Get Adobe Flash player

انتخابات بل کی منظوری' شفاف الیکشن کی جانب اہم پیش رفت۔۔۔ضمیر نفیس

یہ امر خوش آئند ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے جو بل وضع کیا تھا قومی اسمبلی نے اس کی منظوری دے دی ہے اب دوسرے مرحلے میں اسے ایوان میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا'2013ء کے انتخابات کے بعد بعض حلقوں کی طرف سے انتخابات کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کے سلسلے میں جو سوالات اور اعتراضات پیدا ہوئے۔ اس کی روشنی میں پارلیمنٹ نے اہم پیش رفت کی اور قومی اسمبلی و سینٹ کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی قائم کی جس نے بہت سے اجلاسوں کے بعد ایک قانونی مسودے کی منظوری دی جسے اب بل کی شکل میں قومی اسمبلی سے منظور کروایا گیا ہے  اس بل کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے اور اسے مزید خود مختاری دی گئی ہے اب الیکشن کمیسن کو ہائیکورٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ کسی بھی غیر قانونی عمل کے خلاف از خود نوٹس لے سکے گا اسے توہین عدالت پر کارروائی کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے مذہب اور فرقے کو استعمال کرنے والوں کے لئے تین سال قید ہوگی جبکہ ایک سے زائد ووٹ ڈالنے پر چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر سیاسی جماعتوں کو پانچ فیصد ٹکٹ خواتین کو دینے کا پابند کیا گیا ہے جبکہ کسی بھی سیاسی جماعت کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے پر پابندی ہوگی ایک لاکھ سے زائد چندہ دینے والے افراد کی فہرست بھی الیکشن کمیشن کو فراہم کرنی لازم ہوگی شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے محولہ اقدامات بے حد موثر نتائج دے سکتے ہیں۔ یہ  بھی طے پایا ہے کہ انتخابی فہرستوں پر ووٹروں کی تصاویر ہوں گی اور جس شخص کو بھی نادرا کا شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا از خود  اس کا نام ووٹر فہرست میں درج ہو جائے گا بعض جماعتوں کی تجویز تھی کہ بائیو میٹرک اور الیکٹرانک ووٹنگ کے نظام کو نافذ کیا جائے تاہم الیکشن کمیشن کی طرف سے بعض فنی مشکلات کے باعث اس تجویز پر عملدرآمد کو کچھ عرصہ کے لئے التواء میں رکھا گیا تاہم وزیر قانون زاہد حامد نے یہ واضح کیا کہ الیکشن کمیشن بائیو میٹرک کی تین سو اور الیکٹرانک ووٹنگ کی چار سو مشینیں منگوا چکا ہے ضمنی الیکشن میں ان کے استعمال کا تجربہ کیا جائے گا اگر تجربہ کامیاب رہا تومتعلقہ قانون میں ترمیم کرکے اس نظام کو بھی لاگو کر دیا جائے گا بعض دینی جماعتوں کی طرف سے ووٹر فہرستوں  پر خواتین کی تصاویر کی مخالفت کی گئی اور یہ کہا گیا کہ ان کی انتخابی فہرستوں سے خواتین تصاویر کو استثنیٰ دیا جائے تاہم حکومت اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے اس ترمیم کی مخالفت کی اور اسے ناقابل عمل قرار دیا ان کا یہ موقف تھا کہ کسی بھی مذہبی جماعت کا کوئی بھی امیدوار کسی بھی حلقے سے کھڑا ہو کر یہ مطالبہ کرے گا کہ اسے خواتین ووٹروں کی فہرست تصاویر کے بغیر فراہم  ہونی چاہیے کسی ایک امیدوار کے لئے اس قسم کا  کا انتظام مسائل پیدا کرے گا چنانچہ اکثریتی رائے کے ساتھ یہ تجویز مسترد کر دی گئی۔ مذکورہ انتخابی اصلاحات کا یہ پہلو  بے حد اہم ہے کہ اس میں خواتین کے پارلیمانی کردار کو بے حد وسعت دی گئی  ہے  جماعتوں پر عام نشستوں پر پانچ فیصد تک خواتین کو دینے کی پابندی کا مطلب ہے کہ اب  جماعتوں کی طرف سے نمایاں تعداد میں خواتین امیدوار سامنے آئیں گی۔ملک میں خواتین کی انتخابی اور انتخابات کے بعد کامیابی کی صورت میں پارلیمانی سیاست و کردار کو فروغ ملے گا' اس طرح جمہوری و پارلیمانی اداروں میں ان کی کارکردگی بڑھے گی اور انہیں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے اظہار کے مزید  مواقع حاصل ہوں گے۔ بل کی رو سے قومی اسمبلی کے امیدوار چالیس لاکھ اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار بیس لاکھ کے اخراجات کر سکیں گے یہ ایسی شق ہے جس پر کبھی سنجیدگی اور دیانتداری سے عمل درآمد نہیں ہوا۔ اگرچہ امیدوار کروڑوں کے اخراجات کرتے ہیں لیکن وہ اپنے حامیوں کے نام پر پوسٹروں اور بینروں پر شائع کرکے اپنے آپ کو قانون کی دسترس سے محفوظ کرلیتے ہیں اور پھر کروڑوں خرچ کرکے کامیابی حاصل کرنے والے سیاست کے بازار سے کئی گنا زائد وصول کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں اس منفی رحجان کی روک تھام کے لئے الیکشن کمیشن کو مانیٹرنگ کا فول پروف نظام وضع کرنا ہوگا سیاسی جماعتوں کی شاید اس معاملے میں دلچسپی نہ ہوگی' انتخابی عمل سے سرمائے کے استعمال کو جتنا محدود کیا جائے گا' انتخابات کوزیادہ سے زیادہ منصفانہ اور شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔