ہوتی ہے پاکستان میں وہ ہر چیز کا مالک ہوتا ہے دوسری طرف پاکستان کے سیاسی ماحول میں ویسی گرما گرمی نہیں ہے جیسی کے ہونی چاہئے تھی باقی تمام سیاسی جماعتیں بہت دھیمے لہجے میں وزیرِ اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یقینااس ملک میں صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ اور بہت سارے اشرافیہ ایسی فہرست میں شامل ہیں جو شائد پاکستان کی مسافت کا رخ بدلنے والی ہے۔ پاکستانی قوم نے کبھی محنت سے منہ نہیں چرایا مگر کوئی قرضہ دے کر اور کوئی بھیک دے کر اس قوم کو کمزور کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کو اسوقت انا کے بتوں نے جکڑ رکھا ہے اور کوئی بھی اس بات پر دھیان نہیں دے رہا کہ انکی انا کی بھینٹ پاکستان اور پاکستان کی غریب عوام چڑھ رہی ہے اور دشمن اپنی چالیں چل رہا ہے ۔ آپ لوگوں نے جمہوریت کو بچانے کا راگ لگایا ہوا ہے دوسری طرف دشمن اپنی چالیں چل رہا ہے۔ لوگ کلبھوشن کو بھول گئے ہیں کیا آپ کا یہ کوئی سیاسی حربہ تو نہیں ہے دوسری طرف ریمنڈ ڈیوس کو لے آئے مگرپانامہ پر سے دھیان نہیں ہٹا سکے۔ ہم نے پڑھا ہے کہ محبت ایک طرف ہو تو سزا دیتی ہے ۔ اللہ کی پکڑ آتی ہے دیر سے آئے یا جلدی بس ہم لوگ بھول جاتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے اپنی اپنی ضرورتیں پاکستان پر قربان کردو پاکستان رہے گا تو تمہاری سیاست چلے گی ورنہ کوئی نام لینے والا بھی نہیں ہوگا۔ ایسے کچھ کر کے جا کے اچھے لفظوں سے یاد کیا جائے ورنہ کہاں پہنچ جائو گے یہ تو سب کو ہی پتہ اور یہ بھی سب کو پتہ ہے کہ ہر شے فنا ہونے والی ہے۔ پاکستان کی سالمیت کی خاطر سب ایک ہوجائیں تو ہی بہترہے۔