Get Adobe Flash player

نیک نیتی۔۔۔حبیب اللہ

پاکستان کیوں اور کیسے ترقی کرے؟؟؟ حکومتوں کی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ کورئیر سروس شروع ہوئی تو سرکاری محکمہ ڈاکخانہ بیٹھ گیا۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے فرنچائز سسٹم بنا دیئے تعلیم کم اور کاروبار زیادہ بنا دیا تو سرکاری تعلیمی ادارے بیٹھ گئے۔پرائیویٹ بزنس گروپوں کا ٹرانسپورٹ سسٹم بڑھتا جا رہا ہے لیکن محکمہ ریلوے چلنے سے قاصر ہوگیا ہے۔موبائل کمپنیاں متعارف کروا دیں تو پی ٹی سی ایل ہاتھ سے چلا گیا ہے۔پرائیویٹ سیکٹر میں ہسپتال اور کلینک بنا دیئے تو سرکاری ہسپتالوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔بجلی تقسیم کار کمپنیاں بنا دیں تو سرکاری محکمہ واپڈا کرنٹ پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ہوائی سفر کرنے کیلئے پرائیویٹ اداروں کی ائیرلائن کو متعارف کروا دیا گیا ہے تو اپنا ہوائی جہاز اڑنے سے قاصر ہوگیا ہے۔لوہا کے کارخانے پرائیویٹ لوگوں کے تو چل رہے لیکن اپنی پاکستان اسٹیل ملز کی بنیادیں زمین بوس کرنے کیلئے لوگ تیار بیٹھے ہیں۔پرائیویٹ بنک کے مالکان اربوں منافع میں کھیل رہے ہیں تو سرکاری بنک گزربسر کرنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے ہیں۔پرائیویٹ کارپوریشن کامیاب بزنس کر رہی ہیں لیکن سرکاری کارپوریشن جلدی جلدی پرائیویٹ ہونے کی طرف جا رہی ہیں۔ہاں ملکی ادارے کما سکتے ہیں اگر حکومت ان کو اپنی تحویل میں اس طرح لے جس طرح پرائیویٹ سیکٹر میں ادارے چل رہے ہیں۔وزیراعظم ، صوبے کا وزیر اعلی اور وزراء متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران و ملازمین سے کام لیں نہ کہ اداروں کی منسٹریاں حاصل کرنے کے بعد چپ بیٹھ جائیں۔ہم بھی ترقی کے خواب دیکھتے ہیں پرائیویٹ اداروں میں ہزاروں خرچ کرتے ہیں لیکن سرکاری مفت علاج اور تعلیم حاصل نہیں کرتے ہیں۔عام پاکستانی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے اعلی پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کریں، علاج و معالجہ کیلئے بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں کی خدمات حاصل کرے ، ٹرانسپورٹ پرائیویٹ ملے وغیرہ وغیرہ لیکن ملے تو صرف نوکری سرکاری ملے ۔کیوں بھائی جب سب چیزیں عام پاکستانی کو پرائیویٹ پسند ہیں تو نوکری کیوں سرکاری ہونی چاہیے؟؟؟کیونکہ اعلی افسران سے لے کر درجہ چہارم تک کے ملازمین کو نکما رہنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ ادارے کا سربراہ مخلص ہو اور حکومت وقت اس کا ساتھ دے۔ اچھی پلاننگ کی جائے تو ملک ترقی نہیں بلکہ 1800ccکار کی طرح دوڑے گا ۔ ملکی مفادات کی خاطر عام اور حکمرانوں کو گھر کی طرح سوچنا ہوگا ۔ وگرنہ وہ دن دور نہیں جب ملک کے چند مخصوص ادارے ہی سرکار کے دامن میں ہوں گے۔میری دعا ہے حکمران اور عوام سب پرائیویٹ سیکٹر کی کامیابیوں کی طرح سرکاری اداروں کی بھی فلاح و بہبود میں اپنا اہم کردار ادا کریں اور ملکی معیشت کو منافع کی طرف لے کر چلیں۔